طالبان امریکی ہاموی گاڑی کیسے استعمال کرتے ہیں؟

 

شاہد غزنیوال

ہاموی فوجی گاڑی پہلی بار 1984 میں امریکا میں ("General Motors Company ) کمپنی کی جانب سے بنائی گئی ۔

ہاموی Humvee))   اس انگریزی جملے کا مخفف ہے ۔

High Mobility Multipurpose Wheeled Vehicl

لگتا ہے طالبان نے Humvee)) کے نام الہام لے کر اسے سرفروشانہ حملوں کے لیے اس لیے بھی مناسب سمجھا ہو کہ دیگر گاڑیوں کی بنسبت اسے کار بم حملے میں زیادہ اچھے طریقے سے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔

طالبان کی جانب سے کاربم حملوں میں ہاموی کا استعمال ایسی نئی جنگی تیکنیک ہے جس کی جانب اس کے اصل موجد اور کمپنی کی بھی توجہ نہ گئی ہوگی ۔ ورنہ ہاموی کی تعریف میں اسے ضرور شامل کیا جاتا ۔

ہاموی بکتر بند گاڑی کی ذمہ داریاں

پہلی بار امریکا نے اپنی فوج کے لیے 55000 ہاموی گاڑیاں بنوائی تھیں۔ چونکہ یہ گاڑیاں جنگی امور میں فوج کے لیے بہت کارآمد تھیں اس لیے ایک لاکھ مزید گاڑیاں بنوائی گئیں۔ جن میں سے 10000 گاڑیاں صرف عراق میں فوج کو دی گئیں۔ اسی طرح امریکا نے مجاہدین کے خلاف افغانستان کی داخلی فوج کی تیاری کے لیے 2010 اور 2011 میں کابل انتظامیہ کو 6000 ہاموی گاڑیاں دینے کا وعدہ کیا۔ جن میں سے اب تک 4150 گاڑیاں افغانستان پہنچی ہیں۔ اور افغانستان کے مختلف علاقوں میں داخلی فوج کے حوالے کی گئی ہیں۔ ہاموی نئے ماڈل کی بکتر بند گاڑیاں ہیں جس میں ہلکا اور بھاری اسلحہ جیسے مشین گن ، آٹو میٹک میزائل فائر کرنے والے لانچر اور اینٹی ٹینک اسلحہ نصب ہوتا ہے ۔ ہاموی بکتر بند گاڑی 300 کلوگرام وزن ، 4.6 میٹر کی طوالت 2.1 میٹرعرض اور ,1.8 میٹر اونچائی رکھتی ہے۔ ہاموی بھی بکتر بند جنگی ذرائع ، زخمیوں کی منتقلی اور سرحدی افواج کی منتقلی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

طالبان کو ہاموی گاڑیاں کہاں سے ملیں؟

ہاموی بکتر بند گاڑی امریکا نے کابل انتظامیہ کو اس لیے دی تھیں کہ طالبان کے خلاف جنگ میں استعمال کی جائیں ۔ مگر اب دیکھا جاتا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں ہاموی گاڑیاں طالبان کی جانب سے امریکا اور ان کے حامیوں کے خلاف استعمال کی جارہی ہیں۔ طالبان نے پہلی بار ہلمند میں بہت سی ہاموی گاڑیاں داخلی فوجیوں سے غنیمت میں حاصل کیں۔ دوسری بار 2015 میں میں قندوز کی فتح کے دوران دیگر بھاری اور ہلکے اسلحوں کے ساتھ بڑی تعداد میں ہاموی گاڑیاں بھی قبضہ میں لیں۔ اس کے بعد صوبہ بدخشان اور اس سال پکتیا کے ضلع جانی خیل  کے سٹریٹجک علاقے پر قبضہ کے دوران کافی تعداد میں ہاموی گاڑیاں حاصل کیں۔

طالبان امریکی ہاموی گاڑیاں کیسے استعمال کرتے ہیں؟

اصلا ہاموی بکتر بند گاڑی بنانے والی جنرل کمپنی نے یہ گاڑی اس لیے بنائی تھی کہ اسے ایک دفاعی ذریعہ کے طورپر استعمال کیا جائے ۔ اس کے مشین گن اور لانچر کے ذریعے مقابل پر حملے کیے جائیں۔ اس کے ذریعہ میدان جنگ تک فوجیوں کی رسائی کی جاسکی اور یا میدان جنگ سے زخمیوں کی منتقلی کی جائے۔ مگر طالبان نے ہاموی کے اصل کام کے برخلاف اسے ایک نئی عسکری تیکنیک کے طورپر استعمال کرتے ہیں جس میں سب سے پہلے یہ گاڑی خود تباہ ہوتی ہے اور اس کی تباہی سے دشمن کو بھاری جانی ومالی نقصان پہچتا ہے ۔ اس نئی تیکنیک میں میں طالبان ہاموی کے استعمال سے دشمن کو غفلت میں ڈالتے ہیں ۔ دوم اس تیکنیک سے حملہ آور اپنے ہدف تک پوری حفاظت سے پہنچتا ہے اور سوم عام گاڑیوں کی بنسبت ہاموی کا بھاری وزن بڑی تباہی کرکے دشمن کو بڑی تباہی سے دوچار کرتا ہے ۔

ہاموی گاڑیوں سے کیے گئے حملے

طالبان نے گذشتہ سال 21 اکتوبر کو پہلی بار ہلمند ضلع ناوہ کے پولیس ہیڈکوارٹر پر ہاموی گاڑی کے ذریعے فدائی حملہ کیا جس کی عکاسی ڈرون کیمرے کے ذریعے کی گئی ۔

ہاموی کے ذریعے فدائی اور ڈرون کے ذریعے ویڈیو بنوانا بیرونی اور داخلی فوجیوں کے خلاف طالبان کی عسکری فعالیت میں ایسی پیش رفت تھی جس نے عالمی اور داخلی میڈیا پر بڑے پیمانے پر شہرت پائی۔

اس کے بعد ہلمند میں ہاموی گاڑی کے ذریعے مزید حملے ہوئے جس نے دشمن کو ہلاکت خیز نقصانات پہنچائے۔ مگر رواں مہینے میں طالبان نے ہاموی کے ذریعے درجہ ذیل کارروائیاں کیں جس نے کابل انتظامیہ کو شدید رسوائی کا شکار کردیا ۔ اور ان کے سینکڑوں فوجی اس میں ہلاک ہوگئے۔

1۔ قندہار ضلع میوند ملی اردو کے فوجی مرکز پر حملہ جس میں تقریبا 60 فوجی ہلاک ہوگئے۔

2۔ غزنی ضلع اندڑ کے مرکز پر حملہ جس میں 40 فوجی ہلاک ہوگئے۔

3۔ گردیزشہر میں پولیس ہیڈ کوارٹر اور پولیس اکیڈمی پر حملہ جس میں آئی جی سمیت 110 حکومتی اہلکار ہلاک وزخمی ہوگئے۔

4۔ اسی طرح رواں سال کے آغاز میں صوبہ بلخ کی فوجی چھاونی پر حکومتی رینجر گاڑیوں کے ذریعے حملہ ہوا جس میں 500 اہلکار ہلاک ہوگئے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*