جنوبی صوبوں کے ذمہ دار مولوی رحیم اللہ سے انٹرویو

 

انٹرویو: ابو عابد

’عسکری کمیشن‘ امارت اسلامیہ کا ایک وسیع المقاصد اور اہم انتظامی ادارہ ہے، جو قابض استعماری قوتوں اور ان کے حامیوں کے خلاف مسلح مزاحمت کی منصوبہ بندی، نگرانی، تحقیقات، عسکری وسائل کی فراہمی اور مزاحمت میں تیزی لانے کی ذمہ داریاں انجام دے رہا ہے۔ افغانستان کے 34 صوبوں میں جہادی ذمہ داران، گورنروں، ضلعی رہنماؤں، صوبائی اور ضلعی کمیشنز اور دیگر فوجی یونٹس عسکری کمیشن کی قیادت میں کام کر رہے ہیں۔ اس کمیشن کا تنظیمی ڈھانچہ افغانستان بھر میں پھیلا ہوا ہے۔ اس کے تحت مختلف ڈویژن قائم کیے گئے ہیں۔ ہر ڈویژن کے تحت چند صوبوں پر مشتمل حلقے قائم کیے گئے ہیں۔ ان حلقوں کے ذمہ داران جہادی امور کی نگرانی کرتے ہوئے اپنے ماتحت صوبوں کے لیے مختلف وفود بھیجتے ہیں اور خود بھی دورے کرتے ہیں۔ اس بار ہم نے عسکری کمیشن کے ماتحت ہلمند، قندھار، اروزگان اور دائی کنڈی صوبوں پر مشتمل حلقے کے ذمہ دار مولوی رحیم اللہ صاحب کے ساتھ خصوصی گفتگو کی، جو قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔

سوال:

جناب مولوی صاحب! سب سے پہلے ہمارے قارئین کو اپنا تعارف کرائیں۔ پھر امارت میں اپنی ذمہ داریوں کے بارے میں آگاہ کیجیے!

جواب:

سب سے پہلے آپ اور قارئین کو السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ میرا نام مولوی رحیم اللہ ہے اور مَیں صوبہ غزنی کے ضلع ناوہ کا رہنے والا ہوں۔ مَیں نے اس سے پہلے امارت اسلامیہ کی جانب سے صوبہ غزنی کے نائب اور پھر فوجی کمیشن کے ایک رکن کی حیثیت سے کام کیا تھا۔ گزشتہ ایک سال سے عسکری کمیشن کی طرف سے قندھار، ہلمند، اروزگان اور دائی کنڈی صوبوں پر مشتمل حلقے کے ذمہ دار کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہا ہوں۔

سوال:

فوجی کمیشن کے ماتحت حلقوں کے ذمہ داران کی اصل ذمہ داریاں کیا ہیں اور وہ کن شعبوں میں کیا خدمات انجام دیتے ہیں؟

جواب:

فوجی کمیشن نے تمام صوبوں تک رسائی کو یقینی بنانے اور وہاں عسکری امور سے متعلق تمام معاملات پر بھرپور توجہ مرکوز رکھنے کے لیے کچھ صوبوں پر مشتمل حلقے بنائے ہیں۔ اس کمیشن کے ارکان کو مختلف صوبائی امور کی نگرانی سپرد کی گئی ہے۔ کمیشن کے چند ارکان جنوبی صوبوں، چند ارکان شمالی اور چند ارکان مغربی صوبوں میں جہادی کارروائیوں کی نگرانی کی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں۔عسکری کمیشن کے ماتحت ان متعدد صوبوں کو حلقوں کا نام دیا گیا ہے۔ ہرحلقے کا ایک ذمہ دار ہوتا ہے، جو عسکری کمیشن کے سربراہ اور ان کے معاون کی قیادت میں کام کرتا ہے۔ حلقوں کے نگران حضرات کی ذمہ داریاں یہ ہیں؛

