مجاہدین کی ممکنہ پھانسی کے متعلق ترجمان کا بیان

اطلاعات کے مطابق اتوار کےروز سے کابل انتظامیہ کے حکام نے بعض قیدیوں کو  جن کا تعلق مجاہدین سے ہیں، پل چرخی جیل میں اپنے کمروں سے نکال دیےہیں  اور  کہا جارہا ہے کہ انہیں پھانسی دی جائیگی۔

یہ کہ  امریکہ جنگی حکمت عملی سے اپنے مطلوبہ اہداف کو حاصل کرنہ سکے، اب اپنے غلاموں کو ایسے اعمال انجام دینے کی ہدایت دی ہے،جو ملک کی موجودہ جنگی صورتحال میں  مزید شدت اور تیزی  لانے کا سبب بنتا ہے۔

ہم اپنے قیدیوں کے متعلق ایک بار پھر تنبیہ دیتے ہیں کہ ان کیساتھ ہرقسم کی غیرقانونی عمل کا شدید ردعمل ہوگا اور اس کی ذمہ داری کابل انتظامیہ کے سیکورٹی اور عدالتی حکام پر ہوگی۔

کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ایسے اعمال کی کوئی عدالتی اور قضائی جواز ہے اور نہ ہی کابل رژیم کے عدالتی اور  قضائی اداروں کو  قانونی لحاظ سے اس کی صلاحیت ہے۔

جو اعمال قیدیوں کے حوالے سے کیا جاتا ہے، وہ رژیم کی فوجی، سیکورٹی اور عدالتی اداروں کے حکم اور رژیم کے دیگر  اداروں کی مرضی سے انجام ہونگے اور ہمارے ردعمل کا ہدف بھی یہی ادارے ہونگے۔

امارت اسلامیہ اس حوالے سے کابل انتظامیہ کو متنبہ کرتی ہے کہ اگر مجاہدین کو شہید کرنے کی جرائت کی، تو ہم احسن طریقے سے اپنے مظلوم شہداء کا انتقام تم سے لیں گے۔

اوراس سلسلے میں ہمارے پاس موجود ملکی اور غیرملکی قیدیوں کو ہماری عدالتوں کی جانب سے ہرقسم کی سزا دی گئی ، جو  قیادت کے حکم سے مستثنی  ہوئی، تو اس کی ذمہ داری کابل انتظامیہ پر ہوگی۔

عالمی انسانی تنظیموں اور رفاعی اداروں کو امارت اسلامیہ بھی متوجہ کرتی ہے کہ سیاسی اور جنگی قیدیوں کے خلاف امریکہ اور کابل انتطامیہ کے خوفزدہ حکام کو لگام لگا دیں ،تاکہ مظلوم قیدیوں کو جن کا حالیہ واقعات سے کوئی تعلق نہیں ہے،  انہیں شہید نہ کریں۔

ذبیح اللہ مجاہد ترجمان امارت اسلامیہ افغانستان

19/ جمادی الاول 1439 ھ بمطابق 05/ فروری 2018 ء

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*