عوامی مزاحمت کے ثبوت کی دلیل

آج کی بات

 

ٹرمپ کی نئی پالیسی کے اعلان کے بعد افغان قوم کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ ہر رات مختلف علاقوں میں سول آبادی پر چھاپے مارے جاتے ہیں۔ ڈرون اور فضائی حملے ہو رہے ہیں۔ نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بالخصوص ان علاقوں کو ہدف بنایا ہوا ہے، جہاں امارت اسلامیہ کا مکمل کنٹرول قائم ہے۔

قابض امریکی فوجیوں نے ہلمند کے ضلع دیشو کے علاقے ’رباط‘میں ایک مارکیٹ پر بمباری کر کے درجنوں دکانوں کو تباہ کر دیا۔ گاڑیوں کو جلا دیا۔ جانی نقصان کے بارے میں اب تک اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔ اس واقعے سے تین دن پہلے صوبہ قندھار کے ضلع میوند کے علاقے ’بندتیمور‘میں قابض امریکی اور کٹھ پتلی فورسز نے چھاپے کے دوران بڑے پیمانے پر مقامی آبادی پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے۔ جارحیت پسندوں اور اجرتی فورسز نے 31 شہریوں کو بہیمانہ طریقے سے شہید کیا۔ درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا۔ 40 گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو جلا دیا۔ اس کے بعد ظالم دشمن نے دعوی کیا کہ اس کارروائی میں 50 مجاہدین شہید ہوئے ہیں۔ حملہ آوروں نے تسلیم کیا کہ ٹرمپ کی نئی جنگی حکمت عملی کے اعلان کے بعد اگست 2017 سے دسمبر تک افغانستان میں 2000 حملے کیے گئے ہیں۔

قارئین اندازہ کر سکتے ہیں کہ ان حملوں میں عوام کو کتنا جانی اور مالی نقصان پہنچا ہوگا!؟ اشرف غنی امارت اسلامیہ کے زیرکنٹرول علاقوں میں رہنے والے عوام کا کوئی خیال رکھنے کو تیار نہیں ہیں۔ میڈیا بھی اس حوالے سے کوئی رپورٹ شائع کرتا ہے اور نہ ہی انسانی حقوق کی تنظیمیں اس کے خلاف آواز بلند کرتی ہیں۔

قابض دشمن اور کٹھ پتلی حکمرانوں نے امارت اسلامیہ کے زیرکنٹرول علاقوں میں شہریوں کا خون نیلام کر دیا ہے۔ دشمن کا طریقۂ واردات یہ ہے کہ وہ جہاں بھی شہریوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بناتا ہے تو فورا اعلان کرتا ہے کہ اس کارروائی میں اتنے مجاہدین مارے گئے۔ دشمن کے ان اعلانات سے ثابت ہوتا ہے کہ افغان عوام ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہو گئے ہیں۔ اب عوامی مزاحمت مزید تیز ہو گئی ہے۔ اس لیے دشمن نے عام شہریوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کر رکھا ہے۔وہ  بلاتمیز سب کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی پالیسی پر گامزن ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*