بیرونی دشمن کا اعتراف اور اشرف غنی کی حماقت

آج کی بات

 

مغربی میڈیا ہر روز افغانستان کی صورت حال کے بارے میں تصویر کا اصل رخ دکھا رہا ہے۔ وہ جارحیت پسندوں کو مشورہ دیتا ہے کہ آپ کے لیے افغانستان میں کامیابی کے امکانات نہیں ہیں۔ تمام چانسز ضائع ہو چکے ہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ اپنی غلط پالیسیوں پر غور کر لیا جائے۔ اب امریکا کے اہم اتحادی جرمنی نے بھی سرکاری سطح پر اپنی شکست اور ناکامی کا اعتراف کیا ہے۔ جرمن وزارت خارجہ نے افغانستان کی بدترین صورت حال کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی ہے، جس میں پوشیدہ حقائق سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔

رپورٹ میں جرمن حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ افغانستان میں سکیورٹی صورت حال اتنی خراب ہو چکی ہے کہ اس رپورٹ میں پیش رفت کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ رپورٹ میں کامیابیوں کو ناکافی قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں سب کچھ واضح کر دیا گیا ہے۔ جس کے مطابق کی صورت حال ناقابل فہم ہے۔ اب جرمن فوج کے لیے ممکن نہیں رہا ہے کہ وہ افغان حکومت کے ساتھ مزید تعاون کر سکے۔ رپورٹ کے مطابق تعمیرنو کے سلسلے میں جرمنی کے اکثر کارکنان کابل اور مزار شریف میں مقیم ہیں۔ وہ اپنے تحفظ کی خاطر فوجی اڈوں میں کنکریٹ کی دیواروں کے پیچھے دن رات گزار رہے ہیں۔ اُن کے افغان عوام کے ساتھ رابطے منقطع ہو چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مجاہدین کے خطرناک حملوں میں اضافہ بہت بڑھ گیا ہے۔ 2017 میں کابل میں ایک خونی حملے نے جرمن سفارت خانے کو سخت نقصان پہنچایا تھا۔ اسی طرح نومبر 2016 میں مزارشریف میں جرمن قونصل خانے کو حملے کے نتیجے میں اتنا نقصان پہنچا کہ وہ اب تک قابلِ استعمال نہیں بنایا جا سکا۔اُس  قونصل خانے کا عملہ اور جرمن این جی او ’’GIZ‘‘ کے ملازمین اب تک مزارشریف کے فوجی اڈے میں رہائش پذیر ہیں۔ رپورٹ میں لکھا ہے کہ افغان فورسز کو تربیت دینے والے غیرملکی فوجی اب خود عدمِ تحفظ کا شکار ہیں۔ جرمنی کے 980 فوجی افغانستان میں تعینات ہیں۔ وہ اب افغان سکیورٹی فورسز کو تربیت دینے کے قابل نہیں رہے۔ وہ اپنے منصوبوں پر عمل درآمد نہیں کر سکتے۔ کیوں کہ جرمن فوجی تربیت کار جب افغان سکیورٹی فورسز کو تربیت دیتے ہیں تو انہیں یہ خوف رہتا ہے کہ کہیں زیرِتربیت کوئی فورسز ان پر حملہ نہ کر دے! اس خوف کی وجہ سے جرمن فوج کا ایک دستہ ہر وقت اپنے تربیت کاروں کی حفاظت پر مامور رہتا ہے۔

رپورٹ میں افغان سکیورٹی فوج کی دفاعی حالت کے بارے میں لکھا ہے کہ افغان وہ دباؤ کا شکار ہے۔ وہ مجاہدین کے حملوں کے خوف سے اپنے دفاع سے بھی قاصر ہے۔ وہ دوردراز علاقوں سے مسلسل پسپائی کی حالت میں ہے۔ کٹھ پتلی حکومت کی کرپشن کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ گزشتہ 17 سالوں میں عالمی برادری اور امریکا نے افغانستان کو اربوں ڈالر دیے۔ تاہم حکومت عوامی حمایت کھو چکی ہے۔ اکثر لوگ دیگر ممالک کا رخ کر رہے ہیں۔ کیوں کہ سکیورٹی صورت حال، اقتصادی ترقی میں کمی اور حکومت کی ریکارڈ کرپشن نے عوام کو بدظن کر دیا ہے۔

غیرملکی دشمنوں کی جانب سے اس قسم کے اعترافات کے باوجود کابل کٹھ پتلی حکام اپنے مستقبل پر غور کرتے ہیں اور نہ ہی افغان عوام پر ظلم سے کنارہ کش ہوتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جارحیت پسند ہمیشہ ان کے ساتھ ہوں گے۔ وہ ان کے زیرِسایہ افغان عوام پر مظالم ڈھاتے رہیں گے!

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*