جہادی کارووائیوں سے متعلق گورنروں،ضلعی گورنروں اور مجاہدین کے ساتھ کی منصوبہ بندی کی جائے۔ متعلقہ صوبوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی قائم رکھی جائے۔ مجاہدین کے اندرونی مسائل تلاش کر کے اُن کا حل نکالا جائے۔ صوبوں میں عسکری اور عوامی امور کی نگرانی کی جائے۔ عسکریت اور عوام کے مسائل اور مشکلات سے قیادت کو آگاہ کیا جائے۔ مجاہدین کو وسائل فراہم کیے جائیں۔ معاملات کی منصوبہ بندی کر کے اُنہیں عملی جامہ پہنانے کے لیے متعلقہ افراد کے ساتھ تعاون کیا جائے۔ ماتحت تمام صوبوں میں جہادی کارروائیوں کی قریبی نگرانی کی جائے۔ صورت حال کا بہترین جائزہ لے کر فوجی کمیشن کے سربراہ کو تمام معاملات سے فوری آگاہ کیا جائے۔

چوں کہ حلقہ عسکری کمیشن کے ارکان پر مشتمل ہوتا ہے، اس لیے جہادی علاقوں میں ان کی موجودگی سے مختلف علاقوں اور صوبوں کے مجاہدین کے درمیان ہم آہنگی اور باہمی تعاون کو فروغ مل رہا ہے۔ جن علاقوں میں عوام کے مسائل گورنر یا صوبائی کمیشن کی طرف سے حل نہیں ہوں گے تو پھر حلقے کے ذمہ دار سے رابطہ قائم کیا جاتا ہے۔ اسی طرح حلقے کے ذمہ داران زیادہ تر وقت متعلقہ صوبوں میں گزارتے ہیں اور عسکری کارروائیوں کے وقت مجاہدین کے ساتھ بھرپور تعاون کرتے ہیں۔

سوال:

عمری آپریشن کے سلسلے میں آپ کے حلقے کے ماتحت صوبوں میں جہادی سرگرمیوں کی صورت حال کیسی ہے اور ان صوبوں میں مجاہدین نے کیا پیش رفت کی ہے؟

جواب:

افغانستان بھر میں عمری کارروائیوں کے تحت مجاہدین نے عظیم فتوحات اور اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ کئی اضلاع آزاد کروا لیے گئے ہیں۔ دشمن کا اپنے زیر اثر علاقوں پر کنٹرول مزید کم ہو گیا ہے۔ بہت سے علاقوں پر مجاہدین نے فتح کا سفید پرچم لہرا دیا ہے۔ اہم سڑکیں، شاہراہیں اور دشمن کے مراکز مجاہدین کے کنٹرول میں آ گئے ہیں۔ دشمن کا کنٹرول متعدد صوبوں کے دارالحکومتوں اور اضلاع کے مراکز تک محدود ہوکر رہ گیا ہے۔ اس سلسلے میں ہمارے حلقے کے ماتحت صوبوں قندھار، ہلمند، اروزگان اور دائی کنڈی میں بھی فتوحات کا ایک خوش گوار سلسلہ جاری ہے۔ ان صوبوں میں جہادی صورت حال، کامیابیوں اور فتوحات سے متعلق اگر تفصیل ذکر کروں گا تو بات طویل ہو جائے گی۔ مَیں کوشش کرتا ہوں کہ کامیابیوں کا مختصر خاکہ آپ کے سامنے رکھ سکوں۔

قندھار افغانستان کے جنوب میں مرکزی اور سب سے اہم صوبہ ہے۔ اس لیے دشمن نے جنگ کا کمانڈ سینٹر یہاں قائم کر رکھا ہے۔ یہاں سے غاصب دشمن اور اتحادی تمام صوبوں میں جنگ کی قیادت کر رہے ہیں۔ اسی وجہ سے غیرملکی اور مقامی حکام کی حفاظت کے لیے ہزاروں اہل کاروں کو یہاں تعینات کر کے سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ اس سال بھی مجاہدین نے اس صوبے میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ قندھار سے اروزگان کی طرف جانے والی مرکزی شاہراہ پر مجاہدین نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ مجاہدین نے اس شاہراہ پر قائم 28 چوکیوں کو فتح کر کے سڑک اور ملحق علاقے پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا ہے۔

