کابل حکومت کے چیف ایگزیکٹو کا اعترافِ بے بسی!

آج کی بات

 

گزشتہ روز ایوان صدر میں سوویت یونین کے قبضے سے آزادی کا جشن منایا گیا۔ جشن کی تقریب سے دیگر مقررین کے علاوہ کابل حکومت کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے بھی خطاب کے دوران ملک کی موجودہ صورت حال پر شدید مایوسی اور تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق کابل شہر میں سکیورٹی صورت حال اتنی خراب ہے کہ اعلی حکام بھی گھر سے نکلتے وقت خوف محسوس کرتے ہیں۔ اس لیے وہ اپنے محفوظ ٹھکانوں اور رہائشی علاقوں سے باہر نہیں نکل سکتے ۔

کابل کی کٹھ پتلی حکومت کے چیف ایگزیکٹو نے جس تقریب میں اعتراف کیا، اس میں تمام اہم سیاسی اور عسکری حکام موجود تھے۔

گزشتہ 17 سالوں کے دوران سب سے زیادہ ڈاکٹر عبداللہ سکیورٹی اور سیاسی کامیابیوں کے بلند و بانگ دعوے کرتے تھے۔ خاص طور پر غیرملکی فوجیوں کی موجودگی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے سکیورٹی اور دفاعی شعبوں میں ان کے تعاون کا خیرمقدم کرتے تھے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ امریکا کے مرہون منت قائم حکومت کے چیف ایگزیکٹو نے گزشتہ روز اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ کابل شہر میں حساس مقامات، سکیورٹی اور سیاسی مراکز پر مجاہدین کے حملوں کا رعب اور دبدبہ ہوتا ہے۔ گزشتہ ہفتے کابل میں امریکا کے زیراہتمام پڑوسی اور خطے کے اہم ممالک کا مشترکہ اجلاس ہوا۔ جب کہ مجاہدین کے حملے کے خوف سے اجلاس کے مقام سے اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ بھی بے خبر تھے۔

نیویارک ٹائمز نے بھی اس مسئلے پر رپورٹ شائع کی ہے کہ افغانستان میں خطے کے اہم ممالک کا اجلاس ہوا، لیکن میں اعلی سرکاری حکام نے شرکت نہیں کی۔ رپورٹ کے مطابق اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ امریکا افغان حکومت کو کٹھ پتلی سمجھتا ہے اور وہ اس امر کو ضروری نہیں سمجھتا کہ تمام معاملات میں افغان حکومت کو اعتماد میں لیا جائے۔ دوسری یہ کہ افغانستان میں امریکی حکام سکیورٹی کی بدترین صورت حال سے اتنے خوف زدہ ہو چکے ہیں کہ وہ اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ کو بھی اہم اجلاسوں کے بارے میں بتانے سے گریز کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے اعلی امریکی حکام غیراعلانیہ طور پر افغانستان کے دورے کرتے اور کابل کی کٹھ پتلی حکومت کو پہلے سے اطلاع نہیں دیتے ۔ ضرورت پڑنے پر کابل حکومت کے اعلی حکام کو ملاقات کے لیے فوجی اڈوں میں طلب کر لیا جاتا ہے۔

ہم سمجھتے ہیں ڈاکٹر عبداللہ کے حالیہ اعتراف سے ممکن ہے کہ ایک جانب مجاہدین ان کے محفوظ ٹھکانوں اور بلند عمارات کے دروازوں تک پہنچ گئے ہیں۔ نتیجۃ اشرف غنی انتظامیہ ہر لمحہ حملے کے خوف میں مبتلا ہے۔ دوسری جانب امریکا نے انتظامیہ کو نظرانداز کر رکھا ہے۔ وہ اسے کوئی اہمیت اور حیثیت دینے کو تیار نہیں ہے۔

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*