افغان حالات کے حوالے سے مصنف اور تجزیہ کار جناب سید سعید صاحب کی گفتگو

امریکا دیوار سے سر نہ ٹکرانے!

ابوعابد

نوٹ!

جناب ’سید سعید‘ صاحب افغانستان کے نوجوان قلم کار اور حالاتِ حاضرہ پر گہری نگاہ رکھنے والے تجزیہ کار ہیں۔ انہوں نے افغانستان کے سیاسی حالات پر مختلف میگزینوں میں لاتعداد مضامین اور مختلف ویب سائٹس پر لاتعداد بلاگ لکھے ہیں۔ سید سعید صاحب جنگ میں عوامی نقصانات، ہلاکتوں اور جنگی جرائم پر خصوصی نگاہ رکھتے اور اس موضوع پر لکھتے رہتے ہیں۔ افغانستان میں حال ہی میں امریکا کی جانب سے اندھی بمباری اور حملوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے، جس کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ بھی بڑھ گیا ہے۔ موضوع کی اہمیت کے پیش نظر ہم نے سید سعید صاحب سے گفتگو کی، جو قارئین کی توجہ کے نذر ہے۔ (ماہنامہ شریعت)

سوال:    اگر بات یہاں سے شروع کی جائے کہ افغانستان کے حالات کیسے ہیں؟ چند ماہ قبل امریکی صدر کی نئی جنگی حکمتِ عملی کے اعلان کے ساتھ دشمن کی عسکری نقل و حرکت اور بمباریاں بڑھ گئی ہیں۔ آپ کیا سمجھتے ہیں امریکی          حکمتِ ملی کی کامیابی کے کچھ امکانات ہیں یا نہیں؟

جواب:   جارحیت پسند امریکا افغانستان میں ڈیڑھ عشرے تک لڑی جانے والی جنگ میں ناکامی کے بعد بھی یہاں کامیابی کے خواب دیکھ رہا ہے۔ ان کا خیال ہے کسی طرح سے وہ اپنے مقاصد حاصل کر لے، مگر افغانستان کی تاریخ اور غیروں کے خلاف افغانوں کی مضبوط مزاحمت کو دیکھتے ہوئے لگتا یہی ہے کہ امریکا بھی دیگر جارح قوتوں کی طرح شکست کا سامنا کرے گا۔ خصوصا افغانستان کے لیے ٹرمپ کی نئی جنگی حکمتِ عملی شروع ہی سے ناکامی کا شکار ہے۔ کیوں کہ اس حکمتِ عملی کا اہم حصہ چند ہزار فوجیوں اور فضائی بمباری میں اضافہ ہے۔ فوجی اضافہ یا بمباری ایسی کوئی نئی چیز نہیں ہے، جس سے مجاہدین ناواقف ہوں۔ 2009 سے 2014 تک ڈیڑھ لاکھ ظالم فوجی اور تین لاکھ سے زیادہ اتحادی جنگجو، بلیک واٹر اور دیگر کمپنیاں اس کے دائرہ کار میں تھیں۔ یہ نہ صرف مجاہدین کو کمزور کرنے میں ناکام رہے، اُلٹا جارحیت پسندوں کے نقصانات میں اضافہ ہوا ہے۔ اگر بھاگے ہوئے فوجی ایک بارپھر میدان میں آئیں تو بلاشک وشبہ نقصانات ہی اُن کا مقدر ہے۔ آپ دیکھیں گزشتہ تین ماہ میں جارح فوج کی نقل و حرکت میں نسبتا اضافہ ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے جانی و جنگی نقصانات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ مثلاً قندھار اور کابل میں جارحیت پسندوں پر فدائی حملے نے انہیں شدید نقصان پہنچایا ہے۔  لوگر میں ان کے بڑے ہیلی کاپٹر کی تباہی بھی بڑا نقصان ہے، جس میں سوار درجنوں فوجی ہلاک ہوئے۔ اسی طرح دیگر صوبوں میں بھی جارحیت پسندوں کے نقصانات میں اضافہ ہوا ہے۔