ضلع شاہ ولی کوٹ اور ضلع میوند میں مجاہدین کے مسلسل حملوں سے اس سال دشمن کو جس قدر بھاری جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس کی مثال نہیں ملتی۔ مجاہدین کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال صرف ضلع میوند میں دشمن کے 500 سے زائد اہل کار ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ مجاہدین نے ان کی چیک پوسٹوں اور فوجی اڈوں پر تابڑ توڑ حملے کیے۔ ان ہلاکتوں کی وجہ سے دشمن ان علاقوں میں اہل کاروں کی نفری کی تعداد میں کمی کے بحران سے دوچار ہے۔اس لیے بھی وہ اپنی جنگی سرگرمیوں میں ناکام ہو رہا ہے۔ قندھار کا ضلع ’نیش‘گزشتہ پندرہ سالوں سے دشمن کا ایک مضبوط قلعہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ اس ضلع کے تمام علاقوں پر اس کا مکمل کنٹرول تھا۔ گزشتہ سال مجاہدین نے اس ضلع پر بھی اپنا کنٹرول قائم کر لیا ہے۔ اب دشمن کا کنٹرول صرف ضلعی عمارت تک محدود ہے۔ اسی طرح ضلع غورک پر بھی مجاہدین کا کنٹرول ہے۔ اس جھڑپ میں دشمن کو بھاری جانی نقصان بھی پہنچا تھا۔ بہت سا مال غنیمت مجاہدین کے ہاتھ لگا تھا۔ اس کے علاوہ قندھار شہر میں مجاہدین کی گوریلا کارروائیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ مختلف اضلاع میں دشمن پر حملے بڑھا دیے گئے ہیں۔ قندھار شہر کے جنوب میں واقع ضلع ریگستان کافی عرصے سے مجاہدین کے کنٹرول میں ہے۔ ضلع شوراوک محاصرے میں ہے۔ اسی طرح مشرقی اضلاع ’معروف‘ اور ’ارغسان‘ میں بھی قابل ذکر کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔

سوال:

قندھار کی طرح اروزگان اور ہلمند کی جہادی صورت حال کیسی ہے؟

جواب:

عمری آپریشن کے تحت مجاہدین نے صوبہ اروزگان میں بھی اہم فتوحات حاصل کی ہیں۔ ماضی میں اروزگان کے دارالحکومت ترین کوٹ کے مضافات میں کوئی ایک علاقہ بھی مجاہدین کے کنٹرول میں نہیں تھا۔ اب عمری آپریشن کے نتیجے میں ترین کوٹ شہر کے علاوہ دارالحکومت کے تمام مضافات پر مجاہدین کنٹرول ہے۔ مجاہدین مشرق کی طرف ’گرماؤ‘ اور ’مرادآباد‘، شمال کی جانب سے ’درویشان‘ اور مغرب کی جانب’پایناوی‘ کی سمت سے دارالحکومت کے دروازے تک پہنچ گئے  ہیں۔ عمری آپریشن کے نتیجے میں مجاہدین نے اروزگان میں 100 سے زائد چیک پوسٹوں اور 15 بڑے فوجی اڈوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ مجاہدین نے دارالحکومت ترین کورٹ میں دشمن کے اہم فوجی وسائل غنیمت میں حاصل کر لیے ہیں، جن میں 70 ٹینک اور فوجی گاڑیاں، 10 بڑی گاڑیاں، 700 سے زائد مختلف ہتھیار، جن میں ہیوی مشین گنیں، راکٹ اور بھاری ہتھیار شامل ہیں۔ علاوہ ازیں بہت سارے اوزار اور وسائل قبضے میں لے لیے ہیں۔

