2018 امارت اسلامیہ کی کامیابی کا سال ہے

آج کی بات:

 

’وَكَانَ حَقّاً عَلَينَا نَصرُ المُؤمِنِين‘  (الروم ؛ 47(

مجاہدین کو یقین ہے کہ 2018 افغان عوام کی عظیم فتح اور حملہ آور دشمن کی ذلت اور شکست کا سال ہے۔

بہت سی امیدیں ہیں کہ نصرتِ الٰہی کے بہت سے اسباب مہیا ہیں۔

’الَا إنَّ نَصرَ اللهِ قَرِيبٌ‘

اگر جائزہ لیا جائے کہ عالمی سطح پر سب سے زیادہ مظلوم ترین قوم افغان ہے،جو اکیسویں صدی کے آغاز سے جارحیت پسند دشمن اور عالمی استعمار کے ظلم و سریرت کا شکار ہوئی، تو بے جا نہ ہوگا۔ دوسری جانب امریکا کی قیادت میں نیٹو سمیت دنیا کے چالیس سے زائد طاقت وَر ممالک نے مظلوم اور جنگ زدہ ملک پر حملہ کیا تھا۔ 17 سال مسلسل زمین اور فضا سے آگ برسائی جاتی رہی ہے۔ کسی قسم کی دہشت گردی سے دریغ نہیں کیا گیا۔ پوری دنیا نےامریکا کی حمایت کی ہے۔ تمام فوجی، سیاسی، مالیاتی اور میڈیا کی طاقت کے ساتھ افغانستان پر چڑھائی کی گئی۔ ہر کوئی سمجھتا تھا کہ افغانستان اب دنیا کے نقشے پر دوسرا اندلس اور غرناطہ ہوگا، جس کے اسلامی تشخص اور شناخت کی داستانیں آئندہ نسلیں صرف تاریخ کے اوراق میں پڑھیں گی۔

معروضی طور پر ایسا ہی ممکن تھا۔ جب کہ اللہ تعالی کے فیصلے کچھ اَور ہوتے ہیں۔ افغان مجاہد عوام دنیا کے ہر قسم کے وسائل سے محروم اور صرف اللہ تعالی کی مدد اور ایمانی قوت سے مالا مال اپنا سر، دولت، عزت، دین اور وطن کی حفاظت کی خاطر نہتے ہاتھ دنیا کی واحد سپر پاور کے مقابلے میں میدان عمل میں کود پڑے۔ اگرچہ بہت سی مشکلات سامنے آئیں۔ قربانیاں دی گئیں۔

’إِن يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهُ ۚ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ ….الأیۃ‘

لیکن مذکورہ آیت کے مصداق مدمقابل دشمن کو بھی ذلت آمیز شکست کا سامنا ہے۔ امریکا یہ جنگ دو مہینے میں جیتنے کے کا ارادہ کیے ہوئے تھا۔ اب 17 سال ہو رہے ہیں، کچھ بھی ہاتھ نہیں آیا۔ صورت حال یہ ہے کہ دنیا کی واحد سپر پاور کے پاس پروپیگنڈے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔ امریکا کے کچھ حامی تو اب باؤلے کتے کی طرح اپنے اور پرائے سب کو کاٹ رہے ہیں۔

دنیا کی سطح پر امریکا کی ذلت اور رسواکن حالت سب کے سامنے ہے۔ وہ وقت قریب ہے کہ روس و برطانیہ کی طرح اس کی شکست اور زوال کی داستان ہماری نسل پڑھا کریں گی۔

یہ سب کچھ اللہ تعالی کی مدد کی واضح نشانی ہے کہ ہر طرح کی عسکری قوت کے بغیر امریکا کے خلاف مزاحمت جاری رہی۔ افغان مسلمانوں کے عقیدے، عزم اور مؤقف میں کوئی تغیر اور تزلزل نہیں آیا۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اللہ تعالی کی نصرت پر اعتماد مزید بڑھتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ

إن تَنصُرُوا اللهَ يَنصُركُم» «آلَا إنَّ نَصرَ اللهِ قَرِيبٌ» « وَلِيُمَحِّصَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَيَمْحَقَ الْكَافِرِينَ‘ (القرآن)

اللہ تعالی کا وعدہ کبھی جھوٹا نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالی ضرور ان لوگوں کی مدد کرے گا، جو اس کے دین اور اپنے جائز حق کے دفاع کے لیے طاغوت کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ اور اُن لوگوں کو ضرور رسوا کرے گا، جو ظلم، تجاوز اور جبر کرتے اور افغانستان جیسے آزاد مسلمان مظلوم ملک پر ناجائز قبضہ جمائے رکھنا چاہتے ہیں یا اس میں ظالموں کے مددگار بنتے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*