شاہین چھاونی میں ہونے والی کارروائی کے ماسٹر مائنڈ مجاہد عبید اللہ حسام سے گفتگو

 

محترم قارئین!

چند دن قبل افغانستان کے شمالی شہر بلخ میں کابل انتظامیہ کے ایک بڑے فوجی مرکز شاہین چھاونی پر امارت اسلامیہ کے فدائی مجاہدین نوجوانوں نے ایک موثر اور کامیاب حملہ کیا جس میں سینکڑوں فوجی ہلاک اور زخمی ہوگئے ۔ اس حملے نے پوری کابل انتظامیہ کو ہلاکر رکھ دیا، یہاں تک کہ وزیر دفاع اور چیف آف آرمی نے استعفی دے دیا۔ اس کارروائی کے حوالے سے ہم نے کارروائی کی منصوبہ بندی کرنے والے مجاہد سے گفتگو کی ہے جو آپ کی توجہ کے نذر کی جارہی ہے۔

سوال: سب سے پہلے آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں ۔ ہوسکے تو پہلے آپ اپنا تعارف کرائیں۔

جواب: میرانام عبید اللہ حسام ہے صوبہ بلخ میں کٹھ پتلی انتظامیہ کی شاہین چھاونی میں ہونے والی حالیہ فدائی مجاہدین کی کارروائی اور امارت اسلامیہ کے روشن جہادی لشکر کا ایک مجاہد ہوں ۔

سوال: صوبہ بلخ کی چھاونی پر حملے کے حوالے سے اگر معلومات دی جاسکیں کہ اس حملے کی منصوبہ بندی کس طرح کی گئی ؟ یہ ہدف کیوں منتخب کیاگیا؟ اور یہ حملہ کس طرح کامیاب ہوگیا؟

جواب: امارت اسلامیہ کی قیادت اور متعلقہ عسکری ذمہ داران کی جانب سے عمری آپریشن کی سٹریٹجی کا اہم حصہ داخلی اور بیرونی دشمن کے اہم اور قابل حیثیت ، محفوظ اہداف پر طرح طرح کے فدائی حملے کرنا اور جس طرح ہمیشہ سے دشمن کے اہم اہداف پر حملے ہوتے رہے ہیں یہ امارت اسلامیہ کی کارروائیوں کا اہم حصہ رہا ہے ۔ اس لیے امارت اسلامیہ کے متعلقہ ڈیٹیکٹو عملہ کی جانب سے مسلسل دشمن کے اہم اہداف کی تلاش کی جاتی ہےاور ان کو نگرانی میں رکھا جاتاہے۔ جن اہداف کے متعلق معلومات مکمل ہوجاتی ہیں تو ان اہداف کے درمیان ایک معیار کے مطابق انتخاب کیا جاتاہے اور جو ہدف حملے کے لیے منتخب کیا جاتاہے امارت اسلامیہ کے متعلقہ عسکری ذمہ داران کی جانب سے اس پر حملے کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔

بلخ میں کٹھ پتلی انتظامیہ کی چھاونی پر حملے کا منصوبہ اس طرح تھا کہ پہلے اس چھاونی کی صفوں میں اس چھاونی کی عسکری تنصیبات ، تشکیلات اور سیکیورٹی تدابیر کے حوالے سے مکمل اطلاعات جمع کرنے کے لیے خاص استشہادی گروپ جو چار مجاہدین پر مشتمل ہوگا انہیں دشمن کی صفوں میں نفوذ دیا جائے گا ، یعنی وہ دشمن کی صفوں میں گھس جائیں گے۔ الحمد للہ یہ کارروائی کامیابی سے مکمل ہوگئی ، پھر ان کے جمع کردہ تحقیقی معلومات کی بنیاد پر چھاونی کے سیکیورٹی بیریئرز اور چیک پوسٹوں کے حوالے سے تدبیریں طے کی گئیں۔ حملے کے لیے فدائی مجاہدین کا انتخاب کیا گیا۔اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ فدائی مجاہدین کے پاس وسائل ، اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد کیا اور کتنا ہونا چاہیے ۔ حملے کے لیے مناسب وقت متعین کیا گیااور بلاخر اللہ تعالی کی نصرت سے یہ حملہ کامیابی سے ہمکنار ہوگیا۔

