علماء کے نام پر امریکی قبضہ جائز نہیں ہوسکتا!

آج کی بات:

 

قابض قوتوں نے افغانستان میں ہر اسلام، شعائرِ اسلام اور علمائے اسلام سمیت ہر واجب الاحترام چیز کا مذاق اڑایا ہ۔، شفاف اور آزادانہ انتخابات کے بڑے بڑے دعوے کیے گئے، لیکن پھر اپنی مرضی سے ایک ایسی منفرد حکومت قائم کی، جس کی مثال دنیا میں کہیں بھی نہیں ملتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ گزشتہ تین سال سے حکومت میں شامل حکام آپس میں دست و گریبان ہیں۔ اب وہ افغانستان کو علاقائی اور قومی تعصب اور تنازعات کی بھینٹ چڑھا کر قوم کو تقسیم کرنے کے لیے راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔

حملہ آوروں کا ایک اور کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے عدالتی انصاف فراہم کرنے کا پروپیگنڈا کیا تھا، لیکن جیلوں میں مظلوم قیدیوں کے ساتھ جانوروں سے بدتر سلوک نے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ آزاد انسانی حقوق کی تنظیموں اور پارلیمنٹ کے ارکان کی حالیہ رپورٹیں سب کے سامنے ہیں۔

خواتین کے حقوق اور ان کی آزادی کے نام پر مہذب معاشرے کی تمام اسلامی اور قومی اقدار کو مجروح کیا گیا۔ زرخرید میڈیا کے ذریعے فحاشی و عریانی کو فروغ دینے کا ایک ریکارڈ بنایا گیا ہے۔

افغانستان کی ترقی و تعمیرِنو کے نام پر ملک کا ایک طبقہ بدعنوانی اور رشوت کے ذریعے عالمی سطح کے مال دار ترین آدمی بن گئے ہیں۔ اکثر لوگ اسی کرپشن کے نتیجے میں غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ وہ دو وقت کی روٹی کے لیے بھی بے یارومددگار ہیں۔

حکومت کے اپنے اعتراف کے مطابق ہر ماہ افغانستان میں 1000 سے زائد بھاری بم گرائے جاتے ہیں۔ پورے دیہات اور بازار (جیسا کہ قندوز اور ہلمند میں ہوا) کھنڈرات میں تبدیل کر دیے گئے ہیں۔ نہتے شہریوں کو املاک سمیت تہس نہس کیا جاتا ہے۔مساجد اور مدارس کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ رات کے چھاپوں میں مظلوم شہریوں پر ہر قسم کا تشدد کیا جاتا ہے۔ ان تمام مظالم کے باوجود شرم ناک طریقے سے امن، استحکام اور کشیدگی ختم کرنے پر زور بھی دیتے ہیں۔

گزشتہ روز کابل انتظامیہ کے ماتحت ’امن کونسل کمیٹی‘نے اعلان کیا کہ وہ افغانستان کے مختلف حصوں کے 700 مذہبی رہنماؤں اور علماء کا اجتماع منعقد کریں گے، تا کہ وہ قیام امن کے لیے حکومت کی حمایت کریں۔ یہ بھی کٹھ پتلی حکومت کی ایک ناکام کوشش ہے کہ اس طریقے سے امن اور علمائے کرام کے مقدس نام کو بدنام کر حملہ آوروں کے ناجائز اور غیرقانونی قبضے کی تائید حاصل کی جائے۔

امن کونسل نے کابل انتظامیہ کی نمائندگی سے امن اور مفاہمت کے لیے ایک ایسے وقت میں کوششیں تیز کی ہیں کہ کابل انتظامیہ نے ٹرمپ کی جنگی پالیسی کا پُرجوش انداز میں خیرمقدم کیا ہے۔ جب کہ کابل حکام قابض قوتوں کی ظالمانہ کارروائی پر انتہائی خوش ہیں۔ ایسی صورت حال میں امن کے جھوٹے دعوے بھی کر کے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ہم واقعی امن کے لیے پُرعزم ہیں۔ جب کہ مجاہدین جنگ چاہتے ہیں۔ حقیقت میں یہ ایک واضح فریب ہے۔ انہوں نے علمائے کرام کے نام پر جس اجتماع کا ذکر کیا ہے، وہ بھی دراصل استعماری قوتوں کے ناجائز اور غیرقانونی قبضے کو جواز فراہم کرنے کی ناکام کوشش ہے۔ جس میں ضمنا علمائے کرام اور امن کو بدنام کیا جا سکے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*