عمری آپریشن کے تحت ضلع چوری میں 20 چیک پوسٹوں اور پانچ فوجی ہیڈکوارٹرز پر قبضہ کیا گیا ہے۔ اس ضلع کی صرف سرکاری عمارت دشمن کے کنٹرول میں ہے۔ باقی تمام علاقے پر مجاہدین کا مکمل کنٹرول ہے۔ ضلع ’دہراود‘ کی طرف جانے والی شاہراہ پر مجاہدین کا کنٹرول ہے۔ اروزگان کی صورت حال اس طرح ہے کہ تمام اضلاع مثلا دہراود، خاص اروزگان، چینارتو، چارچینی  اور چورا مکمل طور پر مجاہدین کے محاصرے میں ہیں۔ اب دشمن کے پاس زمینی راستہ نہیں ہے۔ وہ فضائی راستے سے وہاں موجود اہل کاروں کو خوراک اور دیگر وسائل فراہم کرتا ہے۔

اسی طرح صوبہ ہلمند میں بھی مجاہدین نے عظیم فتوحات حاصل کی ہیں، جس سے دشمن کی نیندیں حرام ہو کر رہ گئی ہیں۔ گزشتہ سال ہلمند میں فتوحات کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ مجاہدین نے اللہ تعالی کے فضل اور مدد سے ضلع خانشین اور ناوہ مکمل طور پر فتح کر لیا ہے۔ اسی طرح ضلع گرمسیر میں مجاہدین پہلے صرف گوریلا کارروائیاں کرتے تھے۔ گزشتہ سال مجاہدین نے اس ضلع کے تمام علاقوں پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا ہے۔ ایک بار شہر میں داخل بھی ہوئے، لیکن اب صرف ضلعی عمارت دشمن کے کنٹرول میں ہے۔ اسی طرح ضلع ناد علی، باباجی اور صوبائی دارالحکومت لشگرگاہ کے مضافات میں چاہ انجیر اور دیگر علاقوں کے اکثریتی حصے پر مجاہدین کا کنٹرول ہے۔ مجاہدین نے امریکی منصوبے کے تحت جرائم پیشہ عناصر پر مشتمل اربکی ملیشیا کے شر سے علاقے کے عوام کو محفوظ کر دیا ہے۔ ان کی سکیورٹی چیک پوسٹوں کو فتح کر کے سالہا سال کا امریکی جنگی منصوبہ خاک میں ملا دیا ہے۔ علاوہ ازیں ضلع گریشک، مارجہ اور سنگین کے مضافات میں بھی مجاہدین نے غیرمعمولی فتوحات حاصل کر کے بہت پیش رفت کی ہے۔ دشمن کی متعدد چیک پوسٹوں کو فتح کر کے بہت سے علاقوں پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا ہے۔ گزشتہ سال مجاہدین نے ایک اہم پیش رفت یہ کی کہ قندھار اور ہلمند کو ملانے والی مرکزی شاہراہ پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا ہے۔ مجاہدین نے گزشتہ سال دو بار اس شاہراہ کو بلاک کیا تھا۔ اب بھی جب چاہیں، اسے بلاک کیا جا سکتا ہے۔ ہلمند میں دشمن بہت سنگین صورت حال سے دوچار ہے۔ اربکی ملیشیا اور فورسز کو پسپا کر کے دشمن کا منصوبہ ناکام بنا دیا ہے۔

