افغانستان بھر میں کامیابی کی نئی لہر

آج کی بات

وطن عزیز میں قابض دشمن اور کٹھ پتلی حکومت پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بہادر مجاہدین نے افغانستان بھر میں متعدد علاقوں پر اپنا کنٹرول قائم کیا ہے۔ بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا ہے اور مختلف علاقوں میں دشمن کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔ سردیوں کے موسم میں عام طور پر جنگ کی شدت میں کمی آجاتی ہے، لیکن اس سال سردی کے موسم میں بھی مجاہدین نے دشمن کے خلاف اپنے جارحانہ حملوں کا سلسلہ بدستور جاری رکھا ہوا ہے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مجاہدین کی کامیابیوں کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں :

صوبہ اروزگان کے ضلع چورہ کے علاقے قلعہ راغ میں گزشتہ رات 11 بجے کٹھ پتلی فورسز کے فوجی اڈے پر مجاہدین نے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں فوجی اڈہ مکمل طور پر فتح اور اس میں 3 اہل کار ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔ جب کہ دو امریکی رائفلز، ایک راکٹ اور بھاری مقدار میں گولہ بارود اور اسلحہ غنیمت میں ملا۔

صوبہ ہلمند کے ضلع مارجہ کے قریب تریخ ناور کے علاقے میں گزشتہ رات سات بجے سنگوری ملیشیا کے اہل کاروں کے ایک مرکز پر مجاہدین نے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں مذکورہ مرکز فتح اور اس میں 6 اہل کار ہلاک ہوئے۔ جب کہ 3 رائفلیں، ایک راکٹ اور مختلف النوع ہتھیار ضبط کیا گیا۔ امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے صوبہ غزنی کے ضلع دہ یک میں سلیمان زئی کے علاقے میں کٹھ پتلی فورسز کے کانوائے پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں صبح 8 بجے جھڑپیں شروع ہوئیں، جو رات گئے تک جاری رہیں۔ جس میں دشمن کے دو ٹینک تباہ، 7 اہل کار ہلاک اور 8 زخمی ہوئے۔ جس کے بعد دشمن نے علاقے پر بمباری کر کے ایک مجاہد اور ایک شہری کو شہید، جب کہ متعدد افراد کو زخمی کر دیا۔

صوبہ ہلمند کے ضلع ناوہ کے علاقے ٹانگان گودر میں مجاہدین نے سرکاری فورسز کی دو چوکیوں پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں دونوں چوکیاں فتح اور ان میں موجود 12 اہل کار ہلاک ہوگئے۔ مفتوحہ چوکیوں میں دشمن سے 2 راکٹ، 7 رائفلیں،ہزاروں راؤنڈز اور اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔ صوبہ فاریاب کے ضلع شیرین تگاب کے علاقے فیض آباد میں جنرل مالک کے اہم دفتر ’’حزب آزادی‘‘ پر امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں مذکورہ دفتر مکمل طور پر فتح اور اس میں دو بندوقیں، دو راکٹ لانچر، 4 رائفلیں، ایک بم افگن، 2 سیٹلائٹ، تین ہزار کلاشنکوف کے راونڈز، 80 راکٹ کے گولے اور بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا گیا۔

صوبہ پکتیکا کے ضلع یوسف خیل کے علاقے خربین میں کٹھ پتلی فورسز پر مجاہدین نے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک ٹینک اور ایک فوجی گاڑی تباہ، تین اہل کار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔ صوبہ بادغیس کے دارالحکومت قلعہ نو کے قریب کٹھ پتلی فورسز کے کانوائے پر مجاہدین نے حملہ کیا۔ ایک گھنٹے تک فریقین کی جانب سے فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا۔ اس جھڑپ میں دشمن کے 3 اہل کار ہلاک اور زخمی ہوئے۔

دشمن نے حال ہی میں بمباری اور چھاپوں میں شدت لائی ہے، لیکن نہ صرف پیش رفت نہیں کی ہے، بلکہ برعکس متعدد علاقے ان کے کنٹرول سے نکل گئے ہیں۔ وہ مسلسل شکست کا سامنا کر رہا ہے۔ دشمن نے اپنی شکست چھپانے کے لیے مجاہدین کے خلاف پروپیگنڈا تیز کر دیا ہے، تاکہ اپنے اہل کاروں کا مورال بلند رکھ سکے۔ جب کہ عملی میدان میں دشمن کو کسی طرح کی کوئی کامیابی نہیں ملی ہے۔ کٹھ پتلی فورسز مسلسل پسپا ہو رہی ہیں۔ مجاہدین نے پیش قدمی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*