بلخ میں کٹھ پتلی انتظامیہ کی چھاونی اس لیے ہدف کا نشانہ بنی کہ اس چھاونی سے صلیبی جارحیت پسندوں نے شمال میں ہمارے مظلوم عوام پر مظالم ڈھانے، بمباریاں کرنے اور مجاہدین کے خلاف کمانڈو آپریشن طے کیے جاتے تھے اور یہیں سے ان کی رہنمائی اور کمانڈ کی جاتی ہے ۔ امارت اسلامیہ افغانستان کے قندوز کے گورنر محترم ملا عبدالسلام شہید اور بغلان کے گورنر محترم مولوی لعل محمد محمدی شہید کو شہید کرنے کے منصوبے یہیں تشکیل دیے گئے تھے۔ اس کارروائی میں چھاونی کے ظالم اور سابق کمیونسٹ جنرل اور فوجیوں کے ہاتھ تھے۔

چھاونی پر حملہ اس طرح ہوا کہ دس فدائی مجاہدین جن کی اچھی طرح سے تربیت کی گئی تھی کٹھ پتلی انتظامیہ سے غنیمت میں حاصل کی گئی دو لینجر گاڑیوں میں R.P.G 7 گولہ مارنے والا لانچر، مشین گن ، ایم16 رائفل ، دیگر مشین گنیں اور فدائی جیکٹ وغیرہ دے دیاگیا۔ پہلے دو بیریئر اور چیک پوسٹوں سے اس طرح گذرے کے ایک فدائی مجاہد کو زخمی دکھایا گیا، اسے پٹیاں بھی باندی گئی تھیں۔ گاڑی کا سائرن بھی بج رہاتھا۔ اور ہر چیک پوسٹ پریہی بتاتے رہے کہ وہ فاریاب بریگیڈ سے آئے ہیں اور یہ زخمی ہمارے ساتھ ہے ۔ تیسرے چیک پوسٹ پر فدائی مجاہدین کے کوشش کی ہتھیار ان کے حوالہ کیے بغیر بلاکسی لڑائی کے پرامن طریقے سے گذر جائیں۔ مگر جب وہاں موجود فوجیوں نے ہتھیار حوالہ کرکے اندر جانے پر اصرار کیا تو مجاہدین نے ان پر فائرنگ کھول دی۔ ان کو راستے سے ہٹانے کے بعد بہت تیزی سے چھاونی کے اندر میس تک خود کو پہنچانے میں کامیاب رہے۔

ایک فدائی مجاہد نے میس جیکٹ پھاڑ کر فدائی حملہ کیا۔ اور دوسرے نے میس کے باہر جمع فوجیوں اور افسران پر دھماکہ کردیا۔ بقیہ آٹھ افراد نے بقیہ افسران اور فوجیوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا۔ یہ جنگ سہ پہر ڈیڑھ بجے شروع ہوئی اور شام چھ بجے تک جاری رہی ۔

سوال: حملے کے نقصانات کے حوالے سے مختلف اعدادوشمار ذکر کیے گئےہیں۔ دشمن نے پہلے 8 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی اور بعد ازاں ڈیڑھ سو تک ہلاکتوں اور زخمیوں کا اعتراف کیا گیا۔ مگر آزاد میڈیا نے 250 تک ہلاکتوں کا اعلان کیا تھا، آپ کی معلومات اس حوالے سے کیا ہیں کہ اس حملے میں دشمن کو کتنا جانی ومالی نقصان ہوا ہوگا۔

جواب: ہماری معلومات کے مطابق جو ہم نے قابل اعتماد ذرائع سے حاصل کی ہیں اس حملے میں 500 تک فوجی ہلاک ہوئے ہیں اور سینکڑوں زخمی ہوگئے ہیں اور دشمن کو بھاری مالی نقصان پہنچا ہے۔

