موسم سے پہلے آپریشن

آج کی بات

 

عام طور پر موسم سرما میں سردی کی شدت کی وجہ سے مجاہدین کی کارروائیوں میں کچھ کمی آجاتی ہے۔ اس سرد ترین موسم میں دشمن اپنے محفوظ ٹھکانوں میں قدرے سکون سے رہتا ہے۔ البتہ دشمن ذرائع کے مطابق رواں سال موسم سرما میں مجاہدین کے حملوں کی شدت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ گزشتہ روز صوبہ ہلمند کے صوبائی حکام نے میڈیا کو بتایا کہ ہمارے اندازے کے برعکس مجاہدین کے حملوں اور ہماری فورسز کی ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ہمارے درمیان ہم آہنگی بھی ختم ہو گئی ہے۔ ہم مرکزی حکومت کے تعاون سے محروم ہیں۔ ایک اعلی افسر نے آزادی ریڈیو کو بتایا کہ ’ہمارے صوبے کا گورنر فوجیوں کو ہتھیار اور وسائل فراہم کرنے کا جھوٹ بول بول کر تھک گیا ہے۔‘ اس کا مزید کہنا تھا کہ ’گزشتہ دو ماہ کے دوران صرف دارالحکومت لشکرگاہ میں 100 فوجی ہلاک ہوئےہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ غیرملکی دشمن اور کٹھ پتلی حکومت نے ٹرمپ کی جنگی حکمت عملی کے بعد ہر قسم کے ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ انہیں اس پالیسی سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں۔ وہ سوچے بیٹھے تھے کہ جنگ کے موسم سے پہلے سردیوں میں ہی مجاہدین پر شدید بمباری کر کے ان پر دباؤ بڑھا سکیں گے۔ تاہم اس کا نتیجہ برعکس برآمد ہوا۔ غیرملکی فوج اور کٹھ پتلی فورسز کے تمام مظالم کے باوجود مجاہدین کی کارروائیاں موسم سے پہلے ہی زور و شور سے جاری ہیں، جنہوں نے دشمن کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

گزشتہ دو دنوں میں کم از کم 87 افغان اہل کار مارے گئے ہیں۔ جن میں بڑے کمانڈر بھی شامل ہیں۔ مثلا: کمانڈر عالم خان، صوبہ بلخ ضلع چہاربولک، کمانڈر مولاداد، گندہ جلال آباد۔  کمانڈر جلیل، صوبہ جوزجان خواجہ دوکوہ۔  کمانڈر بدر، قندوز ضلع قلعہ زال۔  کمانڈر شفیق، اندڑ صوبہ لغمان۔ کمانڈر عطاء اللہ زابل ضلع شاہ جوئی اور دیگر …

علاوہ ازیں صوبہ فراہ کے دارالحکومت اور ضلع فراہ رود میں تین چیک پوسٹوں پر مجاہدین کی کامیابی کارروائیوں میں 28 فوجی ہلاک اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔ جب کہ 10 اہل کاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ صوبہ ہلمند کے ضلع ناوہ کے علاقے ٹانگان گودر میں دشمن کے 8 اہل کار مارے گئے۔ صوبہ پکتیا کے ضلع برمل میں 8 فوجی ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ دیگر علاقوں میں جھڑپوں میں کئی فوجی ہلاک ہوئے۔ مجموعی طور پر تقریبا 90 اہل کار ہلاک ہوئے۔ اسی طرح صوبہ فراہ میں غیرملکی فوجیوں کے ائیرپورٹ پر مجاہدین نے میزائل داغے۔ اس کارروائی میں بھی کئی غیرملکی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے۔ اس صورت حال سے واضح ہوتا ہے کہ موسم سرما ختم ہونے کے بعد مجاہدین کے حملوں سے دشمن کو خوف لاحق ہے۔ اللہ تعالی سے امید ہے کہ وہ دشمن کے دلوں میں مزید رعب پیدا کرے۔ مستقبل قریب میں دشمن کے ظالمانہ اقدامات کا آخری دور ہوگا۔ ان شاء اللہ تعالی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*