تنہائی کا شکار بے چارہ امریکا

آج کی بات:

 

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دنیا کے 128 ممالک نے مسلمانوں کے قبلہ اول سے متعلق امریکی اعلان کے خلاف کثرت رائے سے قرارداد منظور کی ہے۔ قرارداد میں امریکی فیصلے کی سخت مذمت کی اور مظلوم فلسطینی عوام کی جدوجہد کو حق کہا گیا ہے۔

امریکا نے تقریبا 70 سال سے فلسطینی مظلوم مسلمانوں پر جاری اسرائیل کے مظالم و سربریت کی ہمیشہ حمایت اور تائید کی ہے۔ جب بھی اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر فلسطینی مسلمانوں کی حمایت میں کوئی منصوبہ سامنے آیا ہے تو امریکا نے اس کا راستہ روکا ہے۔البتہ  گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں صرف 9 ممالک کے علاوہ 128 ممالک نے امریکی اقدام کے خلاف قرارداد کی اور بیت المقدس کو فلسطین کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس سے پہلے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرار داد کو امریکا نے ویٹو کر دیا تھا، جس کے بعد قرارداد جنرل اسمبلی میں پیش کی گئی۔ قرار داد کے حق میں 128 ووٹ آئے، جب کہ مخالفت میں صرف 9 ووٹ ڈالے گئے۔

جب امریکا نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کے حق میں دنیا کا فیصلہ کُن مؤقف دیکھا اور پہلی بار امریکا بین الاقوامی میدان میں تنہائی کا شکار ہوا تو اقوام متحدہ میں امریکی نمائندے نے کہا کہ ’آج وہ دن ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں امریکا تنہا رہا ہے۔ یہ صورت حال امریکا کے لیے واقعی ناقابل فراموش ہے۔

ٹرمپ نے اقوام متحدہ کے اجلاس سے قبل بہت کوشش کی کہ دنیا کو ڈرا کر مجبور کیا جائے کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں یروشلم سے متعلق امریکی فیصلے کی مخالفت نہ کرے۔ قرارداد کی منظوری کے بعد ٹرمپ حواس باختہ ہو گئے اور تمام سفارتی حدود اور قوانین کو پاؤں تلے روند ڈالا۔ جن ممالک کو امریکا نے مالی مدد فراہم کی ہے یا فراہم کر رہا ہے، ٹرمپ نے ان سب کو دھمکی دی ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکا کے خلاف ووٹ ڈالنے کے جرم کی پاداش میں مالی مدد فراہم کرنے کا سلسلہ بند کر دیا جائے گا۔ البتہ جو ممالک واقعی امریکی امداد پر اپنی زندگی کے دن پورے کر رہے ہیں، وہ بھی اقوام متحدہ میں فلسطین سے متعلق امریکی فیصلے کی مخالفت میں کھل کر سامنے آ گئے۔

فلسطین سے متعلق عالمی سطح پر دنیا کے مضبوط مؤقف اور یک جہتی سے ثابت ہوا کہ امریکا اب تنہائی کا شکار ہے اور اب امریکا کے جنگی جنون کی وہ حیثیت نہیں رہی، جسے وہ دنیا کی مخالفت اور احتجاج کے باوجود عملاًثابت کر دکھاتا تھا۔

عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ افغانستان سمیت ان ممالک کی صورت حال پر بھی غور کرے، جن پر امریکا نے ناجائز اور غیرقانونی قبضہ کر رکھا ہے۔ ظالم امریکا ہر روز سیکڑوں بے گناہ انسانوں کا قتل عام کر رہا ہے۔ وہ اپنے استعماری اہداف کے حصول کے لیے انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا کر آزادی کا حق چھین لیتا ہے۔ شاید عالمی برادری اب اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ امریکی اقدامات کسی ملک کے لیے ٹھیک نہیں ہیں۔ وہ ہر ملک کے لیے تباہی اور بربادی کا منصوبہ رکھتا ہے۔ وہ کوشش کرتا ہے کہ تمام ممالک غیرمحفوظ اور برادر اقوام ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار اور باہمی تنازعات کا شکار ہو جائیں۔ اس ضمن میں امریکا اُن کے اقتصادی وسائل پر قبضہ کرنے اور ان کی اسٹریٹجک اہمیت ختم کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ وہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اپنی اِن مذموم پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ امریکا کو لگام دینے کے لیے عالمی برادری مشترکہ طور پر متحرک ہو کر کردار ادا کرے۔ مشترکہ مؤقف اپنائے اور جہاں بھی امریکا مظلوم اقوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کرے،وہیں امریکا کو منہ توڑ جواب دیا جائے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*