 

سوال: دشمن دعوی کرتارہا کہ مجاہد نے مسجد پر حملہ کیا اور نمازیوں پر حملہ کیا ہے ۔ اس کی حقیقت کیا ہے ؟ اس حوالے سے معلومات دیں؟

جواب : مساجد پر حملہ امارت اسلامیہ کی جنگی سٹریٹجی میں نہیں ہے ۔ مرحوم امیرالمومنین رحمہ اللہ ، شہید امیرالمومنین اور شیخ ہبۃ اللہ صاحب مدظلہ اس حوالے سے شریعت کے اصولوں کی روشنی میں ہمیشہ امارت اسلامیہ کے مجاہدین کو خاص نصیحتیں اور سرکاری احکامات دیتے تھے کہ مساجد کے حملوں سے مجاہدین احتراز کریں اگرچہ دشمن کا بڑا ہدف وہیں پر ہو، اگر ہم واقعتا مساجد پر حملے کرنے ہوتے تو دشمن کے وہ رہنما کو جو عوامی مقبولیت حاصل کرنے لیے مساجد میں آجاتے ہیں اور لوگوں سے ملتے ہیں ان پر بھی حملے کرتے ، بہت سے فوجی طعام گاہ اور مسجد سے باہر نشانہ بنے چھاونی کی مسجد کے اندر اور باہر جو گولیاں لگنے کے نشانات نظر آتے ہیں وہ دشمن کے گھبرائے ہوئے فوجیوں کی اندھادھند فائرنگ کے ہیں۔ اور یا ہوسکتا ہے ی فدائی حملہ مجاہدین کو بدنام کرنے کے لیے میڈیا کو دکھانے کے لیے دشمن کا بنایا ہوا پلان ہوا۔

ہم نے نہ مسجد پر حملہ کیا ہے اور نہ ہی مسجد ہمارا ہدف تھا ۔ یہ ہمارے دشمن ہیں جنہوں نے 15  سالوں میں مساجد ، مدارس اور دیگر عوامی مقامات کو بمباری کا نشانہ بنایا ، یہ ان کی جنگی سٹریٹجی کا اہم حصہ رہا اور اب تک سینکڑوں مساجد اور مدارس پر بمباری کی اور تباہی پھیلائی۔

 

سوال: دشمن نے دعوہ کیا ہے کہ اس طرح کے بڑے حملے امارت اسلامیہ کے مجاہدین کی عسکری طاقت سے اونچے ہیں اور اس میں بیرونی انٹیلی جنس اداروں کا تعاون بھی انہیں حاصل ہے اس حوالے سے آپ کی رائے کیاہے؟

جواب: امارت اسلامیہ کے مجاہدین کی فاتحانہ کارروائیوں کو بیرونی انٹیلی جنس اداروں سے منسوب کرنا دشمن کے نفسیاتی جنگ اور پروپیگنڈے کی مشہور تیکنیک ہے۔

دشمن کے انٹیلی جنس اور سیکیورٹی عملہ کے افسران جب بھی مجاہدین کے حملے کو ناکام بنانے میں کامیاب نہیں ہوپاتے اور مجاہدین کے حملے کی منصوبہ بندی کا ادراک نہیں کرپاتے تو اس طرح کے الزامات لگاتے رہتے ہیں۔ الحمد للہ ہمارا جہاد ایک برحق دعوت کے لیے ہے ، ہماری لڑائی صلیبیوں اور منافقین کے ظلم اور فساد کے خلاف ہے۔ افغانستان کے مومن عوام کے دلوں میں اللہ تعالی نے ہماری بے مثال محبت ڈالی ہے اور عوام ہمارے معاون ہیں۔

