اشرف غنی اور عطا نورتنازع، لسانی تعصب کا فساد

آج کی بات:

سابق امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی تشکیل کردہ حکومتی سیٹ اَپ قابض قوتوں کی فرمائشوں اور منصوبوں کی تکمیل اور احکامات کی بجاآوری کے لیے ایک اچھا تجربہ ثاہت ہوا ہے۔ قابض امریکا نے فوجی قبضے کے زیرِسایہ ایک نام نہاد اور کٹھ پتلی حکومت کا قیام عمل میں لا کر اس کے ذریعے ہر قسم کے مجرمانہ احکامات اور فرمائشیں پوری کرائی ہیں۔ خود حکومت میں شامل حکام، فوجی افسران، وزاء اور صدر تک سب بھیڑ اور بھیڑیے کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک براہ راست امریکی سفارت خانے اور وائے سرائے سے ہدایات لیتا ہے۔ ان کے احکامات کے مطابق چلتا اور حکومت کرتا ہے۔

کچھ دنوں سے اشرف غنی اور کمانڈر بلخ کے گورنر عطاء نور کے درمیان اختیارات اور اقتدار کے باعث شدید اختلافات سامنے آئے اور کشمکش جاری ہے۔ پوری قوم تماشا دیکھ رہی ہے۔اس کھیل سے واضح ہوتا ہے کہ نام نہاد حکومت محض ایک مہرہ ہے اور اس کھیل کے پیچھے قابض قوتوں کا ہاتھ ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کابل حکام قابض امریکی قوتوں کے اس گھناؤنے پلان کی تکمیل کی کوشش میں ہیں، جس کے تحت افغانستان میں نسلی، لسانی، مذہبی اور علاقائی تنازعات اور تعصبات کے لیے راہ ہموار کر کے برادر اقوام کو ایک دوسرے کے خلاف میدان میں لایا جائے۔ ان میں سے ہر ایک علیحدہ علیحدہ امریکی سفارت خانے اور اس کے وائے سرائے کا محتاج رہ کر ان کے مجرمانہ احکامات کی تعمیل کرتا رہے۔

گزشتہ روز اشرف غنی کے دفتر نے اعلان کیا کہ صوبہ بلخ کے لیے نیا گورنر مقرر کیا گیا ہے، جب کہ عطاءنور کا دیا ہوا استعفا منظور کر لیا گیا ہے، لیکن چند گھنٹے بعد عطاءنور اور جمعیت اسلامی کے رہنماؤں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ اشرف غنی کا یہ اقدام غیرذمہ دارانہ، غیرمعقول اور تنازعات کو بڑھانے کی کوشش ہے، جسے ہم کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔

جب ایک صدر اتنا کمزور ہے کہ کسی صوبے کا گورنر تبدیل کرنے میں اسے اتنی ہزیمت اٹھانا پڑتی ہے تو اس کو یہ اختیار کہاں سے حاصل ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ کر سکے۔ کیا یہ معقول اقدام ہے؟ کیا اتنا بے بس حکمران ملک کو نیلام کرنے کے اتنے بڑے فیصلے پر دستخط کرنے کا مجاز ہے؟ کیا یہ امریکی وائے سرائے کا کھیل نہیں ہے؟

اشرف غنی کے دفتر نے اعلامیہ جاری کیا کہ اشرف غنی نے عطاءنور کا استعفا منظور کر لیا ہے، لیکن عطاءنور نے کہا کہ وہ ایک سال پُرانا استعفا ہے، جس میں انہوں نے شرائط کا ذکر بھی کیا تھا، لیکن اب وہ اپنے پرانے استعفا سے متفق نہیں ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اشرف غنی نے ان کا استعفا منظور کر لیا ہے تو انہوں نے منظور کرنے کے لیے تین سال کا انتظار کیوں کیا یا کم از کم ایک سال قبل کیوں منظور نہیں کیا گیا؟ اب کس کی ہدایت پر استعفا کی  منظوری کا شوشہ چھوڑا گیا ہے؟ اسی طرح عطانور اور جمعیت اسلامی کے رہنماؤں کو کس نے اُکسایا کہ وہ ایک گورنرشپ کے معاملے پر اشرف غنی کے ساتھ اتنے شدید اختلافات ظاہر کریں۔ کیا یہ تمام حملہ آوروں کی سازشیں نہیں، جو آہستہ آہستہ قومی تنازعات کو پیدا کرنے کی کوشش میں ہیں؟

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*