408 کمانڈر کیوں قتل کرائے گئے؟

آج کی بات:ا

 

کابل انتظامیہ نے 2017 کو اپنے لیے کامیابی کا سال قرار دیا ہے۔ اگرچہ یہ واضح نہیں ہے کہ کس بات یا معاملے کو کامیابی کہا جا رہا ہے۔

ابھی تک کٹھ پتلی حکام آپس میں دست و گریبان ہیں۔ امریکی ڈالر اور اقتدار کی ہوس سے ان کے اختلافات میں روز بروز شدت آ رہی ہے۔ ابھی تک ٹرمپ کی اس غنڈہ گردی کے نتائج بھی سامنے نہیں آئے، جس پر کٹھ پتلی حکام خوشی کے شادیانے بجاتے رہے ہیں۔ کٹھ پتلی انتظامیہ ابھی تک ٹرمپ کے فضائی حملوں پر انحصار کیے ہوئے ہے۔ کرپشن کے علاوہ ان کی کامیابی کی کوئی جھلک ابھی تک نظر نہیں آ رہی ہے۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ افغانستان نے پڑوسی ممالک کے ساتھ دوطرفہ تجارتی تعلقات بڑھانے کے لیے معاہدے کیے ہیں، بلکہ امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے افغانستان کے تمام ہمسایہ ممالک کو ناراض کر کے ملک کی اقتصادی صورت حال کو تباہی سے دوچار کر رکھا ہے۔

ابھی تک افغانستان کے 60 فیصد رقبے پر امارت اسلامیہ کی رٹ قائم ہے۔ مجاہدین کے خلاف زمینی اور فضائی کارروائیوں میں صرف شہریوں، مساجد اور مدارس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ شہریوں کا قتل عام کیا جاتا ہے۔ انہیں بلاوجہ حراست میں لیا جاتا ہے۔ رات کے چھاپوں میں صحت کے مراکز، کلینکس اور منشیات کے خاتمے کے نام پر بازاروں کو مسمار اور نذر آتش کیا جاتا ہے۔ عام شہریوں کے گھر لوٹ لیے جاتے ہیں

جب کہ مجاہدین  بہترین جنگی حکمت عملی استعمال کر رہے ہیں۔ وہ فدائی حملوں کے ذریعے شاہین کور بیس کو نشانہ بنا کر 250 فوجیوں کو ہلاک کر دیتے ہیں۔ کبھی پکتیا کے تربیتی سینیٹر میں 400 فوجیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ میوند میں 150 اہل کاروں پر مشتمل فوجی اڈہ ختم کیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں درجنوں مثالیں دنیا کے سامنے ہیں۔

کیا کابل انتظامیہ اور قابض استعماری قوتوں کے لیے گزشتہ سال کو کامیاب سال قرار دیا جا سکتا ہے، جس میں 12 ماہ کے دوران مجاہدین کی طرف سے اُن پر 7503 حملے کیے گئے ہیں۔ جن میں 289 غیرملکی اور 14984 افغان اہل کار ہلاک ہوئے ہیں۔ 19 طیارے تباہ کیے گئے ہیں۔ 2976 فو جی گاڑیاں اور ٹینک تباہ کیے گئے ہیں۔ دشمن کے 408 اہم کمانڈروں کو بھی جنگ کے دوران موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے۔ ان تمام کمانڈروں کا مکمل تعارف، ان کے نام، ڈیوٹی، مقام اور گاؤں کے ایڈریس امارت اسلامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے میڈیا کو فراہم کی گئی لسٹ میں ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔ ان کی ہلاکت کی تصدیق قومی سلامتی کونسل، سیگار، پارلیمنٹ اور صوبائی کونسلوں کے اراکین کی جانب سے ہو چکی ہے۔ کیا کابل انتظامیہ کے لیے مناسب ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں فوجیوں اور کمانڈروں کو امریکا کے مفادات کے تحفظ کے لیے موت کے منہ میں دھکیل کر اُلٹا کامیابی کا دعوی بھی کیا جائے؟

کیا یہ بھی 2017 کی کامیابی ہے، جس پر کابل انتظامیہ فخر کرتی ہے۔ مَیں نہیں سمجھتا کہ کوئی عقل مند شخص کابل انتظامیہ کے لیے 2017 کو کامیاب سال قرار دینے کی جرأت کرے۔ جب کہ کابل حکام اب بھی بڑی ڈھٹائی کے ساتھ 2017 کو اپنے لیے کامیاب سال قرار دینے پر اُدھار کھائے بیٹھے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*