احتجاجی مظاہرے اور مفکر کی بے بسی

آج کی بات

 

بدقسمتی سے افغانستان کے مختلف علاقوں میں قابض افواج اور کٹھ پتلی فورسز کی جانب سے شہریوں کے قتل عام اور املاک کی تباہی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ایک حملے میں درجنوں خواتین اور بچے لقمہ اجل بنتے ہیں۔ املاک کو تباہ کرنے کا سلسلہ شہروں تک پہنچ گیا ہے۔ جس کی ایک مثال صوبہ تخار کے ضلع درقد میں نئے شہر ’’عمری بازار‘‘ کی تباہی ہے۔

گزشتہ چند دنوں سے صوبہ خوست اور غزنی میں دشمن کے مظالم کے خلاف عوام نے احتجاج کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ صوبہ غزنی کے ضلع قرہ باغ میں لیویز اہل کاروں نے ایک خاتون اور معصوم بچے سمیت تین مظلوم افراد کو شہید کر دیا۔ دو شہریوں کو حراست میں لے لیا۔ جس کے خلاف عوام نے احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا۔ احتجاجی مظاہرے کیے اور ریلیاں نکالی گئیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو گرفتار کر کے کڑی سزا دی جائے۔ تاہم قاتل اب تک دندناتے پھر رہے ہیں۔ کٹھ پتلی حکومت انہیں گرفتار نہیں کر رہی ہے۔

خوست کے ضلع علی شیر میں فوجی اڈے کے اہل کاروں نے ایک خاندان کے سات افراد کو نہایت سفاکیت کے ساتھ نشانہ بنایا۔ مارے جانے والے افراد مسلح تھے اور نہ ہی وہ مجاہدین کی صف میں فعال تھے۔ فوجی اڈے کے مسلح اہل کاروں نے حال ہی میں خوست کے نادر شاہ کوٹ میں بھی ایک گھر پر چھاپے کے دوران چار افراد کو شہید کر دیا۔ جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔

شہریوں نے فوجی اڈے کے مسلح اہل کاروں کے خلاف مظاہرے کیے۔ مقررین نے مظاہرے سے اپنے خطاب میں مطالبہ کیا کہ چھاپوں اور شہریوں کے قتل عام کا سلسلہ بند کیا جائے۔ قاتلوں کو گرفتار کر کے سخت سزا دی جائے۔ تاہم فوجی اڈے کے مسلح اہل کار اتنے طاقت ور ہیں کہ گورنر اور قومی سلامتی کونسل کے سربراہ بھی ان سے پوچھ گچھ نہیں کر سکتے۔ کٹھ پتلی صدر کے مشیر ان واقعات کی تحقیقات کے لیے خوست پہنچ گئے۔ تاہم انہوں نے فوجی اڈے کے دروازے پر دستک دینے کی جرأت نہیں کی۔ انہوں نے مشتعل مظاہرین کو یقین دلایا کہ وہ اس صورت حال سے صدر کو آگاہ کریں گے۔ ان کا پیغام ان تک پہنچائیں گے۔ ممکن ہے وہ کابل میں امریکی حکام کے ذریعے فوجی اڈے سے رابطہ کرنے میں کامیابی حاصل کریں۔

کابل کی کٹھ پتلی حکومت منتخب عوامی حکومت کی دعوے دار ہے۔ اہم کارناموں کے دعوے بھی کر رہی ہے۔ تاہم عملی طور پر اتنی کمزور اور بے بس ہے کہ شہریوں کے قتل عام پر فوجی اڈے کے مسلح اہل کاروں سے یہ سوال نہیں کر سکتی کہ کیوں، کیسے، کب اور کہاں لوگوں کو نشانہ بنایا گی۔ کتنے افراد کو حراست میں لیا گیا ہے؟ جب حکومت اتنی بے بس ہو چکی ہے کہ وہ حملہ آوروں کے تربیت یافتہ مسلح اہل کاروں سے پوچھ گچھ کرنے کی جرأت نہیں کر سکتی تو وہ بگرام اور قندھار میں قابض فوج سے افغان شہریوں کے قتل عام کے بارے میں کیا وضاحت طلب کر سکتی ہے؟!

کیا منتخب اور بااختیار حکومت کے اختیارات اتنے محدود ہوں گے! اگر حکومت واقعی خودمختار ہے تو وہ قاتلوں کو سزا دینا تو دور کی بات ہے، ان سے تفتیش تک کیوں نہیں کر سکتی؟ تعجب کی بات ہے کہ نام نہاد صدر ایوان صدر میں کٹھ پتلی حیثیت سے براجمان ہیں۔ ان کے اختیارات اتنے محدود ہیں کہ وہ اپنے ماتحت مسلح اہل کاروں سے سرچ آپریشن میں عام شہریوں کے قتل عام کے بارے میں تحقیقات کا حکم بھی نہیں دے سکتے۔ پھر وہ کس حیثیت اور اختیار سے امن اور مصالحت کی بات کرتے ہیں۔ جنگ کے خاتمے کے لیے بڑے بڑے دعوے کر رہے ہیں۔

عوام کو چاہیے وہ اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔ اپنے اندرونی اختلافات کو پس پشت ڈال دیں۔ نسلی تعصبات کو چھوڑ دیں۔ اتحاد اور اتفاق کا مظاہرہ کریں۔ ایک آواز ہو کر حملہ آوروں اور کابل انتظامیہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کریں اور دشمن کے مظالم بے نقاب کریں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*