اللہ تعالی کی نصرت ہمارے ساتھ ہے ، اور ایسی بہادر قوم کے فرزند ہیں جنہوں نے ہمیشہ سپرطاقتوں کا مقابلہ کیا ہے اور انہیں شکست دی ہے ۔ ہمیں کسی کے تعاون کی ضرورت ہے نہ کوئی ہم سے تعاون کرتا ہے۔ اللہ تعالی کی نصرت سے ہم نے یہ منصوبہ بھی خود مرتب کیا ہے اور اس پر عمل درآمد بھی خود کیا ہے ۔ الحمد للہ اب امارت اسلامیہ کے عام مجاہدین اور گروپ کمانڈر دنیا کے ترقی یافتہ افواج کے جنرلوں سے زیادہ مہارت اور عملی تجربہ رکھتے ہیں۔ اور اس حقیقت کی واضح دلیل امارت اسلامیہ کے مجاہدین کے ساتھ مقابلے کے میدان میں صلیبی ناٹو فوجیوں کے جنرلوں کی واضح شکست اور ناکامی ہے۔

سوال: بلخ حملے نے جانی نقصانات کے علاوہ دشمن پر مزید کیااثرات مرتب کیے ہیں اور آپ کے خیال میں یہ حملہ ملک میں رواں جہاد اور خصوصا شمالی صوبوں میں جنگی حالات پر کس طرح اثر انداز ہوگا؟

جواب الحمد للہ ثم الحمد للہ ، حالات کو گہری نظر سے ہم دیکھتے ہیں اور اپنی تحقیقاتی رپورٹیں دیکھتے ہیں تو اس مبارک حملے نے دشمن کو سیاسی اور نفسیاتی طورپر شدیدی صدمہ پہنچایاہے۔ آپ نے دیکھا کہ دشمن کے اعلی عہدوں پر چپکے ہوئے عسکری حکام جن میں وزیردفاع اور چیف آف آرمی اسٹاف بھی شامل ہیں انہوں نے نہایت شرمندگی سے استعفاء دیا اور کابل انتظامیہ نے قومی سوگ کا اعلان کیا۔ اس حملے نے کٹھ پتلی انتظامیہ میں شدید مایوسی پھیلادی ہے ۔ اور دشمن کے فوجیوں کا حوصلہ اور سیکیورٹی حیثیت مزید گرگئی ہے۔ الحمد للہ اس حملے کے ساتھ شمال میں مجاہدین کا مورال بلند ہوگیا ، دشمن کے فوجیوں کا مورال گرگیا ہے اور اگر اللہ کی مرضی ہوئی تو یہ سال شمال میں بڑی فتوحات اور نصرتوں کا سال ہوگا۔

سوال:بلخ کا حملہ ان لوگوں کے لیے پیسوں کی لالچ یا غلط فہمی کی بناء پر امریکی فوجیوں سے مل کر لڑ رہے ہیں اسی طرح وہ خاندان جن کے نوجوان امریکی سرپرستی میں قائم فوج اور پولیس میں ہیں ان کے لیے کیا پیغام ہے۔

جواب: صلیبی کٹھ پتلیوں اور ان کے خاندانوں کے لیے یہ حملہ واضح پیغام ہے اور وہ ایسے کہ صلیبیوں کے تعاون میں خیر نہیں ہے۔ صلیبیوں کا ساتھ دنیا و آخرت میں ذلت اور بربادی ہے۔ان کو چاہیے کہ صلیبیوں کا تعاون چھوڑ دیں اور ان کے خاندان کو چاہیے کہ صلیب کی راہ میں قربان ہونے سے بچ جائیں۔ حق آج کل ہر شخص کے لیے واضح ہوچکا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کوئی اسے سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا، اگر کوئی کوشش کرے تو ایک روٹی اور حلال لقمہ ہر جگہ کما سکتا ہے ۔ جب یہ صلیبی نہیں تھے تب لوگ کیا کھاتے تھے۔ اور جن ممالک میں صلیبی نہیں ہیں وہاں لوگ کیا کھاتے ہیں۔ کیا وہ خاندان جن کے نوجوان صلیبیوں اور ان کے کٹھ پتلیوں کی انتظامیہ کے ساتھ کام نہیں کررہے کس نے سنا ہے کہ وہ بھوک سے مرگئے ہیں۔

