صوبہ پکتیا کے دارالحکومت گردیز کے جہادی امور کے نگران کا خصوصی انٹرویو

 

محترم قارئین!

صوبہ پکتیا میں گزشتہ سال  مجاہدین نے منصوری آپریشن کے تحت قابل ذکر کامیابیاں حاصل کیں۔ اس صوبے کا دارالحکومت گردیز اہم علاقوں میں سے ایک ہے، جس میں مجاہدین نے گزشتہ سال  بڑی کامیابی حاصل کی تھی۔ ہم نے اس علاقے کی جہادی صورتِ حال جاننے کے لیے دارالحکومت گردیز کے جہادی امور کے نگران ملا خالد حسن صاحب کے ساتھ خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔

سوال:

آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ سب سے پہلے موجودہ جہادی صورتِ حال کے بارے میں کچھ بتائیں؟

جواب:

سب سے پہلے آپ اور قارئین کو السلام علیکم کہتا ہوں۔ آپ کے سوال کے بارے میں بتاتا چلوں کہ مجموعی طور پر جہادی صورتِ حال بہت بہتر اور کامیابی کی جانب گامزن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بین الاقوامی استعماری اور قابض قوتوں نے حال ہی میں بہت دھمکیاں دیں۔ نئی حکمت عملی کے اعلان کے ساتھ مجاہدین کو خوف زدہ کرنے کی ناکام کوشش کی، تاہم اللہ تعالی کی مدد اور عوام کی حمایت سے مجاہدین کے عزم اور حوصلے میں کوئی لغزش نہیں آئی۔ مجاہدین کے حوصلے مزید بلند ہوئے ہیں۔ ہر روز دشمن پر خوف ناک حملوں، مجاہدین کی پیش رفت اور جہادی کامیابیوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ لوگ  اللہ تعالی کی مدد کی نشانیاں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔

سوال:

آپ پکتیا کے دارالحکومت گردیز میں جہادی امور کے نگران ہیں۔ گزشتہ سال  گردیز اور اس کے مضافات میں بڑے حملوں اور جہادی کارروائیوں کے بارے میں کیا فرمائیں گے؟

جواب:

منصوری آپریشن کے سلسلے میں صوبہ پکتیا کے دارالحکومت گردیز اور اس کے مضافات میں گزشتہ سال  مجاہدین نے اہم کامیابیاں حاصل کیں۔ اُن میں ایک اہم کامیابی صوبائی پولیس ہیڈکوارٹر پر تباہ کن حملہ تھا، جس میں پولیس چیف سمیت درجنوں فوجی اور پولیس اہل کار ہلاک ہوئے۔ دارالحکومت گردیز جیسے حساس علاقے میں پولیس ہیڈکوارٹر اور دیگر اہم سرکاری عمارتوں پر پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والی کارروائی میں فدائی مجاہدین کی معلومات اور امارت اسلامیہ کے اعلامیے کے مطابق درجنوں افسران سمیت 277 پولیس اہل کار ہلاک، جب کہ 162 اہل کار زخمی ہوئے۔

یہ حملے اتنے خونریز اور تباہ کن تھے کہ پولیس ہیڈکوارٹر اور دیگر سرکاری عمارتیں ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئی تھیں۔ سرکاری حکام نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ میں یہ سب سے زیادہ خونریز حملہ تھا۔ کٹھ پتلی حکومت نے 41 اہل کاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی، جس میں پولیس سربراہ توریالی عبدیانی بھی شامل تھے۔ اس واقعہ کے چند گھنٹے بعد چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبداللہ، نیشنل سکیورٹی ڈائریکٹر معصوم ستانک زئی اور وزیر داخلہ ویس برومک نے گردیز کا دورہ کیا اور تباہی کے مناظر کا معائنہ کیا۔ یہ حملہ امارت اسلامیہ کے فدائی گروپ کے چند جانثار ساتھیوں نے کیا، جو سب سے اہم اور کامیاب حملوں میں سے ایک تھا۔

علاوہ ازیں مجاہدین نے گزشتہ سال بہت سے حملے کیے۔ مثلا دارالحکومت گردیز کے قریب قلعہ عبداللہ چیک پوسٹ فتح ہوئی۔ فوجیوں کو مار دیا اور چھ ہتھیار ضبط کر لیے گئے۔ ابراہیم خیل کے علاقے میں ایک چوکی فتح کرنے  9 اہل کار ہلاک ہو گئے۔ اسی طرح مجاہدین نے رباط کے علاقے میں دو بار دشمن کی چوکوں پر کامیاب حملے کیے۔ایک بار دشمن کے 11 فوجی ہلاک ہوئے، جب کہ دوسری بار مجاہدین نے دشمن کا فوجی اڈہ دھماکہ خیز مواد سے اڑا کر مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔

