دشمن شہریوں اور املاک کو نشانہ بنا رہا ہے

آج کی بات

بدقسمتی سے حال ہی میں حملہ آوروں اور کٹھ پتلی حکومت نے ایک بار پھر شہریوں، ان کے گھروں، دکانوں اور عام افادیت کے منصوبوں کو تباہ کرنے کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران مختلف علاقوں میں دشمن نے فضائی حملوں اور بڑے ہتھیاروں کے آزادانہ استعمال سے خواتین اور بچوں سمیت درجنوں عام شہریوں کو شہید اور زخمی کیا اور بہت سے شہریوں کے گھروں، دکانوں اور فصلوں کو تباہ کر دیا ہے۔

کچھ عرصہ قبل تخار کے اضلاع خواجہ بہاؤالدین، جنگی قلعہ اور درقد کے لوگوں نے اپنی ضروریات زندگی پوری کرنے کے لیے درقد کے علاقے شور عرب میں ’عمری‘ نام سے ایک بازار کی بنیاد رکھی، جس میں ہزار دکانوں، کلینکس، اسکولوں، مدارس اور پارک کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری تھا ۔ سیکڑوں دکانوں کو تعمیر کیا گیا تھا۔ اس علاقے میں امارت اسلامیہ کے مجاہدین کی کوششوں سے امن قائم کرنے کے بعد علاقے کے عوام نے شہر بسانے پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا اور اس میں دل چسپی ظاہر کرتے ہوئے سرمایہ کاری کی تھی۔ بدقسمتی سے دشمن نے ہمیشہ ملکی ترقی اور تعمیرنو کے جھوٹے وعدے اور دعوے کیے ہیں۔ کٹھ پتلی حکومت کی فورسز نے علاقے میں اس واحد خوب صورت شہر کو تباہ کر دیا ہے۔ شہر کا مرکزی چوک اور عوام کی دکانوں کو مسمار کر دیا گیا ہے۔

امارت اسلامیہ نے دشمن کی جانب سے شہری املاک کو تباہ کرنے پر مذمت کی اور واضح کیا کہ:

’امارت اسلامیہ دشمن کے اس بزدلانہ اقدام کی شدید مذمت کرتی ہے۔ یہ کٹھ پتلی حکومت کی بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے۔ اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ کابل انتظامیہ کی بنیاد امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے رکھی گئی ہے۔ جن جرائم کی ہدایت قابض استعماری قوتوں کی جانب سے دی جاتی ہے، وہ اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی کوشش کرتی ہے۔ اگر کابل حکومت عوام کی منتخب نمائندہ حکومت ہوتی تو عوام کے سرمائے سے قائم شہر کو مسمار اور تباہ کرنے کی پالیسی پر ہرگز عمل درآمد نہ کرتی۔ کیوں کہ اس بازار کا فائدہ صرف عوام کو ہی تھا۔ عوام کی رقم سے قائم بازار کو مسمار کرنے کے جرم کا کیا مطلب اخذ کیا جا سکتا ہے؟

علاوہ ازیں پچھلے ہفتے مختلف علاقوں میں دشمن نے متعدد شہریوں کو شہید اور زخمی کیا تھا، جن کی چند مثالیں درج ذیل ہیں:

صوبہ خوست کے ضلع علی شیر کے علاقے بٹی تانی میں اجرتی فورسز نے ایک خاندان کے 7 افراد کو شہید کر دیا، جن میں پانچ بھائی تھے۔

مشرقی صوبے ننگرہار کے ضلع شیرزادو کے علاقے مرکی خیل میں امریکی اور کٹھ پتلی فورسز نے مشترکہ کارروائی کے دوران ایک دینی مدرسے پر چھاپہ مارا۔ مدرسے کا ایک حصہ مسمار کر دیا۔ ایک معصوم طالب علم کو زخمی اور چار طالب علموں کو حراست میں لے لیا۔

ننگرہار کے ضلع خوگیانو کے علاقے زاوی میں قابض امریکی اور کٹھ پتلی فورسز نے مقامی آبادی پر چھاپے کے دوران گھروں کے دروازے بموں سے اڑا دیے۔ شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور قبائلی شخص ’ملک ایوب‘ کو شہید کر دیا۔

صوبہ فاریاب کے ضلع شیرین تگاب کے علاقے فیض آباد میں کٹھ پتلی فورسز نے مقامی آبادی پر راکٹ فائر کیے، جو گھروں کے اندر جا گرے۔ جس کے نتیجے میں دو خواتین سمیت تین افراد شہید اور دو خواتین زخمی ہوگئیں۔

ہلمند کے ضلع مارجہ میں عباداللہ قلف کے بلوچوں کے علاقے میں کٹھ پتلی فورسز نے آبادی پر بڑے ہتھیاروں سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک خاتون اور بچے سمیت پانچ افراد زخمی اور 2 افراد شہید ہو گئے۔

حملہ آوروں اور کابل کی کٹھ پتلی حکومت نے امارت اسلامیہ کے زیراہتمام علاقوں میں مقیم شہریوں کو نشانہ بنانے، ان کے گھروں، املاک اور دکانوں کو مسمار کرنے کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ جیسے یہ شہری انسان نہیں ہیں۔ ان کے خون کی کوئی قدر و قیمت ہے اور نہ ہی ان کی جائیداد کی کوئی قیمت ہے۔ دشمن اس بات پر سنجیدگی سے غور کرے کہ افغان عوام نے تاریخ کے نزدیکی دور میں انگریز سامراج اور سوویت یونین کو شکست فاش دی ہے۔ ان کے حواریوں کو بھی اپنے جرائم کی سزا دی گئی ہے۔ افغان مجاہد عوام امارت اسلامیہ کی قیادت میں قابض استعماری قوتوں کے خلاف مقدس جہاد میں مصروف عمل ہے۔ وہ اسلامی اقدار، قومی وقار، اپنے خون اور ملک کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔ جن قوتوں نے ان کی اقدار کو پامال کیا ہے، خون بہایا اور ملک تباہ کیا ہے، انہیں ضرور ان مذموم جرائم کی سزا دی جائے گی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*