امن اور مصالحت کا دشمن؟

آج کی بات

 

افغانستان میں امن و استحکام لانے کے لیے امارت اسلامیہ کا اصولی مؤقف یہ ہے کہ وہ ان قوتوں کے ساتھ مذاکرات کر سکتی ہے، جنہوں نے 17 برس سے افغانستان میں جنگ شروع کر رکھی ہے۔ انہوں نے افغانستان پر ناجائز قبضہ جما رکھا ہے۔ وہ ہماری اقدار کو پامال کر رہے ہیں۔ امریکا نے افغان عوام کی خودمختاری کا حق چھین لیا ہے۔

خوش قسمتی سے اس معقول مؤقف کی تائید کے لیے اب مغرب کے اہم حلقوں کی جانب سے آواز بلند ہو رہی ہے۔ امارت اسلامیہ کے اس معقول اور اصولی مؤقف کی بہتر وضاحت اس وقت ہوئی، جب امارت اسلامیہ کی قیادت نے حال ہی میں امریکی عوام کے نام کھلے خط میں مذاکرات کی پیشکش کر دی، جس نے توقع سے بڑھ کر امریکی عوام اور مغرب کو سمجھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

جب امریکی حکام نے خط میں امارت اسلامیہ کے معقول مؤقف، اصولی سیاست اور کامیاب سفارتی پالیسی کے اہم نکات کو دیکھا تو افغانستان میں اپنے غلاموں کو حکم دیا کہ دوسرے اجلاس میں ’کابل امن عمل‘ کے بارے میں چند نمائشی اعلانات کیے جائیں۔ امن کے حوالے سے سطحی طور چند تجاویز پیش کی جائیں، تاکہ ایک جانب امریکی عوام کے نام شائع شدہ خط کے اثرات کم ہو سکیں اور دوسری جانب افغان عوام پر یہ بات واضح ہو جائے کہ امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مجاہدین ہیں۔ کا نتیجہ یہ نکالا جاتا کہ اشرف غنی کی غیرمشروط پیشکش اور تجاویز کے باوجود امارت اسلامیہ مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہے۔

جب کہ حقیقت بہت واضح اور روشن ہے۔ حقیقی امن کی راہ میں رکاوٹ اور مصالحت کا دشمن کون ہے؟ کون جنگ کی آگ پر تیل چھڑکنے کی کوشش کر رہا ہے؟ یہ سب کو معلوم ہے! گزشتہ روز واشنگٹن پوسٹ نے افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے سابق نمائندے کای آیدہ کی خبر شائع کی کہ امارت اسلامیہ کابل حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے مخالف کیوں ہے؟ کای آیدہ نے کہا کہ امارت اسلامیہ کا یہ مؤقف درست ہے کہ وہ افغان حکومت کے بجائے امریکا کے ساتھ مذاکرات کر سکتی ہے۔ کیوں کہ ’افغانستان کی فوجی حکمت عملی واشنگٹن میں بنائی گئی ہے۔ کابل حکومت کا اس میں کوئی عمل دخل اور اختیار نہیں ہے۔‘

اہم بات یہ ہے کہ اب تک امریکا اپنی جنگی حکمت عملی کے تحت افغانستان اور خطے میں فضائی حملوں، چھاپوں اور خصوصی آپریشنز پر زور دے رہا ہے۔ اُس نے افغانستان کو اپنی جنگ کے لیے علاقائی سطح کا کا کمانڈ سینٹر سمجھ رکھا ہے۔ کابل حکومت مکمل طور بے بس اور بے اختیار ہے۔ ہر حکم امریکا کا ہی چلتا ہے۔ جنگ اور جنگ بندی کا اختیار تو دور کی بات ہے۔ افغانستان کا فضائی اور زمینی کنٹرول امریکا کے پاس ہے۔ اشرف غنی نے کئی بار کہا ہے کہ اگر امریکا ہماری فوج کو تیل اور ڈالر کی فراہمی بند کرے تو ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ ہم ایک ہفتے تک مجاہدین کے خلاف لڑ سکیں۔

صاحبِ فہم لوگ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ امن اور مذاکرات کے حوالے سے امارت اسلامیہ کا مؤقف کتنا اصولی اور معقول ہے۔ کیا کٹھ پتلی حکمران یہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ وہ غیرملکی فوج کے انخلا کے بعد حقیقی امن بحال کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکیں گے؟

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*