کابل وزارت داخلہ ہونے والے حملے کے متعلق ترجمان کی وضاحت

سنیچر کے روز 27/جنوری 2018 ء کو کابل کے وزارت داخلہ کی سابقہ عمارت کے اندر شہیدی حملہ ہوا، ہم درج ذیل دلائل کے بناء پر کہہ سکتے ہیں کہ ٹارگٹ دشمن تھا اور نقصان بھی وزارت داخلہ کے عہدیداروں اور کارکنوں کو پہنچا ہے۔

1 : دشمن بذات خود اعتراف کررہا ہے کہ حملہ آور پہلے چیک پوائنٹ سے گزرگیا، توجب گیٹ سے داخل ہو اور دوسرے چیک پوائنٹ تک پہنچ جائے، وہاں عوام اور بازار کی موجودگی بے بنیاد بات ہے۔

2 : بی بی سی سمیت متعدد ذرائع ابلاغ نے لکھا کہ حملہ ایسی جگہ پر ہوا ہے، جہاں سرکاری افراد کے علاوہ عام شہریوں کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ اسی طرح حملے کی جگہ کے نقشے سے معلوم ہوتا ہے کہ آس پاس کئی میٹر کے فاصلے پر اہم سیکورٹی آفس ہیں، مثال کےطور پر اینٹلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے تحت انسداد دہشت گردی کے مراکز اور متعدد سرکاری تاسیسات موجود ہیں، جہاں صرف اور صرف سرکاری اہلکار آمدورفت کرسکتے ہیں۔

3 : ہم جانتے ہیں کہ ناکام اور شکست خودرہ دشمن اس طرح حملوں کو شہری ہلاکتوں کا  جامہ پہنانا چاہتا ہے، اسی لیے ذرائع کو مجبور کردیا گیا ہے، کہ فوجی ہلاکتوں کے بجائے شہریوں کی نقصانات کی تصاویر کو شائع کروادیں اور حتی اس بےبنیاد دعوے کی ثبوت کے لیے کوشش کررہی ہے کہ عراق، شام اور افغانستان میں سابقہ سالوں  کے دوران جنگوں کی تصاویر کو اس سے حملے  سے جوڑ دیں۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دشمن اس پر قادر نہیں ہوا ہے کہ کل کو ہونے والے حملے میں شہری نقصانات کے متعلقہ تصاویر کو ڈھونڈ سکے۔

4 : یہ کہ گھنٹوں تک صحافی حضرات اور میڈیا کو جائے واردات جانے کی اجازت نہیں دی جاتی، یہ بذات خود اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ کابل انتظامیہ پولیس ہلاکتوں کو چھپا رہی ہے۔

5 :  ہمارے فدائی مجاہد اور ان کے رہنماء وزارت داخلہ کے اندر رابط افراد کی تعاون سے علاقے اور پولیس حرکات کی کافی عرصے سے شدید نگرانی کررہے تھے، بعد میں اپنے منصوبے کو عملی کرتے ہوئے اپنے ہدف تک پہنچنے میں کامیاب ہوا۔

6 : افغان عوام اور شہریوں کو مطمئن رہنا چاہیے کہ امارت اسلامیہ کبھی بھی خدانخواستہ ایسی ارادہ نہیں رکھتی ،جس میں بےگناہ شہریوں کو نقصان پہنچے، ہمارے پاس اس بات کی بہترین ثبوت انٹرکانٹینینٹل ہوٹل کا حملہ ہے،جہاں فدائین  صرف اور صرف غیرملکیوں کا کھوج لگا رہا تھا اور اپنے ہموطنوں کو چھوڑتے رہے، مگر اسے بھی متوجہ ہونا چاہیے کہ ناکام دشمن نے اب اپنی آخری سازش کو بروئے کار لایا ہوا ہے، وہ یہ کہ اپنی طاقتور میڈیا کے ذریعے چاہتا ہے کہ اس طرح حملوں کی غلط تصویر شائع کریں اور شہریوں کی ہلاکتوں کی افواہ کو پھیلا دے، تاکہ عام اذہان کو گمراہ اور دباؤ میں رکھے، لیکن دشمن کو مطمئن ہونا چاہیے کہ اس نوعیت کے افسانے اور جھوٹ کھبی بھی حقیقت کو بدل سکتی ہے اور نہ ہی عام ذہیت کو منحرف کرسکتی ہے۔

ٹرمپ اور اس کے حواریوں کو امارت اسلامیہ کا  واضح پیغام ہے کہ اگر تم زور کی سیاست اور بندوق کی نوک پر بات کرتےہو، تو افغانوں  کی جانب سے بھی پھول نچاورنے ہونے کی توقع مت کرو اور  ایسے ہی ردعمل کے لیے منتظر رہو، اگر معقولیت اور افہام وتفہیم کے اصول کو سمجھتے ہو،  تو پھر ہمارے پاس ہر کسی سے بہترین افہام وتفہیم اور پرامن سیاست کی پالیسی ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد ترجمان امارت اسلامیہ افغانستان

11/ جمادی الاول 1439 ھ  بمطابق 28 / جنوری 2018 ء

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*