افغانستان میں طاقت اور دباؤ کی سیاست بے نتیجہ ہے اور رہیگا/ ترجمان

یہ کہ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں  نائب  امریکی وزیر خارجہ جان سلون امارت اسلامیہ پر دباؤ کی بات کررہا ہے، یہ حقیقت سے چشم پوشی اور ہمارے خیال میں غلط فہمی کررہا ہے۔

اس مؤقف کو دہرانا ،ان امریکی جنگی جنرلوں کے گذشتہ سولہ برسوں کی ناکام حکمت عملی اور عمل سے ملتا جلتا ہے،جس سے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوئی، بلکہ امریکہ کو مزید مسائل میں الجھا کر اسے غرق کرنے کے قریب کردیا۔

امریکہ کو  سمجھنا چاہیے کہ افغانستان کا اصل مسئلہ بیرونی جارحیت ہے ، انگریز اور سابق سوویت یونین کی جارحیت  اور بعد میں شرمناک شکست، اسی طرح گذشتہ سولہ سالوں میں امریکہ کو پہنچائے جانے والے جانی و مالی نقصانات واضح کرتی ہے کہ  افغانی کسی کی طاقت اور دباؤ کے سامنے نہیں جھکتے اور اس نقطہ کو  سنجیدگی سے سمجھنا چاہیے۔

جنگ میں مسلسل نامی اور شکست کے باوجود طاقت اور دباؤ کی باتوں کو دہرا نا، اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یا تو وہ حالت کو صحیح طور پر سمجھ نہیں پا رہے اور یا ممکن جان بو جھ  کرجنگ کو طول دینا چاہتا ہے، تاکہ افغانستان اور خطے میں جارحانہ اور  غاصبانہ مطالبات اور مقاصد کو  تلاش کریں۔

اسی ہدف کے لیے وزارت دفاع کی نئی پالیسی کو اپناتے ہو‏ئے اعلان کیا کہ  مزید (سپرپاور  کا مقابلہ) امریکی پالیسی کا  اہم نقطہ نظر ہوگا۔

ایسی پالیسی سے امریکہ  بےشک دنیا اور باالخصوص خطے کی ناامنی اور اسے مزید جنگ میں دھکیلنے کی جدوجہد  کریگی۔

امارت اسلامیہ تمام اپنے امکانات کو بروئے کار لائیگی ، تاکہ امریکی حقائق  کو تسلیم کرنے پرتقعل اور جارحیت سے دستبردار ہونے  پر مجبور  کریں ۔ ان شاءاللہ تعالی

ذبیح اللہ مجاہد ترجمان امارت اسلامیہ افغانستان

03/ جمادی الاول 1439ھ بمطابق 20/ جنوری 2018 ء

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*