امن کونسل کے اسٹیج پر اعلانِ جنگ

آج کی بات

 

کابل انتظامیہ کے کٹھ پتلی صدر نے گزشتہ دنوں امن کونسل کے اسٹیج پر کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ ’مذاکرات صرف ان لوگوں کے ساتھ کریں گے، جو ان کے سامنے ہتھیار ڈال دیں۔ اس کے علاوہ کسی سے مفاہمت نہیں کی جائے گی۔‘

یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ امریکا نے اشرف غنی اور مخلوط حکومت اپنے طویل المدت مقاصد کے لیے افغانستان میں جنگ کو دوام بخشنے کے لیے افغان عوام پر مسلط کیا ہے۔ جنگ جاری رکھنے کے لیے اشرف غنی اور کٹھ پتلی حکومت امریکی پالیسی پر گامزن ہے۔

اسی طرح امریکا کی یہ بھی کوشش ہے کہ خاص طور پر اشرف غنی کے اسلام دشمن اقدامات کے تحت چند ڈرامائی اقتصادی منصوبوں کے پروپیگنڈے کے ذریعے افغان عوام کے دینی وقار اور ملی اقدار پر کاری ضرب لگائی جائے۔ افغان عوام کے جہاد اور مزاحمت کے قابل فخر کارناموں کو ہمسایہ ملک کی جھولی میں ڈال دیا جائے۔ ، وہ یہ تأثر دینا چاہتا ہے کہ افغان عوام میں اتنی ہمت اور جذبہ نہیں ہے کہ وہ ہمسایہ ملک کے تعاون کے بغیر قابض دشمن اور کٹھ پتلی حکومت کے خلاف مزاحمت کر سکے۔ بلکہ یہ تو پاکستان ہے، جس نے افغانستان میں سپرپاور امریکا کے خلاف غیراعلانیہ جنگ میں اسے شکست دی اور افغان عوام کو مزاحمت پر اکسایا ہے۔

اسی طرح امریکا نے اپنے عوام کو قائل کرنے کی کوشش کی ہے کہ امریکی فوجیوں کا خون رائیگاں نہیں گیا ہے۔ اس کی جدوجہد بارآور ثاہت ہو رہی ہے۔ امریکا نے افغانستان کے اقتدار پر ایک ایسے شخص کو براجمان کر رکھا ہے، جو نام اور عنوان کے اعتبار سے تو افغان ہے، لیکن عمل اور باطن میں منسوخ شدہ عیسائیت کا وفادار ہے۔اس وفاداری کی واضح دلیل یہ ہے کہ اشرف غنی کی اہلیہ ایک متحرک عیسائی خاتون ہے۔

افغانستان کی تاریخ میں چرچ نہیں دیکھا گیا ہے، لیکن اشرف غنی نے ایوان صدر میں اپنی اہلیہ کے لیے چرچ بنایا ہے۔ لہذا جب ایک شخص اتنا عیسائیت نواز اور امریکا کا وفادار ثابت ہوتا ہے تو اس کے دل میں مظلوم افغانوں کے لیے نجات اور مقدس دینی اقدار کے تحفظ کا خیال کہاں ہوگا؟ اگر اشرف غنی پرامن ملک اور عوام کی خوش حالی کا ہمدرد دل میں رکھتے تو وہ ہرگز مفادِ عامہ کے خلاف امن کونسل کے اسٹیج سے اپنے مخالفین کو للکارنے اور انہیں چیلنج نہ کرتے۔ وہ دھکمیاں دینے کے بجائے اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے امن، مذاکرات اور افہام و تفہیم کی بات کرتے۔ کیوں کہ امن کونسل کی بنیاد اسی لیے رکھی گئی ہے۔

اشرف غنی کے حالیہ خطاب اور دھمکیوں سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے اپنے آقا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے امن کونسل کا اسٹیج بھی اعلان جنگ کے لیے استعمال کیا۔ وہ اپنے فرائض اور ذمہ داریاں اُس امن کے لیے ادا کرتے ہیں، جو امریکا کی ہے۔ امریکا اور اس کے کارندوں کو سمجھنا چاہیے کہ وہ افغانستان میں جاری جنگ بزور طاقت نہیں جیت سکتے۔ یہ عقل میں آنے والی بات نہیں ہے کہ ہزاروں کلو میٹر دور واقع ایک ملک میں ہزاروں قابض فوجی ہر روز عوام پر جدید ٹیکنالوجی کا تجربہ کریں۔ جواب میں وہ وہ یہ توقع بھی رکھیں کہ ان کے خلاف عوام بغاوت نہ کریں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*