نیا سال؛ افغانستان کی سکیورٹی صورتِ حال

آج کی بات:

 

2018 کے آغاز سے دو روز قبل امریکا ک فارن ریلیشن کونسل‘نے واضح کیا ہے کہ دنیا کو 2018 میں ممکنہ 30 بڑے بحرانوں اور تنازعات کا سامنا ہو سکتا ہے، جن میں سے ایک یہ ہے کہ ممکنہ طور پر امارت اسلامیہ افغان حکومت کا تختہ الٹنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔

اس کونسل کی تحقیقات کے مطابق یہ اندازہ لگایا جاتا رہا ہے کہ 2017 میں ٹرمپ کی حکمت عملی کے ذریعے افغانستان میں امریکا اور کابل انتظامیہ کے خلاف جاری مزاحمت کو کافی حد تک کنٹرول اور کمزور کیا جاسکے گا۔

ٹرمپ نے بھی اسی عزم کے ساتھ افغانستان پر ’مادر بم‘ کا استعمال کیا تھا۔ ایک ایک ہفتے میں سیکڑوں بم مظلوم اور نہتے افغان شہریوں پر گرائے گئے۔ سیاسی اور پروپیگنڈے کے میدان میں دباؤ بڑھانے کے لیے بھرپور کوشش کی گئی، لیکن اس کا نتیجہ امریکا کے لیے پریشان کن ثابت ہوا۔ ہم نے دیکھا کہ امریکی صدر ٹرمپ کی حکمت عملی کے دوران مجاہدین نے افغانستان کے تقریبا 10 فیصد رقبے پر مزید کنٹرول قائم کر لیا ہے۔ امریکی ریسرچ سینٹر کا مزید کہنا ہے: اگرچہ ان کے خیالات اور تحقیقات ممکنہ طور پر پیش گوئی ثابت ہو سکتی ہیں تاہم گزشتہ 17 برسوں کے دوران طالبان مضبوط ہو گئے اور خاص طور پر ٹرمپ کی پالیسی کو ناکام بنانا جو امریکہ کے لئے امید کی آخری کرن تھی ، بلا شبہ اس امکان کو حقیقت میں تبدیل کر سکتا ہے کہ کابل حکومت کے زیر کنٹرول تقریبا 40 فیصد رقبے پر بھی طالبان اپنا کنٹرول قائم کر سکتے ہیں ۔

اسی لیے افغان عوام امریکا سے مایوس ہو چکے ہیں۔ خطے کے ممالک بھی اس حقیقت کا ادراک کر رہے ہیں کہ امریکا اس خطے میں داعش نامی تنظیم کو پروان چڑھا کر نئی مشکلات اور بحرانوں کو جنم دینا چاہتا ہے۔ یہ صورت حال کسی کے لیے بھی قابل قبول اور قابل برداشت نہیں ہے۔ دوسری جانب 2017 کے آخر میں امریکا کے نائب صدر مائیکل پنس نے افغانستان کا غیراعلانیہ دورہ کیا اور یہاں ٹرمپ کی جنگی حکمت عملی کا دفاع کرنے کرتے ہوئے نئے سال میں اس کے ممکنہ اثرات پر بات کی تھی۔

جب کہ نیوز ویک سمیت امریکا کے مختلف ذرائع ابلاغ اور دانش وروں نے مائیکل پنس کا دورہ ناکام قرار دیتے ہوئے اس کی اہمیت کم ظاہر کی۔ اور واضح کیا کہ نائب امریکی صدر کوئی ایسی پُرامید بات نہیں کر سکے، جس کے تحت سمجھا جائے کہ امریکا نئے سال کے دوران سوائے فضائی حملوں میں عام شہریوں کو ہلاک کرنے کے علاوہ کوئی خاص اور اہم کامیابی حاصل کرسکے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*