مولوی سنگین فاتح شہید زندگی و کارنامے

 

نصیب زدران 

تعارف:

’مولوی سنگین فاتح شہید‘ حاجی مرسلین کے بیٹے تھے۔ اُن کا زدران قبیلے سے تعلق تھا۔ وہ صوبہ پکتیکا کے ضلع زیڑوک کے گاؤں ’تنگی‘کے باشندے تھے۔ مولوی صاحب سن 1974 میں جلاوطنی کے وقت شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں پیدا ہوئے۔ وہ پانچ بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔

ابتدائی زندگی و تعلیم:

ملا سنگین نے ابتدائی تعلیم شمالی وزیرستان کے علاقے ’ہمزونی‘ میں مولوی حبیب الرحمن صاحب سے حاصل کی۔ بعد ازاں مزید علم کے حصول کی خاطر عظیم مجاہد مولوی جلال الدین حقانی کے مدرسہ منبع العلوم میں داخلہ لے لیا۔ اس وقت وہ جوان ہو چکے تھے۔ انہیں جہاد اور اپنے وطن سے بے پناہ محبت تھی۔ امارت اسلامیہ کے دور حکومت میں مدرسے میں سالانہ چھٹیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے افغانستان میں شر و فساد کے خلاف جہاد میں حصہ لیتے تھے۔ مولوی صاحب نے درسِ نظامی کے آخری دو سال موقوف علیہ اور دورہ حدیث مدرسہ جامعۃ العلوم الاسلامیہ زرگری میں شیخ الحدیث مولوی عبدالستار جان رحمہ اللہ اور شیخ الحدیث مولوی سیف اللہ صاحب سے مکمل کر کے 2005 میں سندِ فراغت حاصل کی۔

اہلِ صلیب کے خلاف جہاد:

جب صلیبی استعمار نے افغانستان پر یلغار کی تو عوام اس کی ٹیکنالوجی، طاقت اور پکڑدھکڑ سے مرعوب ہوگئے تھے۔ اس وقت امارت اسلامیہ نے مولوی سنگین فاتح کو صوبہ پکتیکا میں مولوی جلال الدین حقانی صاحب کے زیرانتظام جہادی محاذ کے ایک عسکری  یونٹ کا سربراہ بنایا تھا۔ مولوی صاحب ان ابتدائی مجاہدین میں سے تھے، جنہوں نے محدود وسائل کے ساتھ سب سے پہلے خوست اور پکتیکا میں غیرملکی حملہ آوروں کی سپلائی لائن اور فوجی اڈوں پر تابڑ توڑ حملوں کا آغاز کیا تھا۔

عوام میں مقبول جہادی رہنما:

موصوف عسکری علم اور پیشہ ورانہ مہارت کے علاوہ عوام کے مسائل اور قومی تنازعات کو حل کرنے میں بھی خداد صلاحیت کے حامل تھے۔ مولوی سنگین میدانِ جنگ کے بہادر کمانڈر ہونے کے ساتھ ساتھ عوام میں اپنے حسنِ سلوک کی وجہ سے بہت مقبول تھے۔ وہ مجاہدین کی فوجی اور اخلاقی تربیت پر خاصی توجہ دیتے تھے۔ فوجی کارروائیوں کے وقت شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کا خاص خیال رکھتے تھے۔

اوصاف و عادات:

ایمان داری، دیانت اور سنت نبوی سے محبت ان کی طبعی خصوصیت تھی۔ وہ ریاکاری سے نفرت کرتے تھے۔ اپنے ساتھیوں کے علاوہ دشمن کے فوجی بھی انہیں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ مولوی سنگین ایک کامیاب کمانڈر بھی تھے۔ ان کے حکم پر ’قاری محمداسماعیل یونٹ‘ کے مجاہدین نے 2009 ء میں صوبہ پکتیکا کے امریکی اڈے سے چند کلومیٹر کے فاصلے سے ایک امریکی افسر بوبرگڈال کو ہتھیار سمیت گرفتار کر لیا۔ بوبرگڈال کی گرفتاری،  امارت اسلامیہ اور امریکا کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ در اصل صوبہ پکتیکا میں مولوی سنگین شہید کی ذمہ داریوں میں سے ایک تاریخی واقعہ ہے۔ معروف سیاسی تجزیہ نگار جناب وحید مژدہ نے ایک تحریر میں مجاہدین کے ہاتھوں امریکی افسر کی گرفتاری سے متعلق لکھا ہے:

