روسی جارحیت سے ملک کی نجات کی 29 ویں برسی کے متعلق امارت اسلامیہ کا اعلامیہ

آج سے 29 سال قبل 15/ فروری 1988ء بمطابق 26/ دلو 1367ھش وہ روسی غاصب فوجوں نے ہمارے ملک سے  مکمل طور پر انخلاء کرلی، جو اس سے قبل عالمی سطح پر ناقابل شکست قوت تصور کی جاتی  اور اس کی کیمونزم تحریک ( انقلاب برگشت ناپذیر ) کے لقب سے مسمی تھی۔

اس تاریخی دن کے آمد کی مناسبت سے مجاہد ملت کو مبارکباد پیش کرتے ہیں  اور روسی جارحیت کے خلاف جہاد کے تمام شہداء کی روحوں کو دعاء اور مہاجرین، معذورین اور مصیبت زدہ افغانوں کو ہر تکلیف کے مقابلے میں اللہ تعالی کی دربا ر سے کامل اجروثواب کی التجاء کرتے ہیں۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ .  آمین یا رب العالمین 

خالی ہاتھ مؤمن افغانوں کے ذریعے روسی سپرپاور کی شکست جس طرح ہماری ملت کی بلند ہمت اور متین عزم کا ثمرہ تھا، اس سے قبل عزیز اور قادر ذات باری تعالی کی مطلق کامیابی کی ایسی خارق العادہ مثال تھی، جس کے ذریعے معاصر انسانیت کو بتلایا گیا کہ عزت و ذلت، عروج و زوال، کامیابی اور ناکامی تمام فیصلے اللہ تعالی کے  اختیار میں ہیں۔

مادی قوت اور ظاہری طاقت کبھی بھی ہمیشہ  قائم رہنے والی کامیابی کا سبب تصور نہیں کیا جاسکتا،  دنیا کے سپر طاقتوں کی فوجی اور مالی قوت صرف استدراجی خاصیت کی حیثیت رکھتی ہے، جس سے اللہ تعالی سرکش انسانوں کو  آزماتا ہے ، تاکہ اپنی مادی قوت پر مغرور  نہ رہے اور پھر انہیں اللہ تعالی نمرود، فرعون، کسری اور آخرکار روسی سپرپاور کی طرح عروج کی بلندی سے ذلت کے اسفل السافلین تک گراتے ہیں اور انہیں انسانیت کے لیے نصیحت کا نمونہ بناتے ہیں۔

افغانستان میں روسی غاصبوں کے عبرتناک انجام  کے تناظر میں ہم موجودہ امریکی غاصبوں کو یاد دلاتے ہیں کہ ایک لمحے کے لیے مسلّم حقائق اور تاریخی تجربات کو متوجہ ہوجائے  اور اپنی بعض فوجیوں اور کانگریس کے ان اعضاء کی  تشویش کو سنگین سمجھ لے، جو کہتے ہیں کہ ” افغانستان سلطنتوں کا قبرستان ہے، تاریخی لحاظ سے کوئی لشکر اس ملت کو شکست دینے میں کامیاب نہ ہوسکی اور ان کے خلاف ہر جارح نے شکست کھائی ہے”۔

امریکی حکومت اور منصوبہ سازحکام کو امارت اسلامیہ بتاتی ہے کہ طاقت کی پالیسی لڑائی کو طول دینا جانبین کی زیادہ خون بہانے کی باعث بن سکتی ہے،اسکے علاوہ کوئی نتیجہ نہیں رکھتی۔ ہم جنگ کو جاری رکھنے کی جگہ چاہتے ہیں کہ ہمارا مقبوضہ ملک آزاد اور خودمختار ہوجائے اور افغان عوام  اپنےدینی عقائد اور ملی اقدار کے مطابق نظام کے حامل ہو۔

تو تنازعے کی حل کے لیے امریکہ کو اپنی مرضی سے ہمارے ملک سے نکلنا چاہیے اور اگر جنگ کو دوام دیگی، تو اس کی نتیجہ ابھی سے معلوم ہے اور وہ یہ کہ روسی غاصبوں کی طرح آخرکار ذلت اور شکست کا بستر پس پشت ڈال کر فرار ہونے پر مجبور ہوجائینگے۔  وما ذالک علی اللہ بعزیز

امارت اسلامیہ افغانستان

29/ جمادی الاول 1439 ھ بمطابق 15/ فروری 2018 ء

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*