انڈونیشا میں علماء کے عنوان سے ممکنہ منعقد ہونے والے اجلاس   کے حوالے سے عالم اسلام کے علماء کرام کو امارت اسلامیہ کا پیغام

 الحمدلله وکفی والصلوة والسلام علیه عباده الذین اصطفی: وبعد !

قال الله تعالی في محکم التنزیل: 

…إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ غَفُورٌ )فاطر:۲۸

معزز علماء کرام ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

جیساکہ آپ حضرات کو بہتر معلوم ہے کہ سلسلہ نبوت کے اتمام کیساتھ امت مسلمہ کی معنوی رہبری، اصلاح اور تنویرکی ذمہ داری علماء کرام کو سونپ دی گئی  اور علماء کرام کو  امت کی انفرادی اصلاح کیساتھ ساتھ مسلمانوں کے عظیم مسائل کے  حوالے سےبھی بھاری ذمہ داری  ہے۔

افغانستان کے موجودہ جہاد کا قضیہ اگرچہ پیچیدہ  اور سمجھ سے بالاتر مسئلہ نہیں ہے، مگر امت مسلمہ کے عظیم قضایا  میں سے شمار ہوتی ہے۔

آپ کو معلوم ہے کہ سترہ سال قبل اس سرزمین پر ایسا نظام حاکم تھا، کہ سیاسی قدرت معاشرے کے سب سے پاک، متعہد اور مجاہد طبقے یعنی دینی علوم کے طلبہ اور علماءکرام کے پاس تھا۔ مقدس شریعت نافذ تھا۔ حد اور قصاص جاری تھے۔ امرباالمعروف و نہی عن المنکر کا  قرآنی حکم نافذ تھا اور سیاسی، معاشی ، اجتماعی اور زندگی کے ہر شعبے میں ہر فیصلہ صرف قرآنی اور نبوی ارشادات کی روشنی میں ہوتا۔

مگر اسلام کے تاریخی دشمنوں نے گذشتہ چودہ صدیوں میں ہمیشہ اسلام اور خاص کر اسلام کی سیاسی حاکمیت سے دشمنی  جاری رکھی ہے، انہوں نے صلیبی اور استعماری جنگوں کے دوران امت مسلمہ کو ناقابل تلافی نقصانات پہنچائے ہیں۔ اسلام کے وہی تاریخی مغربی دشمن اس مرتبہ امریکی قیادت میں متحد ہوئے۔ امت کے خلاف دشمنی کا مؤقف اعلان کیا۔ سب سے پہلے پروپیگنڈے کی جنگ شروع کی، بعد میں معاشی تعزیرات اور سیاسی کلابندی کے نقشے کو عملی کیا اور تیسرے مرحلے میں براہ راست ہماری خودمختار سرزمین اور اسلامی نظام پر فوجی جارحیت کی۔

ظالم اور متجاوز مغربی کافروں نے ہمارے اسلامی نظام کو ختم کردیا، ہماری سرزمین کو قبضے میں لی، ہمیں اپنے گھر میں محکوم اور مغلوب کیا۔ ہماری زمین اور فضا کے اختیارات کو اپنے ہاتھ میں لیے۔ ہماری سرزمین میں اپنے عالمی نقشوں کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر بڑے بڑے ہوائی اڈے قائم کیے، ہمارے سربلند، معزز اور مجاہد عوام کے تذلیل کے لیے ہمارے معاشرےسے مفرور مغرب نواز کٹھ پتلیوں کو لاکر یہاں انہیں مسلط کیا۔

امریکی ظالمانہ جارحیت کے خلاف ہمارے عوام اگرچہ زیادہ مصیبت زدہ اورخستہ کن تھے، مگراس وقت جب امریکہ افغانستان پر حملہ کرنے والا تھا اور امارت اسلامیہ ملکی دارالحکومت سمیت ملک کی 95٪ فیصد اراضی پر حاکم تھی، کابل شہر میں ملک کے ڈیڑھ ہزار علماء کرام اکھٹے ہوئے اور امارت اسلامیہ کی قیادت میں امریکی جارحیت کے خلاف مقدس جہاد کی فتوی دی ،اس کے بعد امریکی قیادت میں کافروں نے افغانستان پر عملا حملہ کیا، ان کے خلاف اسی فتوی کی رو سے مسلح جہاد کا آغاز ہوا، دو ماہ تک امارت اسلامیہ نے  ملک کے بڑے شہروں اور مراکز سے دفاع کی، اس کے بعد گوریلے جنگ کو ترجیح دی، افغانو عوام کو ڈیڑھ ہزار علماء کرام کی جانب سےدرج ذیل صریح دینی ارشادات کی رو سے جہاد فرض ہونے کا حکم ہماری ملت کو متوجہ سمجھا گیا۔

