فتوحات سے نئے سال کا آغاز

آج کی بات:

 

نئے سال 2018 کا آغاز جہادی فتوحات سے ہوا ہے۔ افغانستان میں عام طور پر موسم سرما میں جنگ کی شدت میں کمی آجاتی ہے۔ البتہ اس بار قابض اور کٹھ پتلی فورسز نے افغانستان کے مختلف علاقوں میں مظلوم افغان عوام کے خلاف زمینی اور فضائی کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں۔ جب کہ دشمن کو مجاہدین کی بھرپور جوابی کارروائیوں کا سامنا ہے۔ مجاہدین نہ صرف دشمن کے حملوں کا دفاع کر رہے ہیں، بلکہ بہت سے علاقوں میں دشمن کے خلاف جارحانہ اور گوریلا حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

ابھی کی تازہ ترین خبر یہ ہے:

11 دن پہلے قابض اور کٹھ پتلی فورسز نے صوبہ ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ، ضلع کنڈک چہار اور ناد علی کی جانب سے ضلع مارجہ پر فوجی آپریشن کا آغاز کیا۔ گیارہ دن شدید جھڑپوں اور گھمسان کی لڑائی کے بعد قابض اور کٹھ پتلی فورسز بھاری نقصان اٹھانے کے بعد پسپا ہو گئیں۔ ان جھڑپوں میں کٹھ پتلی فورسز کے 5 کمانڈروں ’’اسد پوپل، عصمت اللہ بارکزئی، عبدالرحمن، بہادر خان اور بٹالین چار کے چیف‘‘ سمیت 72 فوجی، پولیس اور سنگوری ملیشیا کے اہل کار ہلاک، جب کہ 33 اہل کار زخمی ہو گئے۔ اس کے علاوہ دشمن کو بھاری مالی نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔

صوبہ لوگر کے ضلع محمد آغا کے علاقے زرغون پر امریکی اور کٹھ پتلی فورسز نے مشترکہ کارروائی کے دوران چھاپہ مارا، جس پر مجاہدین نے جوابی حملہ کر دیا۔ چھاپے کے دوران مجاہدین نے امریکی اور افغان فورسز پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کر کے دشمن کا ایک ٹینک اور 2 گاڑیاں تباہ، جب کہ 18 اہل کار موقع پر ہلاک کر دیے گئے۔ دشمن کا چھاپہ ناکام ہوا اور وہ ذلت آمیز شکست کے بعد علاقے سے فرار ہو گیا۔

صوبہ کاپیسا کے ضلع تگاب کے علاقے افغانیہ میں قابض امریکی اور کٹھ پتلی فورسز نے مل کر مجاہدین کے ٹھکانوں پر چھاپہ مارا، لیکن انہیں مجاہدین کی منہ توڑ جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ گیا۔ اس دوران فریقین کے درمیان شدید لڑائی جاری رہی، جس میں دشمن کے 2 ٹینک تباہ اور 10 سے زائد اہل کار ہلاک اور زخمی ہوگئے۔

صوبہ فراہ کے ضلع پشت رود کے علاقے ماندگان میں فوجی قافلے پر مجاہدین نے حملہ کیا، جس میں ضلعی پولیس سربراہ محمد ابراہیم دو محافظوں سمیت قتل اور ان کا ٹینک تباہ ہوگیا۔

دشمن کے فضائی اور زمینی حملوں میں اضافے کے باوجود مجاہدین اپنے زیرکنٹرول علاقوں اور ٹھکانوں کا دفاع کر رہے ہیں۔ دشمن نے متعدد بار مجاہدین کے ٹھکانوں پر چھاپے مارنے اور ان کے زیرکنٹرول علاقوں سے انہیں بے دخل کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن ہر بار دشمن کو خفت کا سامنا رہا ہے۔ جہاں بھی دشمن نے حملہ کیا، مجاہدین نے انہیں پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کیا۔ ان حملوں میں دشمن کو بھاری جانی اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مجاہدین کی مضبوط اور پائیدار مزاحمت اللہ تعالی کی مدد اور عوام کی حمایت کا واضح ثبوت ہے۔

جس طرح نئے سال کا آغاز جہادی فتوحات سے ہوا ہے، امید ہے اللہ تعالی 2018 میں بھی گزشتہ سالوں کی طرح دشمن کی حکمت عملی اور منصوبوں کو بےاثر اور ناکام بنا کر مجاہدین کو مزید حوصلہ اور استقامت عطا فرنائیں گے، جو اپنے دین اور اس کی اقدار کا دفاع کر رہے ہیں، تاکہ افغانستان میں ایک آزاد اور خودمختار اسلامی نظام نافذ کیا جا سکے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*