قابل غور بات یہ ہے کہ جارح قوتوں نے اپنی نئی حکمتِ عملی کے اعلان کے بعد افغانستان کے جن حصوں میں داخلی فوجیوں کے ساتھ مل کر مشترکہ آپریشن کیے ہیں، سب مسلسل ناکامی سے دوچار ہوئے ہیں۔ مثلا قندوز اور ہلمند میں امریکی اور داخلی فوجیوں نے مل کر کارروائیاں کیں، مگر نقصانات اٹھانے کے علاوہ کوئی کامیابی حاصل نہیں کر پائے۔ البتہ جارحیت پسندوں کی فضائی بمباریوں میں عوامی نقصانات بڑھ گئے ہیں۔ بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔ اس کے برعکس دشمن کے فضائی اور زمینی آپریشنز کے باوجود مجاہدین نے کئی علاقے فتح کر لیے ہیں۔حتی کہ ضلعی مراکز تک فتح ہوئے ہیں۔جیسے ’معروف، شیب کوہ اور شلگر۔‘

جارحیت کے خلاف جاری جہادی استقامت کو دیکھا جائے تو لگتا یہی ہے ٹرمپ کی نئی حکمتِ عملی بھی بش اور اوباما کی حکمتِ عملیوں کی طرح ناکام رہے گی۔ گزشتہ ڈیڑھ عشرے سے جہادی مزاحمت کو خاموش کرنے کے لیے جارح قوتوں نے ہر طرح کے حربےکر دیکھے ہیں۔ اب چند ہزار مزید فوجی اور فضائی بمباری کے اضافے سے کامیابی کے خواب دیکھنا عقل مندی نہیں ہے۔ امریکا کو چاہیے اپنا سر دیوار سے ٹکرانے کا سلسلہ ترک کر دے۔ اپنی فوج افغانستان سے باہر نکال دے۔ افغانستان میں کون سا نظام ہونا چاہیے، یہ افغانوں کی سردردی ہے، امریکا کو اس سے کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے۔

سوال:    آپ جنگ میں عام لوگوں کے جانی نقصانات کا خاص مطالعہ کرتے ہیں، امریکا کی نئی جارحانہ پالیسی کے حوالے سے عام لوگوں کی ہلاکتوں کے حوالے سے کیا کہتے ہیں؟

جواب:   ٹرمپ کی نئی حکمتِ عملی کے ساتھ حالات بہت خراب ہو گئے ہیں۔ افغانستان کے مختلف حصوں میں جارحیت پسندوں اور افغان حکومت کے نائٹ آپریشنز، بمباریوں اور براہ راست حملوں میں عوام کو بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات اٹھانا پڑے ہیں۔ خواتین، بچے اور بوڑھے شہید ہو رہے ہیں۔ بہت سے لوگ گرفتار کر لیے گئے ہیں۔ عام لوگوں کو دھمکایا اور خوف زدہ کیا گیا ہے۔ عوام کے گھر، مساجد، مدارس، بازار اور دیگر عوامی مقامات پر بمباری کی جا رہی ہے۔ حال ہی میں ہلمند کے ضلع موسی قلعہ کے مضافات میں خوب صورت بازار تباہ کر دیا گیا ہے۔ غذائی اشیاء کے اسٹورز اور دکانوں کو آگ لگا دی گئی ہے۔ اسی طرح جارحیت پسندوں کی نئی حکمتِ عملی کے اعلان کے ساتھ عوام کو مختلف طریقوں سے ستایا اور لوٹا جا رہا ہے۔

سوال:    عوامی قتلِ عام کے تازہ ترین واقعات کے کچھ اعداد و شمار قارئینِ شریعت کے ساتھ شیئر کیجیے۔

