ترکی میں امن کے منصوبے کے جعلی نمائندوں کے متعلق سیاسی دفتر کا اعلامیہ

تین روز قبل بعض ذرائع ابلاغ میں  رپورٹیں شائع ہوئیں کہ ترکی میں حزب اسلامی کی ثالثی سے طالبان اور کابل انتظامیہ کے نمائندے اکھٹے ہوئے ہیں  اور افغانستان میں امن کے متعلق بات چیت کررہے ہیں۔  ذرائع ابلاغ نے یہ بھی کہا ہے کہ تیسرا  مرحلہ ہے،مگر بقیہ دو  اجلاسوں کو خفیہ رکھا گیا ۔ اجلاس کے شرکاء میں سے ایک نے خود کو ملاعبدالرؤف متعارف کروایا اور میڈیا میں نمودار  ہوتے ہوئے کہا کہ تینوں اجلاس تعارفی اور ابتدائی گفتگو میں گزرے ہیں۔

امارت اسلامیہ کے ترجمان جناب ذبیح اللہ مجاہد نے اس رپورٹ کی شدید تردید کی اور کہا کہ امارت اسلامیہ کے کسی نمائندے نے اجلاس میں شرکت نہیں کی اور انہوں نےاس بات کی وضاحت  کردی کہ یہ ایک جعلی منصوبہ اور جعلی چہرے ہیں  اور افغانستان میں امن وامان جعلی منصوبوں اور جعلی چہروں کو سامنے لانے سے برقرار نہیں ہوتا، بلکہ اسے مزید نقصان پہنچایا جاسکتا ہے۔

جیسا کہ ذرائع ابلاغ میں دعوہ ہوا ہے کہ اس اجلاس میں رحمت اللہ وردک کے نام سے ایک مندوب کا تعلق امارت اسلامیہ کے سیاسی دفتر سے ہے ! تو سیاسی دفتر اس سلسلے میں اہل وطن اور عالمی برادری  کو اس بات کی وضاحت کرنا چاہتی ہے کہ  رحمت اللہ وردک کا سیاسی دفتر سے کسی قسم کا بالواسطہ اور بلاواسطہ تعلق ہے اور نہ ہی موصوف امارت اسلامیہ کا رکن ہے۔  یہ ایک اینٹلی جنس منصوبہ ساز کرتوت ہے،جو  اس طریقے سے افغانستان کے حقیقی امن منصوبے  کو بدنام اور نقصان پہنچانا چاہتا ہے اور جارحیت کو جاری رکھنے کے اسباب مہیا کرتا ہے۔

قابل یاد آوری ہے کہ امارت اسلامیہ حقیقی امن منصوبے کا خواہاں ہے  اور اسی غرض کے لیے سیاسی دفتر کو ذمہ داری سونپ دی گئی ہے کہ افغان مسئلہ کا پرامن حل تلاش کریں۔  امارت اسلامیہ کا ایجنڈا واضح ہے کہ جارحیت کا خاتمہ اور ملک میں تمام افغانوں کے مشترکہ نظام کو قائم کرنا ہے۔اسی مقصد کی خاطر امارت اسلامیہ کے سیاسی دفتر کے ذریعے ہمیشہ تمام جہتوں کو جو مسئلے کا پرامن حل چاہتا ہے، بتاتی ہے کہ بات چیت کی میز کی جانب بڑھے، مگر اب تک مسئلے کے دوسرے پہلو  کے پاس امن کی حکمت عملی نہیں ہے، صرف صلح وآشتی کے نعرے لگا رہے ہیں اور صلح کے جعلی منصوبوں کو بروئےکار لارہے ہیں،جو مسئلے کا حل ہے اور نہ ہی افغان عوام کو سکون دے سکے گا۔

ہم ایک بار پھر سب کو بتاتے ہیں کہ افغان مسئلہ کے حقیقی حل کی جانب رخ کریں اور امن کے مقدس کلمہ کو مزید مختلف بہانوں سے نقصان نہ پہنچائیں۔

سیاسی دفتر امارت اسلامیہ افغانستان

29/ ربیع الثانی 1439 ھ بمطابق  16/ دسمبر 2018 ء

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*