مجاہدین نے  گزشتہ سال دارالحکومت کے مغرب کی جانب پورے علاقے پر اپنا مکمل کنٹرول قائم کیا اور ضلع زرمت کے علاقے سہاک میں دشمن کا فوجی اڈہ کئی ماہ تک محاصرے میں رکھا۔ دشمن نے دو بار کوشش کی کہ مجاہدین کو اس علاقے سے پسپا کر دے، مگر اُسے ہر بار ہزیمت اٹھانا پڑی۔ دشمن نے مجاہدین کو پسپا کرنے کے لیے دو بڑے فوجی آپریشنز کیے۔ جب کہ مجاہدین نے مردانہ وار مقابلہ کیا اور دشمن کو شکست دی۔ ان جھڑپوں میں دشمن کے ٹینکوں کی تباہی کے علاوہ درجنوں فوجی بھی مارے گئے، جس سے اُس کی زرمت کی طرف پیش قدمی روک گئی۔

عام طور پر کہا جا  سکتا ہے کہ گردیز کی جہادی صورتِ حال اللہ کے فضل سے اطمینان بخش اور بہتر ہے۔ مجاہدین بلند حوصلے سے دشمن کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ لوگوں کا جان و مال محفوظ ہے۔ مجاہدین نے گزشتہ سال متعدد اغوا کاروں کو گرفتار کر کے شرعی قانون کے مطابق سزا دی۔ تعلیم کا شعبہ بھی فعال ہے۔ تمام علاقوں میں دینی مدارس اور سکول قائم اور فعال ہیں۔امارت اسلامیہ کے ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے تعلیمی نظام کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ حتی کہ دارالحکومت کے اندر محکمہ تعلیم کی انتظامیہ امارت اسلامیہ کے ساتھ رابطے میں ہے۔ اس کے علاوہ دعوت و ارشاد، عدلیہ اور دیگر شعبوں میں بھی اللہ کے فضل سے خدمات جاری ہیں۔ ہمیں امید ہے مستقبل میں تمام ادارے مزید فعال اور منظم انداز سے خدمات انجام دیں گے، تاکہ مجاہدین اپنی قوم کی بہتر خدمت کر سکیں۔

سوال:

کیا مجاہدین گردیز شہر کے اندر موجود اور جہادی کارروائیاں کر رہے ہیں؟

جواب:

گردیز کا شمار ان شہروں میں ہوتا ہے، جہاں مجاہدین گوریلا حملے کرتے اور مخالفین کو چن چن کر قتل کرتے ہیں۔ گزشتہ سال بھی بڑی تعداد میں شرپسند اور جرائم پیشہ عناصر ٹارگٹ کلنگ، حملوں اور بم دھماکوں میں ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ حتی کہ ایک بار مجاہدین نے حقمل نامی پولیس سربراہ کو اپنے محافظین سمیت مار دیا۔ اُس کی فوجی گاڑی بھی ضبط کر لی۔ شہر میں بہت سے لوگ ہیں، جو مجاہدین کے ساتھ تعاون کرتے اور ان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ ان کے تعاون سے مجاہدین شہر میں حملے کرتے اور دشمن کو نشانہ بناتے ہیں۔

سوال:

دشمن مختلف سازشوں کا سہارا لیتا ہے۔ مثلا اربکی ملیشیا، سنگوری ملیشیا اور دیگر ناموں سے جرائم پیشہ عناصر کو مجاہدین کے خلاف مسلح کرتا ہے۔ کیا دشمن نے آپ کے علاقے میں بھی ایسا کوئی منصوبہ بنا رکھا ہے؟

جواب

گزشتہ سال موسم بہار میں امریکا اور کٹھ پتلی حکومت کے خفیہ اداروں نے مل کر گردیز شہر کے مشرق کی جانب شیخان کے علاقے میں کچھ ایسے مشکوک افراد کو مسلح کیا، جن میں اکثر چور اور جرائم پیشہ تھے۔ انہوں نے کوشش کی کہ گردیز اور زرمت میں مجاہدین کی فعالیت کا راستہ روکیں۔ ان جرائم پیشہ افراد کی تعداد 40 تھی۔ انہوں نے ڈیوٹی شروع کرتے ہی ظالمانہ کارروائیوں کا آغاز کیا۔ لکڑی کے علاقے میں لوگوں کے گھروں کو آگ لگا دی۔ مجاہدین اور عام شہریوں کو سنگین نتائج کی دھکمیاں دیں۔ حتی کہ دو افراد کو حراست میں لیا اور کچھ عرصے بعد انہیں دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا۔ ان کے رابطے براہ راست امریکی فوج سے تھے۔ انہیں ہتھیار، وسائل اور پیسے امریکا سے ملتے تھے۔