مجاہدین نے گزشتہ سال ہلمند میں دشمن کی سازشوں کو بروقت ناکام بنانے میں بہت کامیابی حاصل کی ہے۔ کٹھ پتلی انتظامیہ کے کمیونسٹ رہنما عبدالجبار قہرمان منصوبہ بندی میں مہارت رکھتے ہیں۔ انہوں  نے چند باغیوں کے ساتھ مل کر مجاہدین کے خلاف اِنہی کے روپ میں جنگجو تیار کرنے کا ایک بہت بڑا منصوبہ بنایا گیا تھا، لیکن اللہ کے فضل سے ہلمند میں مجاہدین کی قیادت نے بروقت اس کا سدباب کر کے دشمن کی تمام چالوں اور سازشوں کو ناکام بنا دیا۔ اسی طرح مجاہدین نے گزشتہ سال صوبہ دائی کنڈی کے کچھ علاقوں میں قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ مجاہدین ضلع گیزاب میں دشمن کی 20 سے زائد چیک پوسٹوں کو فتح کر کے ضلعی مرکز تک پہنچ گئے۔ اس کارروائی میں مجاہدین نے دشمن سے مختلف قسم کے 80 ہتھیار بھی حاصل کیے۔ اسی طرح ضلع اجرستان میں بھی دشمن پر کئی بار بڑے حملے کر کے کچھ علاقوں پر مجاہدین کا کنٹرول قائم ہو گیا ہے۔ مجموعی طور پر گزشتہ سال مجاہدین نے مذکورہ تمام صوبوں میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، جس پر ہم اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہیں۔

سوال:

مذکورہ صوبوں کے تمام مفتوحہ علاقوں، چیک پوسٹوں اور فوجی اڈوں پر مجاہدین نے جنگ کے ذریعے کنٹرول حاصل کیا ہے یا کچھ علاقوں میں دشمن ہتھیار ڈال کر سرنڈر بھی ہوا ہے؟

جواب:

ابتداء میں بہت سے علاقوں پر مجاہدین نے عمری آپریشن کے تحت کارروائیوں کے نتیجے میں کنٹرول قائم کیا تھا، لیکن جب دشمن سمجھ گیا کہ سرنڈر ہونا بہترین راستہ ہے تو پھر وہ جوق در جوق مجاہدین کی صف میں شامل ہوتے رہے۔ گزشتہ سال مجاہدین نے ایک اَور بڑی کامیابی یہ حاصل کی کہ دشمن کا ایک جنگی حربہ ناکام بنایا، جس سے دشمن اہل کاروں کے حوصلے پست ہوئے۔ مجاہدین نے سرنڈر ہونے والے اہل کاروں کے ساتھ نہایت اچھا اور نیک برتاؤ کیا۔ جس کے باعث مزید دشمن اہل کار ہتھیار پھینک کر امارت اسلامیہ کی صف میں شامل ہو گئے۔ یہ ایک اہم پیش رفت تھی، جس سے دشمن کی صفوں میں ہلچل مچ گئی۔ حتی کہ دشمن کے بڑے بڑے فوجی اڈوں میں موجود سیکڑوں اہل کار ہتھیار ڈال کر مجاہدین سے آ ملے۔ سرنڈر ہونے والے اہل کاروں کے ساتھ مجاہدین نے نہایت اچھا سلوک کیا۔ ان کے ساتھ عزت و احترام کے ساتھ پیش آئے۔ علاوہ ازیں بخوشی سرنڈر ہونے والے اہل کاروں کو رہا کر دیا۔ ان کے ساتھ مالی تعاون بھی کیا۔ اُنہیں اپنے گھروں تک پہنچانے میں مدد فراہم کی۔ مجاہدین کے اس اقدام کے نہایت مثبت اثرات مرتب ہوئے۔ اب بھی بہت سے اہل کار مجاہدین کے ساتھ رابطہ کر کے ہتھیار ڈالنے کا وعدے کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب بھی ہمارے علاقوں میں جنگ لگی تو ہم لڑائی کا حصہ نہیں بنیں گے، بلکہ ہتھیار ڈال کر مجاہدین کی صف میں شامل ہو جائیں گے۔

سوال:

مفتوحہ علاقوں میں مجاہدین عوام کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں؟

جواب:

