انسانی اقدار کے محافظ کون؟

آج کی بات:

 

گزشتہ دنوں قابض امریکی اور کٹھ پتلی فورسز نے صوبہ ہلمند کے ضلع نوزاد کے بازار اور ایک دینی مدرسے پر چھاپے کے دوران متعدد طالب علموں کو شہید اور زخمی کر دیا۔ اسی طرح متعدد دکانوں کو لوٹا گیا۔

رپورٹس کے مطابق ظالم اور سفاک دشمن نے علاقوں کو دس گھنٹے تک گھیرے میں لیے رکھا۔ علاقے میں آنے جانے پر مکمل پابندی لگائی گئی اور کسی کو شہداء کی لاشیں اور زخمیوں کو اٹھانے کی اجازت نہیں تھی۔ امریکی فوجی خود کو انسانیت کے علَم بردار قرار دیتے ہیں۔ وہ ہمیشہ یہ دعوی کرتے ہیں کہ ’ہم جنگ کے دوران مظلوم اور نہتے شہریوں کی حفاظت کا خیال رکھتے ہیں۔‘ جب کہ اُن کا عمل اور کردار گزشتہ دنوں ہلمند کے ضلع نوزاد میں تمام دنیا نے دیکھا ہے۔ امریکی فوج نے درجنوں نہتے شہریوں کو نشانہ بنانے کے علاوہ اُن کا قیمتی سامان بھی لوٹ لیا۔ آمد و رفت پر پابندی کے باعث شہداء کی لاشیں اور زخمی بے یار و مددگار گلی کوچوں میں پڑے تھے، جو انسانیت کی بدترین تذلیل کی شرم ناک مثال ہے۔

اسلام اور مسلمانوں کے ازلی دشمن ٹرمپ کی نئی جنگی پالیسی کے اعلان کے بعد امریکی فوجیوں اور ان کے جاسوسوں نے افغانستان بھر میں عام شہریوں کی زندگیوں سے کھیلنا شروع کر رکھا ہے۔ خاص طور پر مساجد، دینی مدارس، بازاروں اور تجارتی مراکز کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

حملہ آور سمجھتے ہیں کہ ان ظالمانہ اقدامات سے افغان عوام کو خوف زدہ کیا جا سکے گا۔ جس سے وہ اپنے اہداف تک پہنچ جائیں گے، لیکن وہ نہیں جانتے کہ ذلت آمیز طریقے سے مذہبی اقدار اور ملی روایات کی توہین سے افغان عوام کے جذبات مزید بھڑکتے ہیں۔ جس کے باعث مزاحمتی تحریک میں مزید شدت آئے گی۔ اس دھرتی کے بیٹے اپنے دین اور آزادی کے لیے جانی و مالی قربانی دینے کے لیے ہر لمحہ تیار ہیں۔

دوسری جانب کٹھ پتلی حکمرانوں کے ظالمانہ اور غیرانسانی سلوک کے مقابلے میں امارت اسلامیہ کا ہمدردانہ اور مشفاقانہ سلوک ملاحظہ فرمائیں۔ گزشتہ روز امارت اسلامیہ نے صوبہ پکتیا میں کٹھ پتلی فوج کے اُن 16 قیدیوں کو رہا کر دیا، جو کچھ عرصہ قبل پکتیا کے ضلع جانی خیل کی فتح کے دوران گرفتار کیے گئے تھے۔ اسلامی اخوت، ہمدردی اور قومی عمائدین کے ذریعے قیدیوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ رہائی کے بعد کبھی بھی کٹھ پتلی حکومت کی باطل صف میں شامل نہیں ہوں گے۔ اسی طرح امارت اسلامیہ کے رہنماؤں نے انہیں فی کس 5 ہزار روپے اور ایک ایک سوٹ کپڑا دیا۔

امارت اسلامیہ نے کٹھ پتلی حکومت کے قیدیوں کو ایک ایسے وقت میں اسلامی، افغانی اور انسانی سلوک کے تحت رہا کیا کہ دشمن کی جیلوں میں تقریبا 20 ہزار شہری شک کی بنیاد پر سالہا سال سے قید ہیں۔ ان کے ساتھ غیرانسانی سلوک کیا جاتا ہے۔ ان کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ قیدیوں کے اہل خانہ کو بھی اجازت نہیں ہے کہ وہ آسانی سے قیدیوں سے ملاقات کر سکیں۔

جن قیدیوں کو رہا کیا جاتا ہے تو کرپٹ جج اور عدالتی اداروں کے اہل کار ان سے ہزاروں ڈالر رشوت وصول کرتے ہیں۔ امارت اسلامیہ کی طرف سے قیدیوں کے ساتھ اچھا سلوک اور رہائی انسانی اور افغانی بھی ہمدردی ہے، جب کہ کٹھ پتلی فوج میں شامل اہل کاروں پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس امر سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ امارت اسلامیہ کی قیادت اور مجاہدین اسلامی اور انسانی اقدار کی پاس داری کے لیے کتنے پُرعزم ہیں۔ وہ عفو و درگذر کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*