امارت اسلامیہ کے قیام کے بنیادی مقاصد میں شر و فساد کا خاتمہ شامل ہے۔  جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی مجاہدین کا ہدف ہے۔ اس لیے مجاہدین نے ان کے خلاف ماہ شعبان میں سرچ آپریشن کیا، جس کے نتیجے میں کچھ افراد مارے گئے۔ کچھ گرفتار ہوئے اور کچھ فرار ہوگئے۔مجاہدین نے ان کے ہتھیار مال غنیمت میں ضبط کر لیے۔ یوں اللہ کے فضل سے پورے علاقے سے ان کا صفایا ہو گیا۔

سوال:

فریضہ جہاد کی کامیابی اور جہادی صف کی اصلاح کے لیے مجاہدین یا عوام کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟

جواب:

سب سے پہلے مجاہدین کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وہ خطاب یاد دلاتا ہوں، جس میں انہوں نے فرمایا تھا:

’ نحن قوم لا ننتصر بکثرة العدة والعتاد و لکن ننتصر بقلة ذنوبنا و کثرة ذنوب عدونا۔‘

ہم مسلمان قوم کی حیثیت سے اسباب اور وسائل سے کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔ ہم گناہوں کو کم کرنے اور تقوی اختیار کرنے سے کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔

ہماری عزت اللہ تعالی کے دین پر عمل کرنے میں ہے۔ اسلامی اور شرعی قوانین کے نفاذ اور دفاع، جہادی فکر و تربیت، مسلمانوں سے ہمدردی ہمارے لیے ضروری ہے۔ مجاہدین کو یاد دلاتا چلوں کہ اس مجاہد قوم کا احترام کرنا چاہیے۔ قوم کی قربانی، تکالیف، مصائب اور مشکلات کو نہیں بھلانا چاہیے۔ اسی مجاہد قوم کی حمایت اور تعاون کی بدولت عالمی استعمار کو شکست دینا ممکن ہوا۔ ایک وقت تھا کہ عالمی استعمار کرہ ارض پر ہمارے وجود کو برداشت نہیں کرتا تھا، لیکن اس قوم کی وسیع حمایت اور لازوال قربانیوں کی بدولت عالمی استعمار آج آپ کے پاؤں میں گر گیا ہے۔ اس معرکے سے مسلمانوں کا سر فخر سے بلند ہوا ہے۔

جہادی سرگرمیوں اور فعالیت کے بارے میں بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے، تاکہ کوئی اسلامی قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب نہ ہو۔ مقدس جہادی فریضہ فساد میں تبدیل نہ ہوجائے۔اتحاد اور اتفاق کا خصوصی خیال رکھنا چاہیے۔ قیادت کی جانب سے ماتحت مجاہدین کے ساتھ نیک سلوک منظم ہونے کے لیے مدد گار ثابت ہوگا۔ علمائے کرام، بزرگوں اور بااثر لوگوں کے ساتھ اچھے تعلقات اور روابط قائم کرنا لازمی امر ہے۔ متعلقہ مسائل پر ان کے ساتھ مشاورت جدوجہد کا ایک اہم حصہ ہے۔ ہر کام میں رضائے الہی کا حصول مقصد ہونا چاہیے۔ تکالیف برداشت کرنے کے بدلے ہماری تمنا صرف عام مسلمانوں کو عزتِ نفس اور راحت پہنچانا ہونی چاہیے۔ کچھ اصول مسلم ہیں۔ فساد برپا کرنے سے کفر اور فتنہ ختم ہوگا اور نہ ہی ظلم کرنے سے انصاف کا معیار قائم ہوگا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ عالمی استعمار کا ظالمانہ نظام ختم کر کے عدل و انصاف پر مبنی نظام قائم کریں تو ضروری ہے کہ ہم خود کو ظلم، بدعنوانی، بدانتظامی اور نا انصافی سے بچائیں۔

آخر میں یہ عرض کروں گا کہ ہماری کامیابی کا راز اسلام کی پیروی اور اسلامی اصول پر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں ہے۔ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’ان الله یرفع بهذا الکتاب اقواما و یضع به آخرین۔‘

بے شک اللہ تعالی اس قرآن پاک سے کچھ قوموں کو سربلند کرتا ہے اور کچھ کو پست (ناکام) کرتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کے زریں اصول پر عمل درآمد یقینی بنانا کامیابی کا معیار ہے۔ مجاہدین کا ہر اقدام شریعت اور فقہ کے اصول کی روشنی میں اُٹھنا چاہیے۔ انفرادی اجتہاد اور افراط و تفریط سے بچنا لازمی ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*