’’جب 30 جون 2009 کو صوبہ پکتیکا کے ضلع ’یوسف خیل‘ میں امریکی بوبرگڈال اپنے فوجی اڈے سے باہر نکلا تو مجاہدین نے اُسے گرفتار کر لیا۔ گرفتاری کے دوران اس کے پاس M16 رائفل بھی تھی۔ امریکی فوجیوں نے بوبرگڈال کو بازیاب کرانے کے لیے صوبہ پکتیا، پکتیکا اور غزنی کے ضلع اندڑ سمیت دیگر اضلاع میں وسیع پیمانے پر کارروائیاں کیں۔ بوبرگڈال کا پتا بتانے والے شخص کا نام صیغہ راز میں رکھنے اور اس کو انعامات دینے کے وعدے بھی کیے گئے تھے۔ تاہم امریکا اس مہم میں مکمل ناکام رہا ہے۔ مجاہدین کے مطابق مولوی سنگین نے بو برگڈال کو ایک بوڑھے افغان کے گھر میں رکھا اور بوڑھے سے کہا:

’بابا جی! اس آدمی کا خیال رکھنا۔ یہ بھاگنے نہ پائے۔ مَیں کچھ دنوں تک مصروف ہوں۔ اس لیے آپ اس کی حفاظت کریں۔‘

بوڑھے نے سوچا کہ اس قیدی کے لیے فرار کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ اگر وہ گھر سے نکل جائے تو کہاں جائے گا؟ اس لیے اس کے ہاتھ پاؤں نہیں باندھے۔ دوسری طرف بوبرگڈال خوف زدہ تھا۔ وہ سوچ رہا تھا مجاہدین جلد ہی اس پر تشدد کریں گے۔ اس کا سر قلم ہونے کی ویڈیو نشر کی جائے گی۔ تاہم مجاہدین کو اس قیدی کی اہمیت کا احساس تھا۔ بوبرگڈال راہ فرار اختیار کرنے کی تلاش میں تھا۔ جب بوڑھا اس کے لیے کھانا لاتا تو وہ کچھ کھا کر کچھ چھپا لیتا۔ایک دن بوڑھا وضو کے لیے گھر سے باہر گیا تو قیدی بھی چپکے سے گھر سے نکل کر بھاگ گیا۔ چوں کہ قیدی کو وردی کے بجائے مقامی لباس پہنایا ہوا تھا، اس لیے عام لوگ اسے پہچان نہیں سکے۔وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جلدی سے گاؤں سے دور نکل کر پہاڑ تک پہنچ گیا۔ جب بوڑھے کو قیدی کے بھاگنے کا پتا چلا تو اُس نے فوراً مجاہدین کو اطلاع دی۔ مجاہدین نے تین دن کی تلاش کے بعد گاؤں سے باہر اُسے ایک بار پھر گرفتار کر لیا۔ بوبرگڈال سمجھ گیا کہ وہ فرار نہیں ہو سکتا۔ اس نے سوچا اب اُس کو ایک نئی صورت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ بعد ازاں امارت نے بوبرگڈال کو امریکا کےساتھ  گوانتانامو میں بارہ سال سے قید اپنے 5 رہنماؤں کی تبادلے میں رہا کر دیا۔

دشمن کے خلاف کامیاب کارروائیاں:

