امارت اسلامیہ کے  رہنماء پاکستان میں نہیں، دشمن کا دعوہ بےبنیاد

پیر کےروز 08/ جنوری 2018 ء کو کابل انتظامیہ اور قندہار کٹھ پتلی حکام نے دعوہ کیا کہ گویا امارت اسلامیہ کی قائدین پاکستان میں رہائش پذیر ہیں اور ان کے مطابق مجاہد رہنماؤں کے گھروں کے پتے ان کے پاس ہیں  اور دیگر افواہات ۔

ہم اس پروپیگنڈے کی پرزور الفاظ میں تردید کرتے ہیں، امارت اسلامیہ کی قائدین افغان مجاہد عوام کے درمیان اور رأس  میں  واقع  ہیں، ملک کے نصف رقبے سے زیادہ پر مجاہدین قابض  اور قائدین حضرات جہادکی قیادت کررہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ، نیٹو اور لاکھوں کٹھ پتلی فوجوں سے یہ شدید اور غیر متوازن مقابلہ بیرونی ممالک سے ناممکن ہے اور اس طرح پیش قدمی نہیں کی جاسکتی۔

مزدور دشمن یہ دعوے اس لیے کررہا ہے کہ اپنی شکست اور مایوسی سے توجہ کسی اور جانب مبذول کروادیں اور یہ ظاہر کریں، کہ جاری جہاد کا تعلق پاکستان سے ہے اور پاکستان کے زیرکمان جاری ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ استعماری قوتوں کے خلاف جہاد  بااحساس اور غیور افغانوں کے زیرکمان، منصوبہ اور قربانیوں سے شروع اور جاری ہے۔ جو شخص بھی اس عظیم جدوجہد اور مایہ ناز جہاد کو اجنبیوں سے منسلک کرتے ہیں، وہ نہ صرف یہ کہ امریکہ کو اپنی غلامی ثابت کرتی ہے،  بلکہ ہماری تاریخ اور اس سرزمین کی حریت پسند شناخت سے قومی غداری اور عظیم جفا کرتی ہے۔

قاری محمد یوسف احمدی ترجمان امارت اسلامیہ

22/ ربیع الثانی 1439 ھ بمطابق 09/ جنوری 2018 ء

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*