جواب:   12 اکتوبر کو میڈیا نے عوامی جرگے کے چند ارکان اور کچھ عینی شاہدین کے بقول یہ خبر دی کہ صوبہ کنڑ کے ضلع چوکی کے علاقے گلدری میں جارحیت پسندوں کی بمباری سے 2 گھر تباہ اور خواتین اور بچوں سمیت 14 افراد شہید ہوگئے۔

16 اکتوبر کو ننگرہار کے ضلع پچیرآگام کے علاقے ’لوئر صبر‘میں جارحیت پسندوں نے کٹھ پتلیوں کے تعاون سے چھاپہ مارا۔ لوگوں پر تشدد کیا گیا۔ گھروں کے دروازے بموں سے اڑا دیے آخر میں پورے گاؤں پر بمباری کر دی گئی۔ جس میں 8افراد خواتین اور بچوں سمیت شہید ہوگئے۔ 23 اکتوبر کو ننگرہار کے ضلع غنی خیل کے علاقے ’نھہ ویشتم ویالہ‘میں جارحیت پسندوں اور داخلی فوجیوں نے عام لوگوں کے گھروں پر چھاپے مارے۔ جس میں ایک ہی خاندان کے 7 افراد شہید کر دیے گئے۔ چھاپوں میں گھروں کے دروازے توڑ دیے جاتے ہیں۔ قیمتی سامان لوٹا اور لوگوں پر تشدد کیا جاتا ہے۔

4 نومبر کو صوبہ غزنی کے ضلع گیرو کے مرکز کے قریب داخلی فوجیوں کے علاقے میں کی گئی بمباری میں 8 عام شہری شہید اور زخمی ہوئے۔

9 نومبر کو صوبہ فراہ کے ضلع خاک سفید میں ننگ آباد بازار اور مضافات کے دیہاتوں پر جارح قوتوں کی بمباری سے 22 افراد شہید اور زخمی ہوئے، جب کہ کئی گھر تباہ ہوگئے۔

19 نومبر کو ہلمند کے ضلع موسی قلعہ کے ضلعی مرکز کے قریب جارحیت پسندوں کی عام لوگوں کے گھروں پر کی گئی بمباری میں 7 گھر تباہ اور ایک خاندان کے بچوں اور خواتین سمیت 10 افراد شہید ہوگئے۔

30 نومبر کو ہلمند کے ضع سنگین میں مالمند بازار کے علاقے میں جارحیت پسندوں نے چھاپے کے دوران 7 افراد کو شہید اور 6 کو زخمی کر دیا۔

سوال:    امریکی بمباریوں، چھاپوں اور ڈرون حملوں کے باعث عام لوگوں کو بہت نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس طرح کے وحشیانہ اقدامات کے کیا نتائج نکلیں گے؟

جواب:   پشتو میں محاورہ ہے؛ ’پہ زور کلی نہ کیژی‘ یعنی طاقت کو بقا نہیں ہے۔ جارحیت پسند اور اشرف غنی حکومت کا خیال ہے کہ طاقت اور وحشت کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کر لیں گے۔ وہ یہ نہیں سوچتے کہ روسیوں اور افغان کمیونسٹوں نے بھی اسی طرح طاقت اور وحشت کا فارمولہ آزمایا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نہ اپنے قدم جما سکے، الٹا ُصدیوں قبل جو علاقے روس نے قبضے میں لیے تھے وہ بھی ہاتھ سے نکل گئے۔ امریکی جارحیت پسندوں کی وحشت سے ان کے خلاف جہادی مزاحمت اَور بھی مضبوط ہوگی۔ لوگوں میں انتقام کا جذبہ طاقت پکڑے گا۔ انجام کار دوسرے جارحیت پسندوں کی طرح وہ بھی افغانستان سے نکلے گا۔

سوال:    کہا جاتا ہے اشرف غنی حکومت نے دینی شعائر خصوصا علمائے کرام، داعیوں، مدارس اور دیہاتوں میں مساجد کے امام صاحبان کو ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ ان علاقوں میں زہریلے پروپیگنڈے کے علاوہ کئی حملے بھی کیے جا چکے ہیں۔ اس حوالے سے آپ کی معلومات کیا ہیں؟

