اشرف غنی شہریوں کے قتل پر خوش!

آج کی بات

 

افغانستان سے متعلق امریکی صدر ٹرمپ کی نئی جنگی حکمت عملی کے آغاز کے بعد ظلم کا نیا دور شروع ہوا ہے۔ فضائی اور ڈرون حملوں، چھاپوں اور بڑے ہتھیاروں کے آزادانہ استعمال میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ گھروں، مساجد، مدارس، اسکولوں حتی کہ بازاروں کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔ نہتے شہریوں کو جانی نقصان کے علاوہ بڑے پیمانے پر مالی نقصان کا بھی سامنا ہے۔ جارحیت پسند اور کٹھ پتلی حکومت افغان عوام پر جاری ظلم اور سربریت کو بڑے فخر سے اپنی کامیابی قرار دے کر مزید حملوں کے لیے پرعزم ہے۔ ان حملوں میں بچوں اور خواتین کو نشانہ بنا کر اس کا الزام مجاہدین کے نام کر دیا جاتا ہے۔ بڑے فخر سے خواتین اور بچوں کے قتل عام کو اپنی کامیاب کارروائی قرار دیا اور میڈیا پر اعلان کیا جاتا ہے کہ اس کارروائی میں اتنے مخالفین مارے گئے۔

دشمن کی سفاکانہ کارروائیوں کی ایک مثال صوبہ قندھار کے ضلع میوند کا علاقہ بند تیمور ہے، جہاں 31 جنوری کو کٹھ پتلی فورسز نے امریکی فضائیہ کی مدد سے حملہ کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق کٹھ پتلی فورسز نے گھروں میں گھس کر لوگوں کو باہر نکالا۔ پوچھ گچھ کے بغیر ان پر فائرنگ کر کے درجنوں افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اسی رات ریت اور قریبی علاقوں میں جو بھی سامنے آیا، اسے نشانہ بنایا گیا۔ حراست میں لے لیا۔ گھروں کے اندر اور باہر گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو جلا دیا گیا۔ قیمتی سامان لوٹ لیا گیا۔ اس چھاپے اور آپریشن میں دشمن نے 31 شہریوں کو شہید کر دیا۔ درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا ۔

اس کارروائی کے بعد دشمن نے دعوی کیا کہ درجنوں مجاہدین کو شہید اور گرفتار کیا گیا ہے، جب کہ منشیات کی فیکٹری بھی تباہ کی گئی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ حملہ آوروں اور کابل حکومت نے قندھار کے علاقے بندتیمور میں 20 شہریوں کو قتل کیا ہے۔ درجنوں افراد کو حراست میں لیا ہے۔ رپورٹ میں عینی شاہدین کا حوالہ دیا گیا ہے، جس کے مطابق بڑے پیمانے پر انسانی ضیاع کے علاوہ لوگوں کو مالی نقصان بھی ہوا ہے۔ رپورٹ کی اشاعت کے بعد حکومت میں شامل بعض حکام نے بندتیمور کارروائی میں شہری ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہلاک اور گرفتار افراد میں کچھ مزدور بھی شامل ہیں۔

بندتیمور کے آپریشن کے بارے میں ایوان صدر نے مسرت کا اظہار کیا۔ اشرف غنی نے اس آپریشن کو اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے اس کا خیرمقدم کیا۔ دیگر علاقوں میں بھی اس قسم کے آپریشن کرنے کی دھمکی دی۔ اسی طرح اشرف غنی نے مزید کہا کہ ہم نے بندتیمور آپریشن کے ذریعے کابل حملوں کا بدلہ لیا ہے۔ یہ بھی کہا کہ افغان عوام سو سال بعد بھی اپنا بدلہ لیتے ہیں۔ آزاد میڈیا کے دعوے دار بعض ذرائع ابلاغ نے کابل حکومت کی رپورٹ کو من و عن شائع کر کے بندتیمور آپریشن کو کامیاب قرار دیا۔

کٹھ پتلی صدر اشرف غنی یہ بات ذہن نشین کریں کہ عوام کا قتلِ عام کامیابی نہیں ہے۔ اگر عوام کے قتلِ عام سے کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے تو ڈاکٹر نجیب اب تک اقتدار میں ہوتے۔ امریکی مفادات کے محافظ کٹھ پتلی صدر  انتظار کریں۔ مظلوم قوم کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ صدارتی محل اور وائٹ ہاؤس کے مذموم مقاصد اور منصوبے ناکام ہوں گے۔ بڑی سلطنتوں کے قبرستان کا اعزاز رکھنے والے ملک میں اشرف غنی کا آقا امریکا بھی سرنگوں ہو کر رہے گا۔ ان شاء اللہ تعالی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*