دشمن جعل سازی سے اپنی شکست چھپاتا ہے

آج کی بات

 

قابض دشمن اور کٹھ پتلی حکومت بے بسی چھپانے کے لیے وقتا فوقتا اپنی قوت کئی گنا بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہے۔ تاہم کابل میں مجاہدین کی حالیہ کارروائیوں نے دشمن کی بے بسی اور کمزوری کو بے نقاب کر دیا ہے۔ دشمن کابل میں خود کو محفوظ نہیں رکھ سکتا۔ وہ صوبوں میں مجاہدین کے کامیاب حملوں سے کیسے بچ پائے گا؟

وزارت داخلہ پر حالیہ حملے میں دشمن کی طرف سے شہریوں کی ہلاکتوں کے تازہ ترین اعداد و شمار اور شائع ہونے والی تصاویر کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ زرخرید میڈیا اور بے ضمیر صحافیوں نے دیگر ممالک کے پرانے واقعات کی تصاویر شائع کر کے یہ تأثر دیا ہے کہ گویا "یہ اس حملے کی تازہ ترین تصاویر ہیں۔ جن میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ کتنے عام شہری اس حملے میں نشانہ بن چکے ہیں۔” اس جعل سازی سے دشمن نے رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ چوں کہ یہ حملہ اچانک اقدام نہیں تھا، بلکہ مجاہدین نے حکومت میں شامل تعاون کرنے والے رابطہ کار افراد کی رہنمائی سے حملے کے لیے اس جگہ اور اس وقت کا تعین کیا اور معلومات مکمل ہونے کے بعد مذکورہ سرکاری عمارت کو نشانہ بنایا تھا۔

حملے کے پہلے چند گھنٹوں کے دوران بی بی سی اور کچھ دیگر ذرائع ابلاغ نے رپورٹ شائع کی کہ حملہ حکومت کے مخصوص عسکری مرکز پر کیا گیا ہے، مگر بعد ازاں ان رپورٹوں کو حذف کر دیا اور حکومت کے ترجمان کے اعلامیے کے مطابق اس حملے میں بڑے پیمانے پر خود ساختہ شہریوں کی ہلاکتوں کی رپورٹ شائع کر دی۔

امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے عوام کی حفاظت کی خاطر لازوال قربانیوں کی بدولت عالمی استعمار کی جارحیت کے خلاف مزاحمت کا محاذ منظم اور فعال کر رکھا ہے۔ وہ کیسے اپنے ہی عوام کے خلاف اقدامات کریں گے؟ دشمن کی سازشوں کو سمجھنا ہوگا۔ دشمن مختلف ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے، تاکہ وی جاری مزاحمت کا راستہ روک سکے۔ امارت اسلامیہ کی قیادت میں عوامی مزاحمت نے دشمن کے تمام منصوبوں کو ناکام بنایا اور دنیا پر قبضہ کرنے کے لیے امریکی سیاست کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ کھڑی کی ہے۔

دشمن نے اپنی شکست چھپانے اور عوام کی آنکھوں میں دھول جونکنے کے لیے جعل سازی اور پروپیگنڈے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ دشمن نے وزارت داخلہ پر حالیہ حملے کی وجہ سے وسیع پیمانے پر شہری ہلاکتوں کا الزام مجاہدین پر لگایا ہے۔ دشمن نے شام، یمن اور افغانستان میں قابض افواج کے فضائی حملوں میں نشانہ بننے والے شہریوں کی تصاویر شائع کر کے یہ تأثر دیا کہ تصاویر میں دکھائی دینے والے زخمی یا ہلاک افراد وزارت داخلہ پر حملے میں ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

کابل حکومت کی جعل سازی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ کچھ عرصہ قبل بھی صوبہ غزنی میں داعش سے منسوب کچھ پمفلٹ تقسیم کیے گئے تھے۔ جس میں امارت اسلامیہ کو دھکمیاں دی گئی تھیں۔ ان پمفلٹس کی خبر سب سے پہلے عسکری ترجمان دولت وزیری نے دی اور اس کے بعد میڈیا نے بھرپور پروپیگنڈا کیا۔ اسی طرح دشمن وقتا فوقتا مجاہدین کے اندر خود ساختہ اختلافات کا پروپیگنڈا بھی کرتا رہتا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*