جواب:   حال ہی میں دینی مدارس اور علماء پر بہت حملے ہوئے ہیں۔ چند مثالیں دیکھیے:

17 نومبر کو لوگر کے ضلع چرخ کے گاؤں ملا علیم میں جارحیت پسندوں اور داخلی فوجیوں نے چھاپہ مار کر دو گھروں اور مدارس کی تلاشی لی اور مدرسے کے طلباء سمیت 5 افراد کو گرفتار کر لیا۔

20 نومبر کو صوبہ ننگرہار کے ضلع شیرزاد کے علاقے مرکی خیل میں جارحیت پسندوں نے افغان فوج کے تعاون سے چھاپہ مارا۔ ایک عالم دین مولوی شیرین دل صاحب کو شہید اور تین افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

22 نومبر کو میدان وردگ کے ضلع نرخ کے کے علاقے عمرخیل میں جارحیت پسندوں اور داخلی فوجیوں نے ایک دینی مدرسے پر چھاپہ مارا۔ مقامی لوگوں کے مطابق فوجیوں نے 8 چھوٹے حافظ بچوں کو دیوار کے ساتھ بٹھایا اور پھر سب کو سروں میں گولیاں مار شہید کر دیا۔

26 نومبر کو جارح فوج نے لغمان کے ضلع قرہ باغ اور امبیڑ کے علاقوں میں ایک عالمِ دین سمیت پانچ افراد کو شہید اور تین کو گرفتار کر کے ساتھ لے گئی۔

22 اکتوبر کو صوبہ زابل کے ضلع شاہ جوئی اور نوبہار کے درمیان لوڑ مرغے بٹ خیلو کے علاقے میں ایک مسجد پر بمباری کی گئی۔ جس سے مسجد میں موجود تین طالب علم شہید ہوگئے۔ بعد ازاں اسی علاقے سے 5 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

17 ستمبر کو صوبہ کے غزنی ضلع دہ یک کے بالائی علاقے میں افغان فوج نے ایک عالم دین مولوی عبدالہادی اخوندزادہ کو شہید کر دیا اور اُن کے بیٹے اور اہلیہ کو زخمی کر دیا۔

اسی طرح کے بہت سے واقعات ہیں، جن میں دشمن نے مدارس اور دینی مراکز کو بند کرنے اور دہشت پھیلانے کے لیے ظالمانہ کارروائیاں کی ہیں۔ طلباء وعلماء کو بلاکسی وجہ کے شہید کیا گیا ہے۔ ان کی ایسی کارروائیاں واضح طورپر اسلام دشمنی پر مبنی ہیں۔

سوال:    اشرف غنی نے اسلام پسند حلقوں کے خلاف دشمنی پر مبنی اقدامات اور حملے کیوں شروع کر رکھے ہیں؟ کیا یہ کوئی طے شدہ پلان ہے؟

جواب:   آپ بہتر جانتے ہیں جارحیت پسندوں کا مقصد صرف زمین پر قبضہ نہیں ہے۔ یہ چاہتے ہیں کہ اپنے مقبوضہ علاقوں میں طاقت اور دولت کے ذریعے لوگوں کو اُن کے دینی شعائر سے دور کر دیا جائے۔ اپنی ثقافت سے دور کر دیا جائے۔ آخر کار ایسی ایک نسل کی سامنے لائی جائے، جسے امریکا کے مفاد کے لیے استعمال کیا جائے۔ میرا خیال ہے یہ جارحیت پسندوں کا بہت اہم منصوبہ ہے کہ دینی مدارس، علماء اور داعیان دین کا راستہ روکا جائے۔ چوں کہ یہ واقعات زور پکڑ رہے ہیں، میرا خیال ہے دینی تعلیمات اور افغان ثقافت کے ساتھ اشرف غنی اور اتمر کی دشمنی اور لادینیت واضح ہو رہی ہے۔

