افغان فوج جرائم پیشہ عناصر کا ٹولہ ہے

آج کی بات

 

قابض فوج نے افغانستان میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے لڑنے والے مسلح ڈاکوؤں کو ’نیشنل آرمی‘ اور ’قومی پولیس‘ کا نام دے رکھا ہے۔ فوج اور پولیس میں شامل اکثر اہل کار منشیات کے عادی ہیں۔ ڈکیتیوں اور قتل میں ملوث ہیں۔ اخلاقی کرپشن میں غرق اور معاشرے کے جرائم پیشہ عناصر ہیں۔ امریکی فوج کی حفاظت کے لیے پیدا کی جانے والی افغان فوج اور پولیس کے رویے اور کردار سے لوگ بہت پریشان اور تنگ ہیں۔ مختلف صوبوں میں ان کے غیرانسانی اعمال اور سلوک کے خلاف مظاہرے ہو چکے ہیں۔ فوج اور پولیس کے غیرانسانی سلوک کے خلاف ملکی اور غیرملکی میڈیا میں رپورٹیں شائع ہو گئی ہیں۔ ان مسلح افراد کے غیرانسانی سلوک اور مجرمانہ کارروائیوں کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ وہ کھلے عام بلاخوف و خطر غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث پائے جاتے ہیں۔

افغانستان میں امریکی اخراجات کی نگرانی کرنے والی تنظیم ’سیگار‘ نے بار بار کہا ہے کہ ’امریکا کے اربوں ڈالر ان مسلح افراد (قومی فوج اور پولیس) پر خرچ ہو گئے ہیں، جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ وہ انسانی اقدار کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔‘ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے حال ہی میں ایک خبر شائع کی، جس کے مطابق 2010 سے 2016 تک امریکی فوج نے افغان فوجیوں کے 5753 مجرمانہ مقدمات ریکارڈ کیے ہیں۔ ان مقدمات میں تشدد، ماورائے عدالت قتل اور جنسی تشدد کے واقعات شامل ہیں۔ گزشتہ چھ سالوں کے دوران کابل انتظامیہ کے مسلح اہل کاروں نے ہر سال تقریبا 1000 جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

اجرتی فوج اور پولیس کے جرائم کے مذکورہ اعداد و شمار وہ ہیں، جو امریکی فوج کی لسٹ میں رجسٹرڈ ہیں۔ جب کہ غیردرج شدہ واقعات اور جرائم کے اعداد و شمار دوگنا زیادہ ہیں۔ کابل انتظامیہ میں شامل مسلح جرائم پیشہ عناصر کو قومی فوج اور پولیس کا نام دینا افغان عوام کے ساتھ زیادتی اور خیانت ہے۔ ان مسلح اہل کاروں نے قوم کی بھلائی کے لیے کون سے اقدامات کیے ہیں؟ کابل حکومت کے مسلح جرائم پیشہ اہل کاروں نے قوم کی بھلائی اور افغانستان کے لیے کوئی مثبت کردار بھی ادا نہیں کیا، جب کہ وہ ملک پر قابض قوتوں کے غیرقانونی قبضےکو  مزید مضبوط کرنے کے لیے حملہ آوروں کے ساتھ بھرپور تعاون کرتے اور ان کی خدمت میں پیش پیش ہیں۔ اپنی قوم پر امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے بموں اور راکٹوں کی بارش کرتے ہیں۔ نہتے شہریوں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ مختلف بہانوں سے انہیں ہراساں کرتے ہیں اور حراست میں لیتے ہیں۔

کابل انتظامیہ کے مسلح افراد پر قومی فوج کا اطلاق نہیں ہوتا۔ کیوں کہ قومی فوج کا کام ملک کا دفاع کرنا ہوتا ہے۔ ملک پر جارحیت کے وقت دشمن کو منہ توڑ جواب دیا جاتا ہے۔ ملکی سالمیت اور قومی آزادی بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر مذہبی اقدار اور اپنے ملک اور لوگوں کی حفاظت کی جاتی ہے۔ کابل حکومت کے مسلح افراد مذکورہ صفات کے برعکس برتاؤ کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی تمام طاقت اور کوشش افغانستان پر امریکی قبضہ برقرار رکھنے کے لیے وقف کر رکھی ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*