مجاہدین نے مولوی سنگین فاتح کی قیادت میں 2006 میں صوبہ پکتیکا کے ضلع ’نکی‘ پر حملہ کیا اور اسے مکمل آزاد کر کے وہاں سفید پرچم لہرا دیا۔ امریکی اور کٹھ پتلی فورسز نے اس ضلع پر اپنا کنٹرول قائم کرنے کے لیے کئی حملے کیے، تاہم مولوی سنگین کے ساتھیوں نے دشمن کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیا اور اب تک یہ ضلع امارت اسلامیہ کے کنٹرول میں ہے۔ مجاہدین نے کمانڈر سنگین کی قیادت میں صوبہ پکتیکا کے ضلع ’گیان‘ کی عمارت اور قریب واقع امریکی فوجیوں اور اسپیشل فورسز کے مشترکہ کمپاؤنڈ پر حملہ کیا، شدید لڑائی کے بعد دونوں مرکز فتح ہو گئے۔ اب وہاں امارت اسلامیہ کا پرچم ان پر لہرا رہا ہے۔ ضلع گیان کے قریبی علاقے ’لواڑہ‘میں امریکیوں کا ایک کمپاؤنڈ تھا۔ مجاہدین نے اس مرکز کے سپلائی کانوائے پر مسلسل حملے کر کے اُسے کاٹ دیا۔ جس سے امریکی تنگ آ کر ’لواڑہ کمپاؤنڈ‘ چھوڑ گئے۔ اسی طرح پکتیکا کا ضلع ’زیڑوک‘ بھی مولوی سنگین کی قیادت میں فتح ہوا تھا۔

سفرِ جہاد میں زخم:

مولوی صاحب جہادی کارروائیوں کے دوران دو بار زخمی ہوئے۔ ایک بار پکتیکا کے ضلع ’ارگون‘کے علاقے ’گربگی کنڈو‘میں امریکی بمباری سے مولوی صاحب کے چالیس ساتھی شہید، جب کہ مولوی صاحب شدید زخمی ہوگئے۔ یہ بہت بڑا سانحہ تھا، لیکن مولوی صاحب کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ انہوں نے صحت یابی کے بعد بدستور امریکا کے خلاف جہاد جاری رکھا۔ایک بار میران شاہ میں شرپسند عناصر اور چوروں کے خلاف آپریشن کیا، جس میں مولوی صاحب صفِ اول کا کردار ادا کر رہے تھے، جس میں وہ گولی لگنے سے زخمی ہوگئے، لیکن پھر صحت یاب ہوگئے۔

شہادت:

امریکا مولوی سنگین شہید کے کامیاب آپریشنز اور کارروائیوں سے  بہت تنگ تھا۔ اسی وجہ سے اُس نے 2011 میں مولوی سنگین کو بلیک لسٹ میں شامل کر دیا۔ 9 ستمبر 2013 کو امریکی ڈرون طیارے نے شمالی وزیرستان میں ان کو اپنے ایک ساتھی کے کمرے میں نشانہ بنایا، جس میں پکتیکا کے سنگلاخ پہاڑوں کے شاہین، مجاہدین اور عوام کے محبوب رہنما اور بہادر غازی مجاہد جام شہادت نوش کر گئے۔ مولوی صاحب اپنے  والد کے پہلے یا آخری شہید بیٹے نہیں تھے، بلکہ اس سے پہلے مولوی صاحب کے بھائی عبدالوارث حیدری صوبہ پکتیکا کے ضلع زیڑوک میں امریکیوں کے ساتھ دوبدو لڑائی میں شہید ہو چکے ہیں، جب کہ ایک اَور بھائی ’محمد فاروق‘ ملاعبدالسلام ضعیف کے ساتھ ناپاک سلوک کرنے والی پاکستانی فوج کے ہاتھوں جنوبی وزیرستان میں شہید ہوئے۔ اللہ تعالی ان سب کو اپنے جوارِ رحمت میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ آمین

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*