سوال:    آپ کے خیال میں امریکی وحشیانہ حکمتِ عملی اور اشرف غنی کے اسلام مخالف رویے کے خلاف معاشرے کے مختلف طبقات کی ذمہ داری کیا ہے؟ ہمارے علمائے کرام، دانش وَر ، یونیورسٹی کالج کے طلباء، نوجوان اور عام لوگوں کو کیا کرنا چاہیے؟

جواب:   الحمد للہ! ہم سب مسلمان ہیں۔ معاشرے کے تمام طبقات اسلام سے وابستہ ہیں۔ اسلام ہماری نجات کا وہ مقدس راستہ ہے، جس نے ہمیں عزت بخشی ہے۔ بہت سی برائیوں سے نجات دی ہے۔ ہمیں جنگلی زندگی سے ایک مہذب معاشرہ میں منتقل کیا ہے۔ ہم اسلامی شعائر، دینی اقدار، قومی مفادات، زمینی خود مختاری کا دفاع کرنے کے لیے مزاحمت کر رہے ہیں۔ اس مقدس جنگ میں معاشرے کی تمام اقوام اور طبقات نے حصہ لیا ہے۔ اب ہماری مقدس سرزمین پر ٹرمپ اور اشرف غنی کی قیادت میں دینی مقدسات اور مقامات کی بے احترامی اور توہین کا سلسلہ جاری ہے۔ علمائے کرام اور داعیوں کو ایذائیں دی جاتی ہیں۔ معاشرے کے تمام طبقات کی ذمہ داری ہے اس غلط عمل کے خلاف ردعمل دکھائیں ۔ ملک و ملت کے دشمنوں کے خلاف مسلح مقابلہ کریں۔ قلمی مزاحمت کا راستہ اپنائیں۔ کم از کم سڑکوں پر نکلیں ۔ مظاہرے کریں۔ جارحیت پسندوں اور کابل انتظامیہ کی حالیہ دہشت گردی کے خلاف کوئی بھی جائز طریقہ اختیار کیا جائے۔

سوال:    کچھ لوگ جو خود کو فکر اور قلم کا مالک بھی کہتے ہیں۔ ہر وقت افغانستان اور عوام سے محبت کے دعوے کرتے ہیں، مگر افغانستان کے موجودہ حالات میں خاموش یا غیرجانب دار ہیں یا کسی نہ کسی صورت میں جارحیت پسندوں کا ساتھ دیتے ہیں۔ آپ ایسے لوگوں سے کیا کہنا چاہیں گے؟

جواب:   چوں کہ کچھ لوگ افغانستان میں کفر و اسلام کے درمیان جاری جنگ کو صرف امارت اسلامیہ کی جنگ سمجھتے ہیں۔ خود کو غیرجانب دار سمجھتے یا جارحیت کی حمایت کرتے ہیں، وہ بہت بڑی غلط فہمی کا شکار ہیں۔ یہ تو روز روشن کی طرح واضح ہے افغانستان پر امریکی جارحیت ایک ناجائز عمل ہے۔ یہاں لاکھوں لوگ شہید اور زخمی ہو چکے ہیں۔ ہزاروں افراد کو جیلوں میں ڈالا گیا ہے۔ مختلف طریقوں سے اذیت دی جاتی ہے۔ کیمیائی اسلحہ اور فاسفورس کا زہریلا مواد ان پر استعمال کیا گیا ہے۔ جن کی وجہ سے ہماری زندگی، وسائل اور ماحول کو بڑا نقصان پہنچا ہے۔ جس دشمن نے تماری زمین غصب کر رکھی ہو، خون بہایا ہو، آزادی سلب کر لی ہو، دینی اور قومی اقدار پامال کی ہوں، ایسے دشمن کے بارے میں خاموش اور غیرجانب دار رہنا اپنے دین، زمین اور قوم سے غداری ہے۔ غیروں سے اپنی آزادی حاصل کرنا شرعی اور فطری حق ہے۔ اسلام اور کفر کے درمیان مقابلے میں غیرجانب داری کا کیا مطلب؟ یہاں تو دوفریق موجود ہیں۔ حق اور باطل! قرآن کریم نے بھی یہی تقسیم کر رکھی ہے۔ حق کے طرف داروں کو حزب اللہ اور باطل کے طرف داروں کو حزب الشیطان کانام دیا ہے۔ صلیبی جنگ کے کمانڈر اعلی جارج بش نے بھی کہا کہ دو گروہ ہیں۔ ہمارے ساتھی بنو یا دہشت گردوں کے! (یعنی اسلام کی دفاعی قوت  مجاہدین کے)تیسرا کوئی فریق نہیں ہے۔

