اقتدار امارت اسلامیہ کے حوالے کیا جائے

آج کی بات

 

کابل کی مخلوط حکومت کے اعلی حکام نااہلی اور لاقانونیت کا اب خود اعتراف کرتے ہیں۔ حکومت میں شامل اہم عہدوں پر تعینات حکام اپنی حکومت کے احکامات نہیں مانتے اور بعض حکام نے تو حکومت کے خلاف بغاوت کا اعلان بھی کیا ہے۔

تین مہینے پہلے اشرف غنی نے صوبہ بلخ کے گورنر عطاء نور کو ہٹانے کے لیے ایک حکم نامہ صادر کیا۔ متبادل انجینئر داؤد کو گورنر بنایا گیا، لیکن عطاء نور نے اشرف غنی کا حکم مسترد کرتے ہوئے عہدہ چھوڑنے سے انکار کیا اور اپنے مسلح اہل کاروں کو نئے گورنر کی گرفتاری کا حکم دے دیا۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران عطاء نور نے ایوان صدر کو دھمکیاں دیں۔ جب کہ صدر نہ صرف عطاء نور کو اپنے منصب سے برطرف نہیں کر سکے، بلکہ ان کی دھمکیوں کا بھی کوئی جواب نہیں دے سکے۔

اشرف غنی اور عطاء نور کے درمیان رسہ کشی کے دوران قندھار سے بھی نام نہاد صدر کے خلاف بغاوت کی آوازیں بلند ہوئی ہیں۔ قندھار میں جنرل عبدالرازق نے بھی کابل حکومت کو غیرقانونی قرار ہوئے واضح کیا کہ انہیں (عطاء نور کو) عوام نے منتخب کیا ہے۔ کابل حکومت انہیں عہدے سے نہیں ہٹا سکتی۔ اگر کابل انتظامیہ نے کوئی کوشش کی تو اس کو شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

گزشتہ روز ایوان صدر نے صوبہ سمنگان کے گورنر عبدالکریم خدام کی برطرفی کا حکم جاری کیا۔ جب کہ خدام نے اپنا منصب چھوڑنے سے انکار کیا اور واضح کیاکہ کابل حکومت کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ یہ مخلوط اور مشترکہ حکومت ہے۔ دیگر شراکت داروں کے ساتھ معاہدے سے پہلے ایوان صدر کے احکامات کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ حکومت اور جمعیت اسلامی کی قیادت جب تک کسی معاملے پر متفق نہیں ہوتی، تب تک وہ سمنگان کے گورنر ہوں گے۔

صوبہ فاریاب میں نائب صدر جنرل دوستم کے اہل کاروں نے پارلیمنٹ کے رکن فتح اللہ قیصاری کو گھیرے میں لیا اور انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی۔ اسی طرح کابل میں حلقہ 21 کے ایک اعلی افسر ’شاہ وزیر‘ نے بھی ان کی برطرفی کا حکم نامہ مسترد کیا۔ بعد ازاں شاہ وزیر اور حکومت نے کسی معاملے پر سودے بازی ہو گئی، نتیجۃ شاہ وزیر کو کسی دوسرے منصب پر مقرر کر دیا گیا۔

یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ امریکی سفارت خانے میں امریکی وزیر خارجہ کی کاوشوں سے معرض وجود میں آنے والی حکومت کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ کابل کٹھ پتلی حکومت غلامی اور عوام دشمنی کے علاوہ اپنے اندرونی اختلافات کی وجہ سے اتنی بے بس ہو چکی ہے کہ ایک افسر کو برطرف نہیں کر سکتی۔ کٹھ پتلی حکومت عوام کی منتخب ہے اور نہ ہی بلخ، سمنگان اور قندھار کی طاقت ور مافیا اور بااثر شخصیات عوام کی رائے سے منتخب ہوئی ہیں۔ وہ سب جارحیت پسندوں کی طاقت کے بل بوتے افغان عوام پر مسلط ہیں۔

کابل حکومت کے اعلی حکام اگر واقعی سچے ہیں تو وہ عوام کے قتل عام کا سلسلہ بند کریں۔ افغانستان میں آباد برادر اقوام کے درمیان دشمنی اور نفرت کے بیج بونے کی کوشش نہ کریں۔ تعصب پیدا کرنے سے گریز کریں۔ اقتدار امارت اسلامیہ کے سپرد کریں۔ تاکہ ایک اسلامی، متحد اور خودمختار حکومت قائم کی جائے۔ ایسی اسلامی حکومت، جس سے تمام لوگ راضی ہوں۔، ان کی جان، مال اور عزت محفوظ ہو۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*