دشمن بوکھلاہٹ کا شکار ہے

آج کی بات

 

امارت اسلامیہ کی قیادت میں افغان عوام کی جہادی تحریک اور مزاحمت کے باعث حملہ آور اور کابل کی کٹھ پتلی حکومت پریشان اور بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ دشمن نے بھرپور کوشش کی کہ مزاحمت کو ختم یا کمزور کر سکے۔ تاہم اللہ تعالی کے فضل و کرم سے جہادی عمل نہ صرف کمزور نہیں کیا جا سکا، بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس میں مزید شدت آئی ہے۔ مجاہدین کی کامیابی کا راز اللہ تعالی کی مدد، مجاہد قوم کی حمایت اور جہادی قیادت کا اخلاص و تدبیر ہے۔

پچھلے سالوں کے مقابلے میں گزشتہ سال مزاحمت میں بہت شدت آئی تھی۔ بہت سے علاقوں سے دشمن کو پسپا کر دیا گیا۔ اب وہاں مکمل امن قائم ہے۔ پچھلے سالوں کی نسبت گزشتہ سال دشمن نے زیادہ بمباری کی، لیکن وہ ایک انچ پیش رفت نہیں کر سکا۔ دشمن نے ہر قسم کے ظلم و جبر کا بازار گرم رکھا، تاہم مجاہدین نے نہایت استقامت کے ساتھ بھرپور مقابلہ کیا۔ گزشتہ دو دنوں کے دوران مجاہدین نے افغانستان بھر میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ جن کے اعداد و شمار درج کرنا مشکل ہے۔ تاہم یہاں کچھ مثالیں پیش خدمت ہیں:

مجاہدین نے صوبہ بادغیس کے ضلع درہ بوم کے علاقے قالی زردک میں دشمن کی چوکیوں پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک چوکی مکمل طور پر فتح اور اس میں موجود 8 اہل کار ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔جب کہ 3 کلاشن کوف، ایک موٹر سائیکل اور بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود بھی غنیمت کیا گیا۔ صوبہ ننگرہار کے ضلع خوگیانی کے علاقے زاویہ میں امریکی حملہ آوروں اور افغان کمانڈوز نے مشترکہ کارروائی کے دوران مجاہدین کے ٹھکانوں پر چھاپہ مارا۔ تاہم مجاہدین نے حکمت عملی کے تحت پہلے ہی اپنے ٹھکانوں میں دھماکہ خیز مواد نصب کر رکھا تھا۔ جب دشمن کے فوجی ان ٹھکانوں میں داخل ہوئے تو ان پر متعدد دھماکے ہوئے، جن کے نتیجے میں متعدد اہل کار ہلاک اور زخمی ہوئے۔

صوبہ فاریاب کے ضلع پشتون کوٹ کے علاقے ’دیکھ توت‘ میں مجاہدین نے کٹھ پتلی فورسز کی چوکیوں پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک چوکی فتح اور اس میں موجود متعدد اہل کار ہلاک اور زخمی ہوئے۔ جب کہ زندہ بچ جانے والے سپاہی فرار ہو گئے۔ قندھار کے ضلع خاکریز میں اسپیشل فورس کے سیکڑوں فوجی ٹینکوں اور فوجی گاڑیوں میں داخل ہوئے۔ وہ پولیس ہیڈکوارٹر سے نکل کر علاقے میں آپریشن کی تیاری کر رہے تھے۔ تاہم مجاہدین نے ان پر حملہ کر دیا۔ بارودی سرنگوں کے ذریعے دشمن کے متعدد ٹینک تباہ ہوگئے۔ جس کے نتیجے میں 35 مزدور فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے، جب کہ دیگر فرار ہوگئے۔

صوبہ تخار کے ضلع چاہ آب کے علاقے یتیم تپہ میں مجاہدین نے دشمن کی چوکیوں پر حملہ کیا۔ یہ کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔ اب تک دشمن کی 4 چوکیاں اور تین بڑے دیہات ’فیض آباد، نوآباد اور قزل بلاق‘ مکمل طور پر فتح ہوچکے ہیں۔ مجاہدین کی پیش قدمی جاری ہے۔ اسی طرح ضلع ینگی قلعہ میں بھی مجاہدین نے دو چوکیاں فتح کی ہیں۔ اس کے علاوہ جرباشی، کلدی اور جلگہ کے تمام علاقوں پر مجاہدین نے اپنا کنٹرول قائم کر لیا ہے۔

اروزگان کے صوبائی دارالحکومت ترین کوٹ کے مضافات ناوہ اور تالانی کے علاقے میں کٹھ پتلی فورسز نے امریکی فضائیہ کے تعاون سے مجاہدین کے مورچوں پر حملہ کیا، تاہم مجاہدین نے اللہ کے فضل سے انہیں منہ توڑ جواب دیا۔ مجاہدین اور فورسز کے درمیان جھڑپوں میں 13 اہل کار قتل، جب کہ 21 زخمی ہوگئے۔ کٹھ پتلی فورسز پسپا ہو گئیں۔ ایک چوکی مجاہدین نے فتح کر لی۔

مجاہدین کو یقین ہے کہ دشمن کو اللہ تعالی مزید ذلیل کرے گا۔ شکست اس کا مقدر ہے۔ وہ ایک دن ضرور یہاں سے بھاگے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*