کٹھ پتلی حکومت کے ٹینکوں پر داعش کے جھنڈے

آج کی بات:

 

سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر ایسی تصاویر شائع ہوئی ہیں، جن سے واضح ہوتا ہے کہ کابل حکومت کے ٹینکوں پر داعش کے جھنڈے لہرائے گئے ہیں۔ عوامی حلقوں نے کئی بار اس بات کی نشان دہی کی ہے کہ ”امریکا اور کابل حکام داعش کی مدد کرتے ہیں۔ مجاہدین اور داعش کے درمیان جنگ کے دوران کسی تیسری جانب سے مجاہدین پر حملے ہوتے ہیں، جن کا مقصد داعش کو سکیورٹی فراہم کرنا ہوتا ہے۔“ عوامی حلقوں کے ان خدشات کی تصدیق امارت اسلامیہ نے بھی کی ہے۔

افغانستان میں بہت سے سیاسی تجزیہ کاروں، بااثر شخصیات اور حکومت میں شامل اہم ذمہ داران نے اس بات پر اصرار کیا ہے کہ افغانستان میں داعش امریکا اور کابل حکومت کے مشترکہ منصوبے کو فروغ دیتی ہے۔ قومی سلامتی کے حکام داعش کے ساتھ ہتھیاروں اور رقم کی امداد فراہم کرتے اور داعش کے زخمیوں کو اپنے ہسپتالوں میں طبی امداد فراہم کرتے ہیں۔ داعش کو مجاہدین کے خلاف منظم اور مسلح کیا جاتا ہے۔

حملہ آور اور کٹھ پتلی حکام جب امارت اسلامیہ کی جہادی تحریک کا راستہ روکنے میں ناکام ثابت ہوئے تو انہوں نے امارت اسلامیہ کے خلاف مختلف سازشوں اور منصوبوں کا آغاز کیا۔ مجاہدین کے خلاف مختلف قسم کے جرائم پیشہ عناصر کو تربیت دی اور انہیں امارت اسلامیہ کے خلاف اکسایا، لیکن اللہ کے فضل و کرم سے دشمن کے ہر منصوبے میں ان کے ہتھیار، پیسے اور افرادی قوت ضائع ہوئی۔ مجاہدین کو کوئی اہم نقصان نہیں پہنچا۔

حملہ آوروں نے عراق میں محلی ملیشیا کا تجربہ کیا اور پھر افغانستان میں بھی اس منصوبے کا تجربہ کیا گیا۔ محلی ملیشیا کے اہل کاروں نے عوام کی عزت، جان اور مال پر حملے کیے، لیکن مجاہدین کے خلاف بدترین شکست سے دوچار ہوئے۔

مختلف اقوام کو مجاہدین کے خلاف اکسانے پر مجبور کیا گیا، لیکن وہ جلد سمجھ گئے کہ یہ بھی قابض قوتوں کا منصوبہ ہے اور ہمیں کرائے کے طور پر اپنے اہداف کی تکمیل کے لیے استعمال کریں گے۔ یہ منصوبہ بھی مجاہدین کی بروقت آگاہی سے ناکام ہو گیا۔

گزشتہ تین سالوں کے دوران حملہ آوروں اور کٹھ پتلی حکومت نے مجاہدین اور مجاہد عوام کے خلاف داعش کا منصوبہ آزمایا۔ داعش کے مسلح اہل کاروں نے کئی مساجد، مدارس، اسکولوں، آئمہ، علماء اور مجاہدین کو نشانہ بنایا اور امارت اسلامیہ کے مجاہدین کے خلاف زیادہ پروپیگنڈا کیا گیا۔

امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے قابض قوتوں اور ان کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے بھرپور کوشش کی اور آئندہ بھی مقدس مقامات، اقدار اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ مجاہدین اس دھرتی کے بیٹے ہیں۔ وہ ہر قسم کی قربانیاں دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ اور انہوں نے عملی میدان میں ثابت بھی کر دیا ہے۔ ملک و قوم کے دشمنوں کو ہر گز یہ اجازت نہیں دی جا ئے گی کہ وہ یہاں اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے لیے مختلف منصوبوں پر عمل درآمد کریں۔

بڑے شہروں میں کابل حکومت کے ٹینکوں پر داعش کے جھنڈے لہرانا اس بات کا ثبوت ہے کہ داعش + امریکا + کابل حکومت ایک پیج پر ہیں، لیکن اب وہ بے نقاب ہو گئے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*