اگر وہ صلیبیوں کے تعاون سے دستبردار نہ ہوں گے تو ان کا انجام ایسا ہوگا جیسے شاہین چھاونی کے ظالم افسروں ، جنرلوں اور کمانڈوز کا ہواتھا۔

سوال :کچھ لوگ کہتے ہیں کہ بلخ حملے میں بیرونی نہیں بلکہ ہلاک ہونے والے فوجی سب افغانی تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ جہاد صرف کفار کو مارنے کا نام ہے اور یہ افغانوں کا قتل ہے ، آپ انہیں کیا جواب دینا پسند کریں گے؟

جواب: جولوگ کفار کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف جنگ میں تعاون کرتے ہیں اور کفار کے مفادات کے لیے مسلمانوں کو مارتے ہیں ، انہیں گرفتار کرتے اور تشدد کا نشانہ بناتے ہیں ۔ اور جو لوگ کفار کا دفاع کرتے ہیں، جن لوگوں کو اس بات کی تربیت دی جاتی ہے کہ کفار کے مظالم کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو کیسے خاموش کیا جائے ، جنہیں اسی خدمت کے لیے ڈالروں میں تنخواہ ملتی ہے، جنہیں جنگی وسائل فراہم کیے جاتے ہیں ، جو لوگ اس طرح سے کفار کے شانہ بشانہ ہوں وہ بھی جارح کفار کے حکم میں ہیں ، ان کے ساتھ لڑنا فرض عین ہے ۔ اور ان کا قتل مسلمانوں پر فرض ہے ۔ یہ عقیدے کا مسئلہ ہے اور بہت واضح مسئلہ ہے ۔ ہم ان منافقین سے کہتے ہیں کہ اگر آپ کے یہ جنگجو کفار کی حمایت اور ان کے شانہ بشانہ لڑنے سے دستبردار ہوکر گھر بیٹھ جائیں ، ان کا تحفظ نہ کریں ، ان کے لیے جاسوس نہ کریں ، ہم اور کفار کو مقابلے کے لیے چھوڑیں اور ہمارے درمیان میں نہ آئیں تو آپ گواہ رہیں صلیبی جارحی قوتیں افغانستان میں چند کی مہمان رہ جائیں گی۔

سوال: آخر میں دشمن کی صفوں میں کھڑے فوجیوں اور جنگجووں کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟

جواب:ہم دشمن کی صفوں میں کھڑے فوجیوں اور مسلح رضاکاروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کفار اور ان کی کٹھ پتلی انتظامیہ کا ساتھ دینا چھوڑ دیں۔ اپنے آپ پر اور اپنے خاندان پر رحم کریں ، اپنے مظلوم مسلمان شہریوں اور دنیا بھر کے مسلمانوں پر رحم کریں ، یہ بات واضح ہے کہ اگر آپ دشمن کا ساتھ چھوڑدیں تو دشمن کا ظلم چند روزہ ہوگا ، دشمن یہاں سے بھاگنے پر مجبور ہوگا، امارت اسلامیہ کا دروازہ ان کے ہر وقت کھلا ہے ۔ اگر یہ دشمن کی صف سے الگ ہوکر یہاں آئیں گے تو انہیں جان مال اور خاندان کا تحفظ دیا جائے گا۔ اپنے اسلحہ کا رخ اللہ کی رضا، اپنے گناہوں کے کفارے اور اپنی قوم کے تحفظ کی خاطر اپنے حقیقی دشمن یعنی صلیبی قوتوں کے افسروں اور جنرلوں کی طرف پھیر دو  اور ہمیشہ کے لیے اپنا نام اسلام کی زریں تاریخ کے صفحات پر سنہرے حروف میں نقش کروادو۔

(اقولُ قولی هذا استغفرالله لی ولکم ولِسائر المؤمنین) آمین

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*