امریکی جرنیلوں کے اضافی اختیارات

آج کی بات

 

پینٹاگون نے کہا ہے کہ افغانستان میں تعینات امریکی جرنیلوں کو زیادہ اختیارات تفویض کے گئے ہیں، تاکہ وہ مجاہدین کے خلاف جنگ میں ان اختیارات کا استعمال کر سکیں۔

بعض امریکی ذرائع اور میڈیا امریکی جرنیلوں کو زیادہ اختیارات سپرد کرنے کی تشریح اور تفصیل یوں کرتے ہیں کہ ممکنہ طور پر B52  طیاروں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فضائی حملوں میں اضافہ کیا جائے۔ ادھر افغانستان میں کابل کی کٹھ پتلی حکومت اور خودمختاری کا دعوی کرنے والی انتظامیہ نے پینٹاگون کے اس اعلان کا خیرمقدم کرتے بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔ وزیر دفاع نے B52 طیاروں کے استعمال اور فضائی حملوں میں اضافہ ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ان طیاروں سے فضائی حملوں میں اضافے سے مجاہدین کو بھاری نقصان پہنچے گا اور وہ کمزور ہو جائیں گے۔

پینٹاگون اور کابل حکومت کے بے ضمیر حکام اور جرنیل بھول گئے کہ آج سے 17 سال پہلے 2001 میں امریکی صدر بش نے افغانستان پر حملہ کیا تو افغان عوام کا قتل عام اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے کے لیے بی باون طیاروں کو اہم ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے روزانہ 2 ہزار بم گرائے جاتے رہے۔ کئی برس تک ظلم و بربریت کا یہ طوفان جاری رہا۔

جب کہ اس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ بہادر افغان عوام امریکی ظلم کے خلاف مجاہدین کے تعاون اور حمایت کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ وہ جانی و مالی قربانی کے لیے کمربستہ ہو گئے۔ اسی طرح مجاہدین نے اللہ تعالی کی مدد سے امریکا، نیٹو اور کٹھ پتلی حکومت کو میدان جنگ میں بدترین شکست سے دوچار کیا۔ ان کے ہر قسم کے مذموم منصوبوں کو ناکام بنایا۔ ان کے عزائم خاک میں ملا دیے۔ افغانستان کے 80 فیصد رقبے پر اپنا کنٹرول دوبارہ قائم کیا۔

امریکی جرنیلوں اور کٹھ پتلی حکمرانوں کے لیے یہ نوشتۂ دیوار ہے کہ افغان عوام نے امریکا کے تمام مظالم برداشت کیے۔ امریکا و نیٹو کے بڑے اور تجربہ کار جرنیلوں جنگی کی بنائی گئی حکمت عملی کا بھی مشاہدہ کیا گیا۔ افغان عوام نے گزشتہ 17 برس کے دوران بی 52 طیاروں کے علاوہ کیمیائی اور خطرناک ممنوعہ ہتھیاروں،تقریبا ایٹم بم کے برابر سمجھی جانے والی بموں کی ماں، ڈرون حملوں اور دیگر خطرناک ہتھیاروں کے اندوہناک استعمال کا بھی مشاہدہ کیا ہے۔

اب 17 سال بعد ٹرمپ کی پاگل انتظامیہ اور پینٹاگون کے بے وقوف جرنیل سمجھ رہے ہیں کہ ’بی 52 طیاروں سے افغان قوم اور مجاہدین کو ڈرایا جا سکتا ہے۔ اس سے ان کے حوصلے پست ہو جائیں گے۔‘ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ٹرمپ انتظامیہ کی حماقت کی آخری علامت ہوگی۔ ان شاء اللہ تعالی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*