شام میں مسلمانوں کے قتل عام پر تشویش

آج کی بات

 

رپورٹس کے مطابق شام میں گزشتہ ہفتے سے ایک بار پھر مظلوم مسلمانوں کے خون بہانے کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق روس اور بشارالاسد کے فضائی حملوں کے نتیجے میں غوطہ شہر کھنڈرات میں تبدیل ہوچکا ہے۔ کم از کم 400 افراد شہید اور 1400 زخمی ہوگئے ہیں۔ جن میں اکثر خواتین اور بچے ہیں۔ غوطہ شہر پر بشار الاسد کے مخالفین کا کنٹرول ہے۔ یہ شہر گزشتہ پانچ سالوں سے محاصرے میں ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ نے بار بار یہ مطالبہ کیا ہے کہ اس شہر کا محاصرہ ختم کیا جائے، تاکہ شہریوں کو انسانی اور غذائی امداد فراہم کی جائے، لیکن بشارالاسد نے اب تک اس کام کی اجازت نہیں دی ہے۔

گزشتہ 7 سالوں کے دوران شام جس بحران کا شکار ہے، اس کی ابتداء خانہ جنگی سے ہوئی تھی۔ بعدازاں شام میں داعش کی موجودگی کا بہانہ بنا کر امریکا، روس اور خطے کے دیگر ممالک نے براہ راست فوجی مداخلت شروع کر دی، جو ابھی تک جاری ہے۔ مالی خسارے کے علاوہ تقریبا پانچ لاکھ افراد شہید ہو چکے ہیں۔ جن میں اکثر عام شہری ہیں۔

امارت اسلامیہ افغانستان طویل عرصے سے شام کے بحران اور شہریوں کی اموات اور مظلوم مسلمانوں کے قتل عام پر  گہرے دُکھ کا اظہار کرتی ہے۔اس کی مذمت کرتی ہے۔ خاص طور پر پچھلے ہفتے کے دوران غوطہ شہر میں مظلوم شہریوں کے قتل عام کی شدید مذمت کرتی ہے۔ اللہ تعالی افغانستان کے جنگ زدہ عوام سمیت پوری دنیا میں مسلمانوں کی حالت زار پر رحم فرمائے۔ ظالموں اور حملہ آوروں کے ظلم اور ستم سے نجات دلائے۔ ہم امت مسلمہ پر زور دیتے ہیں کہ وہ تمام باہمی اختلافات اور کشیدگی ختم کر کے قابض استعماری قوتوں سے آزادی حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کا ساتھ دیں۔ انہوں نے مسلم ممالک پر قبضہ کر رکھا ہے۔ جب کہ مسلمانوں کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق اسلامی نظام نافذ کریں اور قومی خودمختاری کے مالک بنیں ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*