امریکہ جنگ میں شدت لانے کے ناکام تجربے کو دہرا رہا ہے

چندروز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنےسالانہ خطاب میں کہا کہ طالبان کیساتھ امن مذاکرات نہیں کرینگے۔ ایسی حالت میں امریکی فوجیوں، ٹینکوں اور طیاروں نے ہماری سرزمین کو قبضہ کرلی ہے، سولہ سالوں سے افغان عوام کو قتل ،  افغانوں کے گاؤں اور گھروں پر بمباری کی جارہی ہے، لیکن اس کے باوجود مجاہدین کو موردالزام ٹہراتے ہیں، کہ امریکی غاصبوں کے خلاف کیوں لڑرہے ہیں !!

وطن عزیز میں بیرونی افواج کی موجودگی نہ صرف افغان عوام کے نظریے اور عقیدے کے خلاف ہیں، بلکہ عالمی قوانین کی رو سے بھی ناجائز عمل ہے، یہ بات وقتافوقتا ان منصف مغربی سیاستداروں اور لکھاریوں نے بھی  کی ہے، جنہیں اقوام کی خودمختاری پر یقین ہے۔

امارت اسلامیہ جنگ کو حل کی واحد راہ نہیں سمجھتی، مگر ملک کی آزادی کے حصول اور خودمختار اسلامی نظام کے قیام کے لیے دیگر معقول طریقے نہ ہونے کی صورت میں جہاد اور مزاحمت کے علاوہ کوئی اور انتخاب نہیں ہے۔

لیکن استعمار ایسی حالت میں مجاہدین سے جنگ لڑ رہی ہے،کہ غاصب  دن رات مجاہدین اور سویلین پر بمباریاں کررہا ہے، ان کے گھروں پر چھاپے مار رہے ہیں اور  انہیں عقوبت خانوں میں ڈال رہے ہیں !! مسلح اور غیرمسلح مجاہدین میں تفریق نہیں کرتا اور اپنے اینٹلی جنس اور فوجی افراد کو صرف اس بہانے غیرمسلح سمجھتے ہیں ، کہ ان کے ہاتھوں میں اسلحہ ہوتی اور نہ ہی وہ فوجی لباس میں ملبوس ہوتے ہیں!

جب تک جنگ میں ملوث جانبین جنگ بندی پر  رضامندی اختیارنہ کریں، مجاہدین سے جنگ کرنے کا توقع نہ رکھے۔  جنگ بندی کے لیے جنگ کی اصل وجہ جارحیت کو ختم کرنا چاہیے،  موجودہ مصائب اور بحرانوں کا خاتمیہ کرنے کے لیے واحد راہ منطق اور عقل کو رجوع کرنا ہے۔ ظلم اور طاقت کا بول بولنا لڑائی ختم کرنے کا طریقہ نہیں ہے،اس بات کو جارحیت سے قبل امارت اسلامیہ نے استعمار کوبتائی تھی، مگر  انہوں نے  ماننے سے انکار کیا اور نتیجہ میں بھی مشاہدہ کرلی۔امارت اسلامیہ ایک بارپھر قابل یادآوری سمجھتی ہے کہ افغان مسئلے کا حل طاقت، ظلم اور جنگ نہیں ہے، بلکہ ہوش،عقل اور افغان عوام کی خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے حل ہوسکتا ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*