اے غیرجانب دار لوگو! افغانستان صرف امارت اسلامیہ کا ہے؟ آپ کا اس میں حصہ نہیں ہے؟ اگر خود کو حصہ دار سمجھتے ہو تو پھر غیرجانب دار کیوں ہو۔ جارحیت پسند کفار نے اسلام پر بھی حملہ کررکھا ہے اور افغانستان پر بھی قبضہ کر رکھا ہے۔ جو لوگ جارحیت پسندوں کی حمایت کرتے ہیں۔ انہیں ’خلقیوں‘ اور ’پرچمیوں‘ اور ان سے پہلے کے ’لاٹیوں‘ کے تاریک انجام سے خوف زدہ ہونا چاہیے۔ جنہیں دنیا میں کوئی جنازہ اور فاتحہ پڑھنے والا نہیں ملا۔ ان کے رشتہ دار اُن سے  رشتہ داری کا اظہار کرتے ہوئے شرماتے ہیں۔ آخرت میں جارحیت پسند کفار کے ساتھ اٹھائے جائیں گے۔

سوال:      قارئینِ شریعت کے لیے آپ کوئی خاص پیغام دینا چاہیں؟

جواب:   قارئین کوچاہیے حق اور باطل کے درمیان جاری جنگ میں محتاط رہیں۔ دشمن نے جہاد کی بدنامی کے لیے بہت سے حربے استعمال کیے ہیں۔ سیکڑوں برقی اور پرنٹ میڈیا ادارے چل رہے ہیں۔ بہت بڑے مصارف ادا کرکے دانش وروں اور ماہرین کے نام پر اپنے مفادات کے محافظ افراد کو مقرر کیا گیا ہے۔ یہی افراد دن رات مقدس جہاد کو غیروں کے مفادات اور پراکسی جنگ کا نام دیتے ہیں۔ مختلف شکلوں میں جارحیت پسندوں کی ناجائز موجودگی کے لیے قانونی دلائل فراہم کرتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے پروگراموں، بیانات اور تحریروں میں نوجوانوں کو بے راہ روی پر لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مغربی کلچر پر آمادہ کرتے ہیں۔ اپنے سے پر بداعتماد کرتے ہیں۔ اسلام  اوردینی اقدار کو پسماندگی کا باعث قرار دیتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر جہاد، آزادی، علماء اور مراکزِ دینیہ کو انتہا پسندی کا باعث سمجھتے ہیں۔ قارئین کو چاہیے مجاہدین کی نشریات کو فالو کریں۔ دشمن کے پروپیگنڈے پر اعتماد نہ کریں۔ جس موضوع پر مجاہدین کا مؤقف سامنے نہ آئے، انتظار کیا جائے۔ غلط تاویلات کے پیچھے نہ چلیں۔ علماء، دانش وروں اور دینی اقدار کے محافظ لوگوں سے اپنا تعلق قائم کریں۔ خاص طورپر دینی طالب علم اور عصری علوم کے طلبہ سے مطالبہ ہے کہ اپنی درسی کتابوں کے مطالعے کے ساتھ سیرتِ نبوی ﷺؑ، صلیبی جنگوں، اسلام اور افغانستان کی تاریخ کا مطالعہ کریں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*