مجاہدین کی کامیابی اور دشمن کا پروپیگنڈا

آج کی بات:

 

موسم سرما کی سردی کے باوجود افغانستان بھر میں دشمن کے خلاف بہادر مجاہدین کی کارروائیاں جاری ہیں، بلکہ حملے بڑھا دیے گئے ہیں۔ سیکڑوں قابض اور کٹھ پتلی فوجی ان حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔ اسٹریٹجک علاقوں پر مجاہدین نے اپنا کنٹرول قائم کیا ہے اور دشمن سے مختلف گاڑیاں اور اسلحہ بھی غنیمت میں حاصل کیا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ کی نئی جنگی پالیسی کے اعلان کے بعد افغانستان میں امریکی فوجیوں کے فضائی حملوں اور چھاپوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ قابض دشمن کی ان ظالمانہ کارروائیوں کے نتیجے میں نہتے شہریوں کے گھر تباہ، مساجد شہید، اسکول منہدم اور ہسپتال لوٹے جا رہے ہیں۔ جب کہ شہری ہلاکتوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

دشمن کی بمباری اور حملوں میں اضافے کے باعث مجاہدین کی نقل و حرکت اور پیش رفت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ حتی کہ افغانستان بھر کی سطح پر کسی ایک علاقے کی نشان دہی نہیں کی جا سکتی، جس پر دشمن نے قبضہ کیا ہو۔ جب کہ مجاہدین نے دشمن کے زیرکنٹرول بہت سے علاقوں پر اپنا کنٹرول قائم کر کے دشمن کو بڑا نقصان پہنچایا ہے۔

مثلاً گزشتہ ہفتے کے دوران افغانستان کے مختلف حصوں میں دشمن کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی چوکیوں پر مجاہدین نے کنٹرول قائم کیا۔ بہت سے علاقے فتح ہوئے۔ قندھار میں قابض دشمن پر فدائی حملے کے نتیجے میں کئی حملہ آور ہلاک اور زخمی ہوئے۔ ہلمند کے دارالحکومت لشکرگاہ میں اجرتی اہل کاروں پر فدائی حملے میں 60 سے زائد کٹھ پتلی فوجی ہلاک اور 10 گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔ قندوز میں درجنوں اہل کاروں کو ہلاک کر دیا گیا۔قندھار کے ضلع میوند میں ایک حملے میں  16اہل کار قتل کر دیے گئے۔ اسی طرح فراہ، خوست، فاریاب، پکتیا، ہلمند، اروزگان اور کنڑ میں درجنوں چوکیاں فتح ہوئیں اور دشمن کو شدید نقصان پہنچا۔

کابل حکومت حملہ آوروں کی بمباری پر بہت زیادہ خوشی کا اظہار کر رہی ہے۔ جس بھی امریکی حملے میں درجنوں شہری شہید اور ان کے مکانات تباہ ہو جاتے ہیں، کٹھ پتلی حکمران امریکی سفارت خانے کو اظہارِ تشکر کا پیغام ای میل کرتے ہیں۔ دشمن نے اپنے فوجیوں کے حوصلے بلند کرنے کے لیے پروپیگنڈے پر زور دے رکھا ہے۔ ہر روز سیکڑوں مجاہدین کی شہادت کے جھوٹے دعوے کیے جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قابض دشمن کے فضائی حملوں کے نتیجے میں نہ صرف کہ مجاہدین پسپا نہیں کیے جا سکے، بلکہ اس کے برعکس مجاہدین اللہ کی مدد اور عوام کی حمایت سے دشمن کے زیرکنٹرول بہت سے علاقے فتح کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

دشمن کے فضائی حملوں اور پروپیگنڈے کے ذریعے مجاہدین کی پیش رفت کا راستہ نہیں روکا جا سکتا۔ دشمن کے تمام حربے دم توڑ گئے ہیں۔ وہ اپنا وقت اور توانائی ضائع کرنے کے علاوہ کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکا۔ اِن شاء اللہ مستقبل میں بھی دشمن کے پروپیگنڈے سے بہادر مجاہدین کی کارروائیوں پر کوئی منفی اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*