سیکڑوں امریکی مشیروں کی آمد کا مقصد؟

آج کی بات

 

کابل حکومت کی جانب سے امن اور مصالحت کی پیش کش کے ساتھ ہی امریکا کے سیکڑوں فوجیوں اور مشیروں پر مشتمل تازہ دم دستہ بھی افغانستان پہنچ گیا ہے، تاکہ موجودہ متزلزل حالت میں کٹھ پتلی حکومت کو کسی حد تک سہارا دے کر اس کا مورال بلند کیا جا سکے۔

گزشتہ 17 سالوں کے دوران یہ تجربہ ہو چکا ہے کہ جب بھی امریکی فوجیوں کو افغانستان میں بڑی چوٹ لگی ہے یا بین الاقوامی سطح پر امریکا کی شکست کے تبصرے شروع ہوتے ہیں تو پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لیے ضرور کچھ ایسے نمائشی اقدامات اٹھاتے اور پروپیگنڈا کر کے یہ تأثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم اپنی افغان اتحادی حکومت کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ اس کے ساتھ فوجی اور اقتصادی تعاون جاری رکھیں گے۔ فضائی حملوں میں اضافہ کیا جائے گا۔ B-52 طیاروں کی پروازوں میں اضافہ کر کے جنگ جیتنے کے لیے تجربہ کار مشاورین بھیجے جائیں گے۔

جب مجاہدین نے ان کے بلند و بانگ دعوؤں کے بعد حساس امریکی اور سرکاری مراکز کو نشانہ بنایا اور ان پر خوف ناک حملے کیے تو انہوں نے رائے عامہ کو ایک بار پھر گمراہ کرنے کے لیے الزام لگایا کہ مجاہدین نے کسی پڑوسی ملک میں ان حملوں کا منصوبہ بنایا تھا۔

امریکا نے ان دنوں اپنے 800 مشیروں کو افغانستان بھیجنے کا پروپیگنڈا شروع کیا ہے۔ اپنے کٹھ پتلی حکمران کے ذریعے امن اور مصالحت کا ڈھنگ بھی رچایا ہے۔ ان تمام کوششوں کا مقصد یہ ہے کہ عسکری اور سیاسی میدان میں ناقابل تلافی نقصان اور رسواکن شکست کو چھپایا جائے۔

مجاہدین کی جانب سے افغانستان کے دیگر علاقوں میں دشمن پر حملوں کے علاوہ کابل میں ’انٹرکانٹی نینٹل‘ ہوٹل پر کامیاب حملے کے نتیجے میں اہم امریکی حکام سمیت درجنوں غیرملکیوں کی ہلاکت اور امارت اسلامیہ کی جانب سے امریکی عوام کے نام کھلا خط شائع کرنا عسکری اور سیاسی میدان میں اہم اقدامات سمجھے جا رہے ہیں۔ جس کے دباؤ کے باعث امریکیوں کے حوصلے پست اور ان کا مجرمانہ چہرہ بے نقاب ہوا ہے۔

امریکا نے اپنی ذلت آمیز شکست کی تلافی کے لیے کابل کی کٹھ پتلی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ نام نہاد امن اور مذاکرات کا ڈھونگ رچائے۔ ہم چند سو امریکی مشیروں کا پروپیگنا کریں گے، تاکہ سیاسی اور عسکری میدان میں شکست کو چھپایا جا سکے۔

افغان عوام کو معلوم ہے کہ امریکا اور کٹھ پتلی حکومت امن اور مصالحت کے لیے کتنے پرعزم اور مخلص ہیں! اگر امریکا واقعی افغانستان میں جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے تو مزید امریکی فوجیوں کو تعینات کرنے کا کیا مقصد ہے؟ کیا ہزاروں امریکی فوجیوں کی موجودگی کے باوجود کوئی ذی شعور انسان اس بات کو تسلیم کرے گا کہ امریکا افغانستان میں امن چاہتا ہے اور اس کے یہاں مذموم مقاصد نہیں ہیں؟

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*