ـــ وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَأَخْرِ‌جُوهُم مِّنْ حَيْثُ أَخْرَ‌جُوكُمْ ۚ وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ۚ وَلَا تُقَاتِلُوهُمْ عِندَ الْمَسْجِدِ الْحَرَ‌امِ حَتَّىٰ يُقَاتِلُوكُمْ فِيهِ ۖ فَإِن قَاتَلُوكُمْ فَاقْتُلُوهُمْ ۗ كَذَٰلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِ‌ينَ ﴿١٩١﴾ بقره

ـــ أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ۳۹)الَّذِينَ أُخْرِ‌جُوا مِن دِيَارِ‌هِم بِغَيْرِ‌ حَقٍّ إِلَّا أَن يَقُولُوا رَ‌بُّنَا اللَّـهُ ۗ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّـهِ النَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ‌ فِيهَا اسْمُ اللَّـهِ كَثِيرً‌ا ۗ وَلَيَنصُرَ‌نَّ اللَّـهُ مَن يَنصُرُ‌هُ ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ ﴿٤٠﴾ سورة الحج ــ

ـــ وَعَنْ أَنَس بن مالک رضی الله عنه،قال  قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «جَاهِدُوا الْمُشْرِكِينَ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَأَلْسِنَتِكُمْ»( رواه ابو داؤد ۳۲/۲ والنسائي ۷/۶ والحاکم ۸۱/۲)

فقہ حنفی کا حکم ـــ وَفي الهندية (۸۸/۲) وَعَامَةِ الْمَشَايخِ رحمهم الله تعالى قَالُوا: الجِهادُ فَرْضٌ عَلَى كُلّ حَالٍ غَيْرَ أنَّهُ قَبْلَ النَّفِيرِ فَرْض كِفَايَة وَبَعْدَ النَّفِيرِ يَصِيرُ فَرْض عَيْنٍ وَهُوَ الصَّحِيْح، وَمَعْنَى النَّفِيرِ أنْ يُّخْبِرَ أهْل الْمَدِينَة أنَّ الْعَدُوَّ قَدْ جَاءَ يُرِيْدُ أنْفُسَكُمْ وَذُرَارِيْكُمْ وَأمْوَالَكُمْ فَإِذَا أُخْبِرُوا عَلَى هَذَا الْوَجْهِ افْتَرَضَ عَلَى كُلّ مَنْ قَدَرَ عَلَى الْجَهَادِ مِنْ أهْلِ تِلْكَ الْبَلْدَةِ أَنْ يَّخْرُجُوا لِلْجِهَادِ وَقَبْلَ هَذَا الْخَبَرِ كَانُوا فِي سَعَة أنْ لَّا يَخْرُجُوا.

ـــ وفی المبسوط للإمام السرخسي (۲-۱۰): ثم أمر رسول الله صلى الله وسلم بالقتال إذا كانت البداية منهم فقال تعالى ﴿أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا﴾ (البقرة: ۱۹۱) أي: أذن لهم في الدفع وقال تعالى ﴿فَإِنْ قَاتَلُوكُمْ فَاقْتُلُوهُمْ﴾ (البقرة:۱۹۱) وقال تعالى ﴿وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا﴾ (الأنفال: ۶۱) ثم أمر بالبداية بالقتال فقال تعالى ﴿وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَةٌ﴾ (البقرة: ۱۹۷) 

 علماء کرام کے فتوی کے بنیاد پر واحد رہبری کے حامل امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے  بلند عزم سے کفر کے تجاوز کے خلاف جہادی قیام کا آغاز کیا۔

یہ جہادی مزاحمت گذشتہ سترہ برس کے دوران مختلف شدید مراحل سے گزر ا۔ یہاں کہ ایک دفعہ مغربی غاصبوں نے ایک ہی وقت میں ایک لاکھ تیس ہزار کے لگ بھگ بیرون سے لائی جانے والی مسلح افواج جو عصری ٹینکوں، توپوں، طیاروں اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس تھیں اور ہزاروں ملکی غلام ملیشا کو بھی مجاہدین کے خلاف مسلح اور جنگ کے لیے تیار اور ہمارے خلاف کمربستہ کی۔ غاصبوں نے شدید بمباری کی اور تاریخی مظالم سرانجام دیے، لیکن تمام کوششوں کے باوجود اس پر قادر نہ ہوسکے، کہ ہمارے مؤمن عوام کے ارادے کو شکست دے۔

