” افغانستان سلطنتوں کا قبرستان ہے” رکنِ امریکی کانگریس

امریکی وزیر دفاع جیمس میٹس نے 06/ فروری 2018ء کو  اراکین سینٹ سے خطاب کے دوران اس وقت عینی اور زمینی حقائق کے خلاف اظہارات کیے، جب انہیں والٹر جونز نے کہا تھا کہ ” افغانستان سلطنتوں کا قبرستان ہے "۔

اور بعد میں امریکی بحریہ کے کمانڈر چوک کولک نے اس بات کے متعلق ان سے رائے طلب کی، جو  ایک ایمیل میں کہا گیا تھا کہ "ہرکسی نے بہت جدوجہد کی ہے، لیکن کوئی افغانستان پر قابض ہونے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ ہم بھی ان اقوام کی فہرست میں آئینگے، جو اس عمل میں ناکام رہے”۔

درحقیقت جونز نے ایک سیاستدان اور جولک نے ایک فوجی کی حیثیت سے سچ بو لا،  مگر جیمس میٹس نے حقیقت اور واقعیت کو  تسلیم کرنے کے بجائے جونز سے کہا کہ "اس میں کوئی شک نہیں ہے، کہ افغانستان سلطنتوں کا قبرستان ہوگا، مگر امریکی موجودگی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ افغانستان پر  قبضہ کریں”۔

سوال یہ ہے کہ اگر یہ جارحیت نہیں ہے، تو پھر میٹس جارحیت  کسے کہتا ہے؟اگران کےملک میں کسی اور ملک کی فوجی جبراً  تعینات ہو، ان پر اپنی مرضی کا نظام مسلط کریں!  ان کے گھروں اور گاؤں پر بمباریاں کرتے رہے، عوام کو قتل اور انہیں عقوبت خانوں میں ڈالتے  رہتے، تو میٹس کیا کہے گا، کہ یہ جارحیت ہے یا ان کیساتھ تعاون ؟

یہ کہ دنیا کی عدالت اور آزادی کے دعویدار ملک کے  وزیر دفاع  دنیا کے سامنے میں حقیقت سے ایسی شرمناک حالت میں فرار  ہورہا ہے، نہ صرف ان (میٹس) بلکہ امریکی عوام کے لیے شرم ہے !

جی ہاں ! یہ بہتر اور سچی بات ہے کہ امریکی عوام اپنے حکمران سیاستدانوں اور فوجیوں کی جھوٹ اور مظالم کو جانتے ہیں۔  وہ اب اس حقیقت تک پہنچ چکے ہیں کہ ان کے بعض حکمران ظلم اور ناروا کررہے ہیں، مگر اس کی قیمت عوام ادا کررہی ہے۔

امریکی عوام کو اپنے حکمرانوں سے پوچھنا چاہیے کہ انہوں نے سولہ سال کے دوران امریکی فرزندوں کے سروں کی قیمت اور اربوں ڈالرز امداد سے افغانستان میں کیا کچھ حاصل کرلیا ؟  بچوں اور عورتوں سمیت لاکھوں انسانوں کو قتل ! لاکھوں کو گھربارچھوڑنے پر مجبور ! ہزاروں گاؤں اور گھروں  پر بمباریاں!عوام کے درمیان مختلف النوع نفرتوں کو جنم دیے، منشیات کی فروغ سے لاکھوں انسانوں کو مصائب و تکالیف میں مبتلا کیے،  انارشزم اور بدامنی میں اضافہ کردیا، جس کے نتیجے  میں امریکہ کو  عالمی سطح پر ظالم اور انسان دشمن قوت کے طور پر متعارف کروایا گیا !

سلطنتوں کے قبرستان میں امریکہ کی قبر بننے کے بجائے  یہ بہتر نہیں ہوگا کہ جارحیت کو  مزید ختم کردی جائے اور افغانوں کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے پر چھوڑ دیا جائے ؟

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*