مجاہدین عوام کا قصاص ضرور لیں گے!

آج کی بات:

 

پچھلے ایک ہفتے سے قابض امریکی اور کٹھ پتلی افغان فورسز نے قندوز میں نئی کارروائیاں شروع کی ہیں۔ ان کارروائیوں کا مقصد اُن علاقوں پر دوبارہ کنٹرول قائم کرنا تھا، جو گزشتہ سالوں کے دوران مجاہدین نے اپنے کنٹرول میں لے لیے تھے۔ عوام بہ خوبی جانتے ہیں کہ دشمن فضائی حملوں میں صرف شہری آبادی کو نشانہ بناتا ہے، جس کا ہدف عوام مجاہدین، دونوں ہیں۔ قابض قوتیں اور کٹھ پتلی حکمران جانتے ہیں کہ افغانستان کے جغرافیے میں کوئی بھی اُن درندوں کا حمایت کرنے والا نہیں ہے۔تمام افغان شہری مجموعی طور جہاد میں مجاہدین کے ساتھ عملا شریک ہوں یا نہیں، یہ الگ بات ہے۔  جب کہ وہ حملہ آوروں اور ان کے حواریوں کے یکسر مخالف ہیں۔ اس لیے دشمن بھی بلا تفریق ہر کسی کو فضائی حملوں میں نشانہ بنا رہا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ مجاہدین مستقل ٹھکانے اختیار نہیں کرتے۔ وہ ہمیشہ ان علاقوں کا انتخاب کرتے ہیں، جو اسٹریٹجک لحاظ سے دشمن پر حملہ کرنے کے لیے موزوں ہوں۔ اس کے باوجود دشمن فضائی حملوں میں دیہاتوں اور گھروں کو نشانہ بناتا ہے۔ اسی وجہ سے امریکی جارحیت پسندوں اور بے رحم کٹھ پتلی فورسز نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران صوبہ قندوز کے ضلع چہاردرہ میں B52، اپاچی ہیلی کاپٹروں،F16 اور ڈرون طیاروں کے ذریعے 46 دیہاتوں کو ملیامٹ کر کے ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے۔ جن لوگوں نے راہ فرار اختیار کی، وہ دیگر علاقوں میں موسم سرما کی شدید سردی میں کھلے آسمان تلے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ جن لوگوں کو وہاں سے نکلنے کا موقع نہیں ملا، وہ سب اپنے بچوں، جانوروں، جائیداد سمیت ملبے تلے دب گئے۔ سوشل میڈیا پر اس خوف ناک صورت حال کی تصاویر ہر کوئی دیکھ سکتا ہے۔

جب دشمن نے اس علاقے کو مکمل طور پر تباہ کیا اور پورے گاؤں کو کھنڈر بنا دیا تو واپس اپنے محفوظ ٹھکانوں کی طرف لوٹنے کے بعد زرخرید میڈیا کے ذریعے اعلان کیا کہ ’ہم نے مجاہدین کے زیرکنٹرول علاقوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔ ان کا فوجی آپریشن کامیاب رہا اور شہریوں کو کوئی نقصان نہیں ہوا۔‘ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ مجاہدین کے زیرکنٹرول علاقوں میں دشمن ایک اِنچ بھی پیش قدمی نہیں کر سکا۔ اس کے برعکس 5 حملہ آوروں سمیت درجنوں اُجرتی اہل کار ہلاک ہوئے۔

زرخرید میڈیا، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی نے اس الم ناک صورت حال کی فوٹیج اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔ چاہیے تھا کہ وہ قریب سے اس صورت حال کا جائزہ لیتے۔ جب کہ انہوں نے حملہ آوروں کے گُن گاتے ہوئے کابل کے کانٹی نینٹل ہوٹل کے کامیاب حملے میں ہلاک ہونے والے غیرملکیوں اور اعلی حکام کو عام شہری باور کرانے کی کوشش کی۔ اس واقعے پر ہمدردی کا اظہار کیا، تاہم قندوز میں نہتے شہریوں کے قتل عام پر اظہار افسوس تک بھی نہیں کیا گیا۔

کابل کانٹی نینٹل ہوٹل جیسے کامیاب اور خوف ناک حملوں کا مقصد نہتے شہریوں کا بدلہ اور قصاص لینا ہے۔ مستقبل قریب میں اس سے بھی زیادہ تباہ کن حملے کیے جائیں گے۔ اِن شاء اللہ!

اگر امریکا اور افغان فوج نہتے شہریوں کو نشانہ بنائے گی تو پھر مجاہدین اس ظلم کا بدلہ ضرور لیں گے۔

وما ذالک علی اللہ بعزیز

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*