زرخرید میڈیا حقائق توڑ مروڑ کر پیش کرتا ہے

آج کی بات:

 

گزشتہ دنوں کابل کے حساس علاقے میں واقع وزارت داخلہ کے دفتر پر حملہ ہوا۔ میڈیا نے جو ویڈیو فوٹیج اور تصاویر شائع کیں، وہ زیادہ تر جعلی تھیں۔ زرخرید میڈیا نے قابض استعمار اور کٹھ پتلی حکومت کی ہدایت پر کار بم فدائی حملے کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ہلاک سکیورٹی اہل کاروں کو عام شہری باور کرانے کی کوشش کی تھی۔

اگر قارئین کابل حملے کے بعد میڈیا پر شائع ہونے والی تصاویر کو گوگل میں سرچ کریں تو انہیں بخوبی معلوم ہوگا کہ میڈیا نے شام اور عراق کی جنگ میں ہلاک اور زخمی ہونے والے شہریوں کی پرانی تصاویر شائع کر کے رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

اس کے علاوہ میڈیا نے وہ تصاویر بھی شائع کیں، جو گزشتہ سال شیعہ آبادی کے مظاہرے پر داعش نے حملہ کر کے درجنوں افراد کو ہلاک اور زخمی کیا تھا۔ میڈیا نے پرانی تصویریں شائع کر کے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی ہے۔

امارت اسلامیہ کے ترجمان نے اعلان کیا کہ وزارت داخلہ پر حملے کا ہدف عام لوگ کو نشانہ بنانا نہیں تھا، بلکہ فوج اور پولیس کے ان اہل کاروں کو نشانہ بنانا مقصد تھا، جو ہر روز وزارت داخلہ کے پرانے دفتر میں جمع ہوتے تھے۔

بی بی سی انگلش نے پہلے چند گھنٹے کے دوران یہ رپورٹ شائع کی کہ "حملے میں فوجیوں اور سکیورٹی اہل کاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔” بعد ازاں جب امریکی فوج نے دھمکی دی تو بی بی سی نے رپورٹ تبدیل کر کے یہ پروپیگنڈا کیا کہ "حملے میں عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔”

پچھلے ہفتے انٹرکانٹی نینٹل ہوٹل پر جو حملہ ہوا، جس میں بھاری جانی نقصان امریکا اور دیگر قابض ممالک کے شہریوں کو ہوا۔ یہ حقیقت سب پر واضح ہو گئی کہ اس ہوٹل پر مجاہدین نے حملے کے دوران صرف غیرملکی فوجیوں اور اعلی حکام کو نشانہ بنایا تھا۔  جب کہ افغان شہریوں کو کچھ نہیں کیا گیا۔ عینی شاہدین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فدائی مجاہدین نے ہم سے پوچھا کہ غیرملکی کہاں ہیں؟ آپ مسلمان اور یہاں کے باشندے ہیں۔ آپ کو نہیں مارا جائے گا۔ ہم صرف غیرملکیوں کو تلاش کر رہے ہیں۔

افغان عوام دشمن کی چالوں کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ دشمن کے پروپیگنڈے پر کان نہ دھریں۔ کیوں کہ قابض دشمن اپنی تاریخی شکست اور ذلت چھپانے کے لیے اس قسم کے زہریلے اور منفی پروپیگنڈے کا سہارا لے رہا ہے،  تاکہ رائے عامہ کو مجاہدین کے خلاف گمراہ کیا جائے۔ یہ بھی دشمن کی ناکام کوشش ثابت ہوگی۔ عوام مجاہدین کو بخوبی اور قریب سے جانتے ہیں۔ ان پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ ان کی جان و مال کے تحفظ کے لیے دشمن کے خلاف برسرپیکار ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*