الحمدللہ، اللہ تعالی کی نصرت اور مجاہد عوام کی قربانیوں کی برکت سے حالیہ سالوں میں جنگی معادلہ معکوس ہوئی ہے۔مجاہدین کی پیشرفت اور استعمار فرار کی حالت میں ہے۔ اب تک درجنوں استعماری ممالک کے پرچم سرنگوں اور تمام فوجیں فرار پر مجبور ہوئے ہیں۔ صرف امریکہ اور چند استعماری ممالک موجود ہیں، جو قبضے پر اصرار کررہا ہے۔ان ممالک کے بھی ہزاروں فوجیں افغانستان سے فرار پر مجبور اور صرف محدود تعداد میں فوجیں محصور اڈوں میں زندگی گزار رہی ہیں  اور الحمدللہ افغان سرزمین کے بیشتر  رقبے پر امارت اسلامیہ کے مجاہدین حاکم اور اللہ تعالی کے احکام جاری ہیں۔

لیکن مغربی غاصبوں کو اگرچہ اللہ تعالی نے جنگ کے میدان میں ذلیل اور شکست سے دو چار کیا، مگر اپنی جارحانہ عزم سے پیچھے نہیں ہٹے۔ استعمار نے اپنے غیرمستقیم جارحیت کو طول دینے کی خاطر مختلف متبادل منصوبے بروئے کار لائیں، جن میں سے ایک اہم منصوبہ صلح کے نام سے مجاہدین کے سرنڈر اور کابل غلام انتظامیہ کو جعلی فتاوی اور قانونی حیثیت دینے سے جہاد سے منصرف کروانے کا  عمل ہے۔

متجاوز دشمن اب کوشش کررہی ہے کہ افغان عوام کے اس جہادی  قیام کو گمراہ کن پروپیگنڈوں، نفسیاتی جنگ، اینٹلے جنس سازشوں، جعلی فتاوی اور صلح کے عنوان سے سرد حربوں کے ذریعے شکست دے۔

استعمار نے عزم کیا ہے کہ مجاہدین کو مجبور کریں، تاکہ جہاد سے دستبردار ہوکر سرنڈر ہوجائیں اور اس جارحیت کو تسلیم کریں، جس کے ماننے کے لیے دینی اور قرآنی جواز ہے اور نہ ہی ایک انسان کے طور پر کسی کا ضمیر اسے قبول کرسکتا ہے۔

کابل ناجائز انتظامیہ کو جواز کا لبادہ پہنانے اور صلح کے گمراہ کن پروپیگنڈوں کی کوششوں کے مد میں اس بار ہمارے  دین، ملک اور خودمختاری کا دشمن چاہتاہے  ، کہ دنیا کے علماء کرام اور اسلامی ممالک کو دھوکہ دینے کی خاطر  مملکت انڈونیشا کے جکارتہ شہر  میں اور  یا   کسی اور ملک میں امت مسلمہ کے علماء کے نام اور عنوان سے ایک اجلاس  کا انعقاد کریں۔

کابل غلام انتظامیہ  نے اعلان کیا کہ یہ اجلاس ان کے مطالبے  اور خواہش پر منعقد کیا جارہا ہے ، تاکہ اس اجلاس کے ذریعے اسلامی ملک افغانستان میں کفری جارحیت کی موجودگی کو غلط معلومات پیش کرکے ا س کے لیے   جواز حاصل کریں اور مجاہدین کے برحق جہاد کو ناجائز جنگ متعارف کروادے۔ وہ جدوجہد کررہی ہے کہ افغانستان میں کامیابی کے مرحلے کو پہنچنے والا مقدس جہاد کو اس ناجائز خونریزی  پر قیاس اور تعبیر کریں، جو شرعی طریقوں اور شرعی نصوص کے خلاف انسانوں کے لہو بہاتے ہیں اور جہاد کو بدنام کرتا ہے۔

ہم تمام عالم اسلام کے علماء کرام اور خاص کر افغانستان، پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کے علماء کرام کو اسلامی اخوت اور شریعت کی روشنی میں یہ پیغام پہنچانا چاہتے ہیں کہ :