ان تمام مفتوحہ علاقوں میں مثالی امن قائم ہے۔ کیوں کہ عوام کے لیے امن کی ضرورت سب سے اہم ہے۔ لوگوں کے جان ،مال اور عزت محفوظ ہیں۔ ڈکیتی، قتل اور دیگر جرائم کے مقدمات درج نہیں ہوئے۔ لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے تمام ادارے فعال ہیں۔ تمام علاقوں میں عدالتیں قائم ہیں۔ عوام اپنے مسائل ضلعی گورنروں اور متعلقہ اداروں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ عام مجاہدین کو عوام کے ساتھ کوئی لین دین نہیں ہے۔ مجموعی طور پر عوام مجاہدین کے کردار سے مطمئن اور خوش ہیں۔

سوال:

حال ہی میں امریکا نے اعلان کیا ہے کہ ہلمند میں مزید تین سو امریکی فوجی بھیجے جائیں گے۔ آپ امریکا کے اس اقدام کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

جواب:

مجاہدین نے گزشتہ سال ہلمند میں بہت کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ دشمن بھاری جانی نقصان سے دوچار ہے۔ دشمن کا خیال ہے کہ رواں سال مجاہدین اپنی کارروائیوں میں مزید تیزی لا کر  دشمن پر تابڑتوڑ حملے کریں گے۔ ہلمند میں ہزاروں امریکی فوجیوں کو شکست  ہو چکی ہے۔ اب اس اقدام سے امریکا افغان فورسز کو حوصلہ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ بھی کہ امریکا افغان حکومت کی پشت پر کھڑا ہے۔ لہذا وہ ان اقدامات کے لیے بہت زیادہ پروپیگنڈا کرتے ہیں، لیکن یہ حقیقت سب کو معلوم ہے کہ جب ہزاروں امریکی و برطانوی فوجی مجاہدین کا راستہ نہیں روک سکےتو تین سو امریکی کس کھیت کی مولیاں ہیں! ہمارے ساتھ اللہ تعالی کی مدد ہے۔ دشمن کبھی بھی مجاہدین کی پیش رفت کا راستہ نہیں روک سکتا۔ امریکا نے پہلے بھی ہزاروں فوجیوں کو ہلمند میں تعینات کیا تھا۔ وہ ہزاروں فوجیوں کے باوجود بھی جہادی تحریک اور عوامی مزاحمت کچلنے میں ناکام رہا ہے تو اب ان چند سو فوجیوں کو تعینات کرنے سے مَیں نہیں سمجھتا کہ کوئی بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔

سوال:

آپ میگزین کے توسط سے قارئین تک کیا پیغام پہنچانا چاہتے ہیں؟

جواب:

میرا پیغام تمام مسلمانوں اور خاص طور پر مجاہدین کے لیے یہ ہے کہ آپس میں اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کریں۔ جہاد میں اتحاد کامیابی کی پہلی شرط ہے۔ اتحاد کے لیے ضروری ہے کہ تمام لوگ ایک صف میں خدمت پر توجہ دیں اور ایک امیر کی اطاعت کریں۔ دوسرا یہ کہ مجاہدین عوام کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ ہمارے عوام دین دوست اور مؤمن ہیں۔ انہوں نے جہاد میں بہت زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ ان کے تعاون سے مجاہدین جہاد میں مصروف عمل ہیں۔ وہ مجاہدین کے ساتھ خوراک، وسائل سمیت ہرقسم کا تعاون کر رہے ہیں۔ ہمارے جہاد کا اہم ہدف مظلوم عوام کو ظالم حکمرانوں سے نجات دلانا ہے۔ خدانخواستہ اگر مجاہدین نے اپنے عوام سے برا سلوک کیا اور جبر و تشدد سے کام لیا تو جہاد اور تمام تر قربانیاں ضایع ہو جائیں گی۔ اللہ بھی ناراض ہوگا۔ اللہ تعالی ہمیں توفیق دے کہ عوام کے ہر فرد کے حقوق کا تحفظ کریں۔ ان کے لیے محبت کی فضا قائم کریں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*