عوام پر ظلم کی انتہا

آج کی بات

 

گزشتہ ایک ہفتے سے شہریوں نے مختلف علاقوں میں کابل انتظامیہ کے مسلح اہل کاروں کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ ریلیاں نکالی جارہی اور مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ صوبہ خوست اور غزنی کے لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ جب کہ صوبہ پکتیکا کے ضلع اومنی کے قبائلی عمائدین نے بھی جمع ہو کر میڈیا کو بتایا کہ ہم حکومتی اہل کاروں سے تنگ آگئے ہیں۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر ان کے جائز مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ بھی مظاہرے شروع کر دیں گے۔

غزنی کے ضلع قرہ باغ کے علاقے شیرآباد میں مقامی لوگوں نے لیویز اہل کاروں کی جانب سے عام شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے اور فائرنگ کر کے شہید کرنے کے واقعات کے خلاف شدید احتجاج شروع کر دیا ہے۔ شہریوں نے صوبائی دارالحکومت میں کابل، قندھار اور مرکزی شاہراہ کو بلاک کر کے خیمے نصب کر رکھے ہیں۔ حکام سے ظلم بند کرنے اور قاتلوں کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ کٹھ پتلی فورسز نے گزشتہ روز دو مرتبہ مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر فائرنگ کر دی۔ جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ ان کے خیموں کو جلا دیا گیا۔

ادھر خوست میں بھی شہریوں نے ایک خاندان کے 7 افراد اور دوسرے خاندان کے چار افراد کو شہید کرنے کے واقعات کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ چند دن سے وہ مسلسل مظاہرے کر رہے تھے۔ بدقسمتی سے ان کے مطالبات تسلیم کرنے کے بجائے کٹھ پتلی حکومت کی فورسز نے ان پر تشدد کیا۔ علاوہ ازیں ایک مدرسے پر چھاپہ مارا گیا۔ طالب علموں پر تشدد کیا گیا۔ متعدد معصوم طالب علموں کو حراست میں لے لیا اور قران پاک اور دینی کتابوں کی توہین کی گئی۔

اس طرح کے واقعات معمول بن گئے ہیں۔ قابض فوجی اپنے کارندوں کی مدد سے شہریوں پر فضائی حملے کر رہے ہیں۔ رات کی تاریکی میں چھاپے مارتے ہیں۔ گھروں سے قیمتی سامان لوٹنے کے لیے چادر اور چاردیواری کا تقدس بھی پامال کیا جاتا ہے۔ جب کہ مظلوم عوام کی فریاد سننے والا کوئی نہیں ہے۔ جب خوست کا دل خراش واقعہ سامنے آیا اور لوگ سڑکوں پر نکل آئے تو کٹھ پتلی انتظامیہ کے مقامی حکام نے اپنی بے بسی ظاہر کرتے ہوئے کابل حکومت کو اس تمام صورت حال سے آگاہ کرنے کا یقین دلایا۔ جب اشرف غنی کو اس واقعے کا پتہ چلا تو انہوں نے تحقیقات کے لیے اپنے مشیر اسداللہ فدا کو بھیجا، تاکہ وہ فورسز سے پوچھ گچھ کریں۔ تاہم انہیں یہ اجازت نہیں ملی۔فوج  بظاہر کٹھ پتلی انتظامیہ کے ماتحت ہے۔ درحقیقت اس کا کنٹرول پینٹاگون کے پاس ہے۔ وہ اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ کے احکامات ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔

اس طرح کے واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ افغان حکومت کتنی بے بس اور بے اختیار ہے۔ جب وہ خود اتنے بے بس ہے تو وہ کس حیثیت سے مجاہدین کو امن اور مصالحت کی پیش کش کرتی ہے۔ جب انارکی، افراتفری اور نام نہاد حکومت مسلط ہو تو ظاہر ہے عوام پر ظلم ہوتا رہے گا۔ صرف مجاہدین عوام کی سرپرستی کر سکتے ہیں، تاکہ وہ اپنے مقدس جہاد کی بدولت قوم کو حملہ آوروں اور ان کی کٹھ پتلی حکومت کے ظلم سے نجات دلائیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*