دھمکی کمزوری کی علامت ہے

آج کی بات

 

امارت اسلامیہ کی قیادت میں مضبوط جہادی مزاحمت نے جارحیت پسندوں اور کٹھ پتلی حکومت کو بوکھلا دیا ہے۔ دشمن نے اپنی کمزوری اور شکست چھپانے کے لیے مجاہدین کے خلاف پروپیگنڈا تیز کر دیا ہے۔ انتظامیہ کی کوشش ہے کہ افغان عوام کی مزاحمت اور یہ تاریخی معرکہ پڑوسی ملک کا کارنامہ باور کرایا جائے۔ مضحکہ خیز بات تو یہ ہے کہ دشمن نے ایک بار پھر مجاہدین کو مذاکرات کی راہ اپنانے یا سنگین نتائج کی سزا بھگتنے کی دھکمیاں دی ہیں۔ دشمن خیال کرتا ہے کہ مجاہدین ان دھمکیوں سے مرعوب ہو کر اپنی جائز مزاحمت سے دست بردار ہو جائیں گے۔ وہ دین و ملک کے دشمن کے سامنے سر جھکانے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔

بے وقوف دشمن کا خیال ہے کہ وہ ان باتوں سے مجاہدین کو ڈرا کر مزاحمت ترک کرنے پر مجبور کر سکے گا۔ اگر ایسا ہی ہوتا تو پھر ہم مادہ پرست دنیا میں مضبوط دشمن امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جارحیت کے خلاف مزاحمت شروع کرنے کی جرأت نہ کرتے۔ مجاہدین نے گزشتہ سولہ برس کے دوران دشمن کے ہر قسم کے خوف و دہشت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔ گھر کی تباہی اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کی ہیں۔ شہادت کا اعزاز فخر سے قبول کیا ہے۔ اسلام اور مسلمان قوم کے دفاع کے لیے سب کچھ برداشت کیا ہے۔ تمام چیلنجز اور خطرات کو قبول کیا لیکن اسلام اور ملک کے دشمنوں کے سامنے سر جھکایا اور نہ ہی اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ کیا۔ مجاہدین زندگی کی تمام تر سہولتوں کو قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔ وہ سر جھکانے کی بدنامی قبول نہیں کریں گے۔

مجاہدین ماضی کے مقابلے میں اب بہت مضبوط ہو چکے ہیں۔ افغانستان کے آدھے حصے پر حکمرانی کر رہے ہیں۔ ان کے زیرکنٹرول علاقوں میں لوگ پرامن زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کابل انتظامیہ کے زیرتسلط علاقوں کی طرح چوری، ڈکیتی کی واردات، قتل و غارت گری کے المناک واقعات، اخلاقی اور مالی کرپشن کی داستانیں، تعصب، نفرت اور اسلامی اقدار کی پامالی اور قومی مفادات کی نیلامی جیسے مسائل نہیں ہیں۔ لوگ امارت اسلامیہ کی اسلامی حکومت کی عمل داری سے نہایت خوش ہیں۔ ان کے مسائل بروقت اور انصاف کے مطابق حل ہوتے ہیں۔ مجاہدین عوام کے روحانی فوائد کے تحفظ کے ساتھ ملکی ترقی کے لیے بھی پر عزم ہیں۔ ہسپتالوں، پلوں، سڑکوں ،اسکولوں، مدارس اور شہروں کی تعمیرنو کے لیے بھی قابل قدر اقدامات کر رہے ہیں۔

دشمن مجاہدین کو جتنی بھی دھمکیاں دے اور ان کے خلاف پروپیگنڈا کرے، لیکن مجاہدین اپنے دین و ملک کے دفاع کو ترجیح دیں گے۔ وہ دشمن کے پروپیگنڈے کی پروا کیے بغیر اپنے مشن پر عمل پیرا ہیں۔ عوام مجاہدین کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ مجاہدین عوام کی خدمت اور اپنی مقدس جدوجہد کے لیے اتنے پرعزم ہیں کہ اس راہ میں جان و مال سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*