مجاہدین کے سرد موسم میں مسلسل حملے

آج کی بات

 

امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے سرد موسم میں اسلام و ملت کے دشمنوں کے خلاف جارحانہ حملوں کا سلسلہ بدستور جاری رکھا ہے۔ کئی علاقوں سے دشمن کو پسپا کر دیا گیا ہے۔ عوام کے جان،مال اور عزت کا تحفظ یقینی بنایا گیا ہے۔ مختلف علاقوں میں تعمیرنو کا کام شروع ہے۔ شجرکاری مہم کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔

سردیوں کے موسم میں عام طور پر کارروائیوں میں کمی آجاتی ہے، لیکن اس سال بہادر مجاہدین نے شدید سردی اور برف باری کے ماحول میں بھی میدان جنگ گرم رکھا ہے۔ مزید یہ کہ اپنے زیرکنٹرول علاقوں اور مورچوں کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے دشمن پر جارحانہ حملے کیے ہیں۔ جن کے اچھے نتائج حاصل ہوئے اور کئی اہم کامیابیاں ملی ہیں۔

امریکی صدر کی جنگی حکمت عملی کے اعلان کے بعد دشمن کے فضائی حملوں اور چھاپوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ شہریوں کے قتل میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ مختلف علاقوں میں دشمن کے حملوں میں خواتین اور بچے نشانہ بن رہے ہیں۔ جس سے مجاہدین کے جذبات اور وَلولوں میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے دشمن کے خلاف جارحانہ، گوریلا اور فدائی حملوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ موسم سرما کی سردی کی شدت میں مجاہدین کے کامیاب اور مسلسل حملوں کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں:

گزشتہ روز صبح 8 بجے قندھار کے ضلع نیش کے علاقے شنبے ماندہ میں دشمن کے کانوائے پر زوردار دھماکے ہوئے۔ حملوں اور دھماکوں میں 4 ٹینک اور تین بڑے ٹرک تباہ اور متعدد اہل کار ہلاک ہوئے۔مجاہدین نے ضلع نیش کے گرد گھیرا تنگ کر دیا ہے۔ محصور دشمن کو رسد فراہم کرنے والے فوجی قافلے پر ہر وقت مجاہدین حملے کرتے ہیں۔

صوبہ لوگر کے دارالحکومت کے قریب کمال خیل کے علاقے میں مجاہدین کے مسلسل حملوں کے نتیجے میں لیویز اہل کار چیک پوسٹ سے فرار ہو گئے۔ اس چیک پوسٹ پر مجاہدین ہر وقت حملے کرتے تھے، جس کے باعث دشمن نے چیک پوسٹ چھوڑ کر راہ فرار اختیار کر لی۔ مذکورہ چیک پوسٹ فتح کرنے کے باعث وسیع علاقے پر مجاہدین کا کنٹرول بڑھ گیا ہے۔ ان کی فعالیت کا دائرہ مزید وسیع ہوا۔

صوبہ فراہ میں امریکی اور اطالوی فوجی 16 دن پہلے صوبائی دارالحکومت کے قریب ائیرپورٹ میں تعینات کیے گئے تھے۔ وہ مجاہدین کے مسلسل میزائل حملوں اور براہ راست فائرنگ کے تبادلے میں علاقہ چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ گزشتہ سولہ دنوں میں 13 حملہ آور ہلاک، جب کہ 22 زخمی ہوئے۔

صوبہ غزنی کے ضلع گیرو میں سرکاری عمارتوں پر مجاہدین نے حملہ کیا۔ فریقین کے درمیان تین گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا، جس کے نتیجے میں 7 سپاہی ہلاک اور متعدد اہل کار زخمی ہوئے۔

مجاہدین ن صوبہ ننگرہار کے رودات، بٹی کوٹ، غنی خیل اور کوٹ اضلاع میں دشمن پر حملے کیے۔ ضلع رودات میں گورنر ہاؤس پر مجاہدین کے حملے میں تین پولیس اہل کار شدید زخمی ہوئے۔ ضلع بوٹی کوٹ کے علاقے سپین کوڑ میں دشمن کے فوجی قافلے پر مجاہدین کے حملے میں ایک فوجی گاڑی تباہ اور اس میں سوار تمام اہل کار ہلاک اور زخمی ہوئے۔ اسی ضلع کے علاقے نہر میں لیویز اہل کاروں کی چیک پوسٹوں پر مجاہدین نے حملے کیے، جن میں دشمن کو بھاری نقصان ہوا۔ ضلع کوٹ کے علاقے ڈاگ میں دشمن کی چیک پوسٹوں پر حملے میں تین اہل کار ہلاک اور 2 زخمی ہو گئے۔

صوبہ ہلمند کے ضلع نادعلی کے علاقے ماتکی بوغرا میں نیشنل آرمی کے فوجی اڈے میں 150 فوجی تعینات تھے۔ وہاں فدائی ونگ کے ایک جانثار مجاہد ’حافظ فضل المتکبر نورالہادی‘ نے بارود بھری گاڑی کے ذریعے حملہ کیا، جس میں اہم کمانڈروں سمیت درجنوں فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے۔ جب کہ فوجی اڈے کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ اس میں موجود کئی فوجی گاڑیاں اور ٹینک تباہ ہو گئے۔

اسی روز ایک فدائی مجاہد ’خان گل نصیب اللہ ہلمندی‘ نے ہلمند کے صوبائی دارالحکومت لشکرگاہ میں کارتہ لگن کے علاقے میں کٹھ پتلی انٹیلی جنس دفتر اور پولیس ہیڈکوارٹر پر دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی کے ذریعے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں اہم کمانڈروں سمیت درجنوں پولیس اہل کار ہلاک اور زخمی ہوئے۔ جب کہ دونوں مراکز بھی مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔

کٹھ پتلی حکومت قابض استعماری قوتوں کے بل بوتے پر جتنا بھی ظلم کر لے، قوم کی مزاحمت کا راستہ نہیں روک سکتی۔ قابض قوتوں کے خلاف برسرپیکار مجاہدین کی جدوجہد کا مقصد آزادی اور اسلامی نظام کا نفاذ ہے۔ ان مقاصد کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گی۔ ہماری جدوجہد میں کسی ملک کا عمل دخل نہیں ہے۔ مجاہدین اللہ تعالی کی مدد پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ اس عزم کے ساتھ جدوجہد کر رہے ہیں کہ ایک دن ضرور یہ خطہ آزاد ہوگا۔ اس میں اسلامی نظام نافذ ہو گا ۔ ان شاء اللہ تعالی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*