مساجد و مدارس گرا کر دشمن کیا پیغام دیتا ہے؟

آج کی بات

 

تازہ ترین خبر یہ ہے کہ قابض امریکی اور کٹھ پتلی فورسز نے مشترکہ کارروائی کے دوران ننگرہار کے ضلع شیرزادو کے علاقے مرکی خیل شنڈی توت میں ایک مدرسے پر چھاپہ مارا۔ طالب علموں اور اساتذہ کو ہراساں کیا گیا۔ انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جب کہ مدرسے کا نصف سے زائد حصہ بموں سے اڑا  کر مسمار کر دیا۔

واضح رہے یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی ایسے متعدد الم ناک واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ قابض اور کٹھ پتلی فورسز کی جانب سے دینی مدارس پر چھاپوں کے دوران طلباء کو ہراساں کرنا، ان پر تشدد کرنا، خوف وہراس پھیلانا اور معصوم طالب عملوں کو شہید کرنا ایک معمول بن چکا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ننگرہار کے ضلع خوگیانو کے علاقے ٹٹنگ میں ایک دینی مدرسہ مسمار کر دیا۔ تین طالب علموں کو شہید اور متعدد طلبہ کو زخمی کیا گیا۔ تقریبا دو ماہ قبل بھی قابض اور کٹھ پتلی فورسز نے صوبہ میدان وردگ کے ضلع نرخ میں ایک مدرسے پر چھاپہ مارا۔ 16 نوجوان طالب علموں کو بے دردی کے ساتھ شہید کیا گیا۔ جب کہ مختلف علاقوں میں اس طرح کے الم ناک واقعات وقتا فوقتا رونما ہوتے رہتے ہیں۔

افغانستان کے کونے کونے میں شہریوں کے گھروں اور دیہاتوں پر دشمن کی جانب سے وحشیانہ فضائی حملے اور نہتے شہریوں کے جان و مال کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کے علاوہ مساجد اور دینی مدارس پر چھاپے مارنا، بمباری کرنا قابض دشمن کا معمول اور مشغلہ بن چکا ہے۔ قابض اور کٹھ پتلی دشمن میدان جنگ میں بدترین شکست سے دوچار ہے۔ وہ مجاہدین کی پیچیدہ اور خطرناک جنگی حکمت عملی کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔ کابل میں حالیہ پے در پے حملوں نے دشمن کی بے بسی، افراتفری اور بد نظمی کا چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔

اسی وجہ سے بے رحم اور بزدل دشمن نہتے اور مظلوم شہریوں سے بدلہ لینے کے لیے ان پر سفاکانہ حملے کر رہا ہے۔ دیہاتوں اور دکانوں کو دن رات نشانہ بنا رہا ہے۔ علاوہ ازیں قابض دشمن باطن میں چھپی کفر کی غلاظت اور اسلام کے ساتھ دشمنی کو ظاہر کرنے کے لیے خاص طور پر مدارس اور مساجد کو نشانہ بنا رہا ہے۔ وہ بظاہر یہ دعوی کرتا ہے کہ مجاہدین کے خلاف ان کی جنگ اسلام اور اسلامی عقائد و نظریات کی وجہ سے نہیں ہے۔ وہ اسلام اور اسلامی علوم کے طالب علموں اور عبادت گزار لوگوں کے خلاف نہیں ہیں، لیکن حقیقت میں ان کا یہ دعوی جھوٹ پر مبنی ہے۔ عملی میدان میں انہوں نے اپنا یہ دعوی غلط ثابت کیا ہے۔ اب یہ حقیقت آہستہ آہستہ واضح ہو رہی ہے۔ مدارس اور مساجد کو نشانہ بنانا اور مسمار کرنا واضح پیغام دیتا ہے کہ وہ اسلام اور اسلام کے مخلص پیروکاروں کے ساتھ ازلی دشمنی اور عداوت رکھتے ہیں۔ وہ مساجد میں نماز پڑھنے والے دین دار مسلمانوں اور دینی مدارس میں اسلامی تعلیمات حاصل کرنے والے طالب علموں کا ازلی دشمن ہے۔

کٹھ پتلی حکمران کہتے ہیں کہ دینی مدارس کے طلبہ ملک کے اندر کیوں تعلیم حاصل نہیں کرتے؟ وہ دینی علوم کے حصول کے لیے ملک سے باہر کیوں جاتے ہیں؟ ملک کے اندر کٹھ پتلی حکومت کا کردار عوام کے سامنے ہے۔ قابض استعماری قوتوں کی نگرانی میں کٹھ پتلی فورسز کے اہل کار رات کی تاریکی میں یا دن دیہاڑے دینی مدارس میں معصوم طالب عملوں کو مجاہدین کے نام پر نشانہ بناتے ہیں۔ ان پر تشدد کرتے ہیں۔ انہیں حراست میں لیتے ہیں۔ مدارس کی دیواروں کو بموں سے اڑا کر مسمار کرتے ہیں۔

ایسے شرم ناک اقدامات سے ثابت ہوتا ہے کہ قابض دشمن اور کٹھ پتلی فورسز کی کارروائیاں افغانستان پر قبضہ برقرار رکھنے کے علاوہ مجاہد افغان عوام کے عقائد، مذہب اور ثقافت کو ختم کرنے کے لیے جاری ہیں۔

 

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*