امریکی صدر ٹرمپ کے صلح کے خلاف بیان کے بابت ترجمان کا ردعمل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کےروز اپنے حقیقی جنگی مؤقف کو واضح کردیا اور کہا کہ طالبان سے امن مذاکرات کی بات چیت کے لیے آمادہ نہیں ہے۔

ٹرمپ کی درج ذیل باتوں نے حقائق کو ثابت اور واضح کردیے۔

1 :جیساکہ ہم نے ہمیشہ کہا تھا کہ جنگ اور صلح کے اصل اختیارات کابل انتظامیہ کےپاس نہیں، بلکہ امریکی غاصبوں کے پاس ہیں اور صلح کے مسئلے میں ٹرمپ کے نئے مؤقف نے بات کو مزید تر واضح کردی۔

2 : غاصب امریکہ اور اس کے حواری نام نہاد صلح کے نعرے لگا رہے ہیں اور ان کی اصل پالیسی جنگ اور جارحیت کو جاری رکھنے کی ہے، ٹرمپ نے واضح الفاظ میں صلح اور افہام تفہیم کے موضوع پر بطلان کی لکیر کھینچ دی۔

3 : یہ کہ ٹرمپ اور اس کے حواریوں نے صلح کو مردود کہہ دی، تو جنگ اور خونریزی کو جاری رکھنے کی تمام تر ذمہ داری ان پر ہے، اس لیے کہ  انہوں نے اپنی جارحیت کے ذریعے جنگ کی آگ بھڑکا رکھی ہے  اور صلح و افہام وتفہیم کے امکانات کی نفی کرتی ہے۔

4 : افغان عوام کی پرامن زندگی کو امارت اسلامیہ اپنا عظیم ہدف سمجھتی ہے اور  رواں جہاد کو جارحیت کے خاتمے کے مقصد تک جاری رکھے گا، اگرچہ ہمارے دشمن صرف جنگ سے واقف ہیں، مگر ہمیں یقین ہے کہ ہماری ملت کی ناقابل شکست مزاحمت اور بےپایاں صبر آخرکار  غاصب جنگجوؤں کو حقائق تسلیم کرنے کے لیے آمادہ  اور بات چیت اور منطق کی میز کی جانب لوٹا دینگے۔

5 : ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے جنگ طلب حواریوں کو سمجھنا چاہیے کہ ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے، اگر تم جنگ پر اصرار کررہے ہو، تو ہماری مجاہد عوام پھولوں سے تمہارا استقبال نہیں کرسکے گا، ہماری ملت کے پاس   متکبر غاصبوں کو راہ راست پر  لانے کی طویل اور معزز تاریخ موجود ہیں،جنگ صرف اور صرف جہادی ردعمل کے لہروں میں تیزی لائیگی،جس سے  امریکی افواج کی جانی و مالی نقصانات میں چند گنا اضافہ ہوگا۔

6 : ٹرمپ کو سمجھنا چاہیے کہ یہاں وسائل کی جنگ نہیں ہے، بلکہ حق اور باطل کے درمیان معرکہ ہے،  جارحیت کے خلاف حریت پسندوں کی لڑائی ہے، یہ کہ ہمارا  مطالبہ برحق ہے اور فتح بھی ان شاءاللہ ضرور ہماری ہی ہوگی اور  اللہ تعالی کی نصرت سے افغانستان ایک اور سلطنت کا قبرستان بن جائیگا۔ ان شاءاللہ تعالی

ذبیح اللہ مجاہد ترجمان امارت اسلامیہ افغانستان

13/ جمادی الاول 1439 ھ بمطابق 30 / جنوری 2018 ء

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*