آپ حضرات کو بہتر معلوم ہے کہ امریکی طاغوت موجودہ عصر کا سب سے ظالم غاصب ہے، جس کے ہاتھ ہمارے لاکھوں مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں اور یہ بھی آپ کو معلوم ہے کہ ہمارےعوام ایک مؤمن عوام ہے ، ایک مصیبت زدہ اور غریب عوام ہے،جن کے گھر پر اجنبی غاصبوں نے ہلہ بول دیا ہے اور یہ بھی آپ کو معلوم ہے کہ ہمارے عوام کا جہاد دینی علماء کرام کی سرپرستی اور ہدایات سے جاری ایک جائز  مزاحمت اور ظالم جارحیت کے خلاف ایک مظلوم ملت کے مقابلہ کی آخری کوشش ہے  اور آپ حضرات بہتر طور پر جانتے ہیں کہ  صلح کے زیرعنوان غاصبوں اور ان کی کٹھ پتلیوں  کی خواہش پر منعقد ہونے والا اجلاس صرف ہمارے مظلوم عوام کی مغلوبیت کی خاطر دائر ہورہا ہے اور موجودہ مغربی میڈیا کا مکروفریب سے بھی آپ حضرات بخوبی آگاہ ہے، کہ اگر آپ  کانفرنس ہال میں جتنے بھی حق اور شریعت کی باتیں کریں یا مغرب تر تنقید کریں، وہ سب ہی ہال کے اندر رہ جاتے ہیں اور اس چیز کو عالمی برادری تک پہنچاجاتا ہے، جو امریکہ کے مفاد اور مقدس جہاد اور مسلمانوں کے نقصان میں ہو اور مقدس شریعت کے اصول پر مبنی جہاد کو  بھی دہشت گردی اور ناجائز جنگ سے جوڑا جائیگا اور حوالہ بھی علماء ہی  کا دیا جائیگا، تو اسی وجہ سے ہم آپ حضرات کو ایک بار پھر یاد دلاتے ہیں کہ ظالموں کے اس طرح منصوبوں میں آپ شرکت خدانخواستہ انکے ساتھ ایک قسم کے تعاون کا تلفی نہ ہوجائے اور خدانخواستہ اس وعید کا مورد نہ بنے کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں :

وَلَا تَرْكَنُوٓا۟ إِلَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ فَتَمَسَّكُمُ ٱلنَّارُ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِنْ أَوْلِيَآءَ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ »ـ هود: ۱۱۵

اور جس طرح رسول ﷺفرماتے ہیں:

 من مشى مع ظالم ليعينه وهو يعلم أنه ظالم فقد خرج من الإسلام. رواه الطبراني.

معزز علماء کرام!

امارت اسلامیہ کو نصرت الہی کے اتکاء پر یقین ہے کہ اسلام کے دشمنوں کو جس طرح فوجی جنگ میں  کامیابی نہیں ملی،اس طرح کے اینٹلے جنس سازشیں بھی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوگی۔ لیکن اخوت اسلامی کی رو سے عالم اسلام کی حکومتوں سے ہمارا مطالبہ ہے کہ اس نوعیت اجلاس کے لیے راہ ہموار نہ کی جائے۔ علماء کرام کو ہمارا پیغام یہ ہے کہ اس طرح اجلاسوں  میں شرکت نہ کریں اور اس بارے میں صرف کتاب اللہ اور سنۃ رسول ﷺ اور ایمانی تقاضے کی رو سے فیصلہ کریں اور افغانستان میں موجود غاصب کافروں  کو نہ چھوڑیں کہ وہ تمہارے شرکت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی مذموم مقصد میں کامیاب ہوجائیں۔ اگر مجاہدین کا علی الاعلان حمایت مشکل اور نہیں ہوسکتا، تو یہ ممکن ہے کہ کافروں کی اس نوعیت ناجائز سازشوں سے اپنے آپ کو بچاؤ اور ان کی  فرمائشی کانفرنسوں  میں شرکت نہ فرمائیں۔

امید ہے کہ ہم نے آپ حضرات کو اپنا درد اور پیغام پہنچایا ہو، تاکہ آخرت میں ایک دوسرے کے حقوق  عدم مراعات کی وجہ سے عذاب اور عقوبت سے روبرو نہ ہوجائیں۔

وما علینا الا البلاغ، حسبنا الله ونعم الوکیل نعم المولی ونعم نصیر

والسلام

امارت اسلامیہ افغانستان

۲۲/ جمادی الثانی ۱۴۳۹ هق

۱۹/حوت ۱۳۹۶ هش

۱۰/ مارچ ۲۰۱۸ ء

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*