امریکا کے لیے حل

آج کی بات

 

افغانستان پر امریکا و نیٹو قبضے کے 17سال کا مکمل ہوئے ہیں۔ امریکا نے اس مدت میں کبھی یہ اعتراف نہیں کیا کہ امارت اسلامیہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں۔ صرف یہ کہا جاتا رہا ہے کہ ’اگر امارت اسلامیہ کابل انتظامیہ سے بات چیت کرتی ہے تو وہ اس کی حمایت کریں گے۔‘

امریکی حکام نے امارت اسلامیہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لیے کبھی آمادگی ظاہر نہیں کی ہے۔ حتی کہ جب حال ہی میں مجاہدین نے کابل میں خوف ناک حملے کیے تو اس کے ردعمل میں امریکی صدر ٹرمپ نے ہر قسم کے مذاکرات سے انکار کر دیا۔ اب تازہ ترین اطلاعات کے مطابق کچھ سینئر امریکی حکام کی جانب سے امریکا میں مذاکرات کی تیاریوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ افغانستان کے حوالے سے امریکی حکومت میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ممکن ہے وہ اب اس نتیجے پر پہنچے ہوں کہ افغان مسئلہ طاقت اور ظلم کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔ طاقت کے استعمال کے تمام تجربات ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ اب اس کا متبادل راستہ اختیار کرنے پر غور شروع کیا گیا ہے۔

امارت اسلامیہ امریکی یلغار کے آغاز سے اب تک مذاکرات کی تجویز پر اصرار کرتی رہی ہے۔ امریکی حکام اس تجویز پر غور کریں۔امارت اسلامیہ نے تجویز پیش کی ہے کہ امریکا بلا قید و شرط امارت اسلامیہ کے ساتھ مذاکرات کی میز بیٹھے۔ وہ زمینی حقائق تسلیم کرے۔ اپنے مطالبات اور خدشات مدلل انداز میں امارت اسلامیہ کے سامنے پیش کرے۔ اسی طرح عوام کی نمائندگی کی حیثیت سے امارت اسلامیہ کے تحفظات و دلائل پر غور کرے۔ بین الاقوامی انسانی معیاروں کے مطابق افغانسان کی آزادی کے حوالے سے افغان عوام کے جائز حقوق قبول کرے۔ اسی راستے سے امریکا اور افغانستان کا حل ہو سکتا ہے۔

جب کہ امریکا اپنی ٹیکنالوجی کی کے غرور اور بین الاقوامی استعماری قوتوں کی دلدل میں پھنس چکا ہے۔ اُس نے 17 سالوں میں ہمیشہ طاقت کی زبان استعمال کی ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ افغانستان کے ساتھ خود کو بھی جانی اور مالی نقصانات سے دوچار کر بیٹھا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں مذاکرات سے یکسر انکار کیا ہے۔ جس کے بعد جنوبی اور مرکزی ایشیا کے لیے امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ایلس ویلز نے کہا ہے کہ امارت اسلامیہ کے ساتھ مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں۔

اسی طرح افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی لورال میلر (جن کی مدت گزشتہ سال کے دوسرے نصف میں ختم ہوئی) نے امریکی میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ ’مذاکرات کا راستہ افغان مسئلے کا واحد حل ہے۔‘

اس سے واضح ہوتا ہے کہ امریکی حکومت پر اپنی قوم، امریکی میڈیا، ریٹائرڈ افسروں، سول سوسائٹی کے کارکنوں، تعلیمی اداروں کے پروفیسروں اور جنگ مخالف عام امریکیوں کا شدید دباؤ ہے۔ اب ضروری ہے کہ فوجی اور سیاسی پالیسی ساز اپنی ناکام پالیسی پر غور کریں۔ افغان جنگ کی پالیسی کا ازسرِنو جائزہ لے کر اس مسئلے کے پُرامن حل پر بات کی جائے۔ امارت اسلامیہ نے پہلے بھی یہ تجویز پیش کی ہے اور ہمیشہ اس پر اصرار کیا۔ے ، اس کے بغیر امریکا کے پاس کوئی آپشن نہیں ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*